کیا یہ آڈیو لیکس محض تفریح کا ذریعہ ہی رہیں گی؟


یہ آڈیو لیکس کا معاملہ نیا ہے، نہ تھمنے کا نام لے رہا ہے اور نہ ہی اس کے کوئی خاطر خواہ نتائج سامنے آرہے ہیں۔ آڈیو لیکس کے دو پہلو ہیں ایک تو یہ انسانی کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور دوسرا پہلو اس کا کسی جرم کے خلاف شہادت کے طور پر استعمال ہے اور موجودہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں یہ ایک بہت ہی مضبوط ثبوت کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔

جہاں تک کسی کی پرائیویٹ زندگی میں دخل اندازی کا تعلق ہے تو یہ نہ صرف اسلامی اور اخلاقی نقطہ نظر سے قبیح ہے بلکہ ہمارا آئین و قانون بھی اس بارے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ لیکن جب کسی کی کوئی ایسی وڈیو یا آڈیو لیکس سامنے آ جائیں جن میں کسی جرم کے ارتکاب کے ثبوت مل رہے ہیں تو پھر پرائیویسی دوسرے درجے پر چلی جاتی ہے اور اس معاملے کی تحقیق اور اس کے نتائج بنیادی معاملہ بن جاتے ہیں۔ ہاں اگر اس آڈیو یا وڈیو میں ملوث کردار اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کر دیتے ہیں یا اس وڈیو یا آڈیو کو وہ جعلی ثابت کر دیتے ہیں تو پھر وہ اس بارے تفتیش کا حق بھی محفوظ رکھتے ہیں کہ اس بے بنیاد الزام کے لگانے میں کون کون ملوث ہیں اور اپنی ساکھ کے متاثر ہونے پر ہرجانے کے دعوے کا حق بھی رکھتے ہیں۔

ان آڈیو یا وڈیو لیکس کے بارے جو معاملہ انتہائی قابل افسوس ہے وہ یہ ہے کہ ان کی بنیاد پر کوئی جامع کارروائی عمل میں نہی لائی جا رہی بلکہ اس کو صرف ایک تفریح کا ذریعہ سمجھ لیں یا پھر دوسرا مطلب یہ نکالا جاسکتا ہے کہ ان سے متعلقہ شخصیات کو بلیک میل کر کے اپنے مقاصد کو حاصل کرنا مقصود ہے تاکہ وہ ان سے اپنی مرضی و منشاء کی تکمیل حاصل کر سکیں۔

اس بارے جب وزیر داخلہ سے سوال کیا گیا تو ان کا خیال یہ تھا کہ اس بارے مزید کارروائی یا تفتیش متعلقہ فریق کی درخواست کے بعد ہی آگے بڑھائی جا سکتی ہے۔ جس سے میں مکمل اتفاق نہیں کرتا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی تفتیش یا اس بارے حقائق کو سامنے لانا اس وڈیو یا آڈیو کی آواز والے یا اس سے متاثر ہونے والے کا حق ہے اور قانون اس کو یہ حق دیتا ہے لیکن اگر وہ بعض وجوہات کی بنا پر اپنے اس حق کو استعمال کرنا ضروری نہ سمجھتا ہو یا اس سے اجتناب برت رہا ہو تو اس معاملے کا یہ پہلو بھی قابل غور نقطہ بن جاتا ہے کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے۔

اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ اگر تو اس وڈیو یا آڈیو میں کسی شخص کی ذات سے بڑھ کر کوئی ملکی یا عوامی نوعیت کا معاملہ زیر بحث آ رہا ہو اور اس سے کوئی قومی یا ملکی سطح کا جرم سر زد ہونے کے شواہد مل رہے ہوں تو یہ ملکی یا قومی سطح کا جرم ہونے کا درجہ حاصل کر لیتا ہے اور ایسی صورتحال میں ریاست اور ریاست کے اداروں کی یہ ذمہ داری بن جاتی ہے کہ وہ اس معاملے کی تفتیش کر کے اس کے حقائق کو سامنے لائے اور اس میں ملوث تمام لوگوں کو قانون کے مطابق کارروائی کا حصہ بنایا جائے تاکہ مستقبل کے خطرات کا سدباب اور مجرموں میں احساس خوف پیدا کیا جا سکے۔

اور اگر حکومت یا ریاستی ادارے اس پر بے توجہی برتتے ہیں تو وہ اپنے فرائض منصبی ادا کرنے میں غفلت کے مرتکب ہو رہے ہیں اور مجرموں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔

اسی طرح اگر ان وڈیو یا آڈیو لیکس میں کسی حکومتی عہدہ، ادارے کی سربراہی، یا کسی اور اہم جماعت یا ادارے کے متعلقہ اہم شخصیت بارے کوئی ملوث ہونے کے ابتدائی ثبوت مل رہے ہیں تو ان کو اپنے فرائض سے اس وقت تک سبکدوش ہوجانا چاہیے جب تک ان کی بے گناہی ثابت نہیں ہوجاتی۔ جو کہ نہ صرف اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے بلکہ یہ ایک قانونی اور قومی فریضہ بھی بن جاتا ہے اور اس بارے متعلقہ حکام کو بھی قانونی اور اصولی اقدامات اٹھانے میں کوئی لیل و لعت سے کام نہیں لینا چاہیے۔

جہاں تک اخلاقیات کا تعلق ہے ان وڈیو یا آڈیو لیکس کو سننے کے بعد یہ اندازہ بخوبی ہو سکتا ہے کہ ان شخصیات کی اخلاقی سطح کیا ہے یا ان سے کسی اخلاقی امر کی توقع بھی کی جا سکتی ہے۔ کیونکہ اگر اخلاقیات کے عمل دخل سے اس کا کوئی حل ممکن ہوتا تو اس طرح کے بدعنوانی کے معاملات میں ملوث ہونے کا سوال ہی پیدا کیوں ہوتا یا اگر ان سے کوئی شرم و حیاء کی توقع کی جا سکتی ہوتی تو یہ اتنے شرمناک جرائم میں ملوث ہی کیوں ہوتے۔

اور اگر یہ بے گناہ ہوتے تو اس پر اتنی پر اسرار خاموشی کے پیچھے چھپ کر کیوں بیٹھتے۔ کوئی تردید یا اپنی بے گناہی میں زبان کشائی ہی کرتے۔ موجودہ زیادہ تر آڈیو اور وڈیو لیکس میں تو ایسے کرداروں کے ملوث ہونے کے ثبوت مل رہے ہیں جن کے بارے ہر طرف سے تصدیقی واقعات بھی گواہی دے رہے ہیں اور وہ ایک عادی مجرم کی علامت کے طور پر ابھر رہے ہیں۔

ایسے لوگوں بارے تو کوئی جامع حکمت عملی اور طریقہ کار وضع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایسے عناصر سے معاشرے کو پاک کیا جا سکے۔ حکومتی سطح پر کوئی ایسا قدم اٹھانے کی ضرورت ہے کہ ایسے لوگوں کے بارے تفتیش اور تحقیقات کو یقینی بنایا جا سکے۔ اور جوابدہی کا بھی کوئی موثر نظام ہونا چاہیے تاکہ ان لوگوں کے اندر احساس خوف یا ذمہ داری پیدا کیا جا سکے۔

کم از کم حکومت کو پاکستان کی تاریخ کی ایسی کالی بھیڑوں کی ایک لسٹ تو شائع کرنی چاہیے کہ جن پر سنگین نوعیت کے جرائم کے الزامات آئے اور انہوں نے اپنے آپ کو تفتیش اور تحقیق سے بچانے کی کوشش کی یا آج تک ان کے خلاف کوئی تحقیق نہیں کی جا سکی۔ حکومت کو چاہیے ایک قومی ہاؤس آف فیم بنا کر اس میں ایسے لوگوں کے نام آویزاں کر دے تاکہ ایسے خاندانوں سے نہ صرف قوم ہوشیار رہے بلکہ ان کے خاندانوں میں سے بھی کسی کو اہم ذمہ داریاں دینے سے پہلے ان بارے جانچ پڑتال کا سخت طریقہ کار ہونا چاہیے چہ جائے کہ ان کی پردہ پوشی سے ان کی مزید حوصلہ افزائی کی جاتی رہے اور یہ ایک مافیا کے طور پر نسل در نسل اس ملک و قوم کو اپنے اثر و رسوخ اور گٹھ جوڑ کی بنیاد پر لوٹتے رہیں۔

آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی اس طرح کے بدعنوانی میں ملوث الزامات اور ثبوتوں کے با وجود بھی تحقیقات کا کوئی نظام یا طریقہ کار کا نہ ہونا ایک قومی نا اہلی، غفلت اور رسوائی نہیں تو کیا ہے۔ ہماری حکومت اور پارلیمان اپنے عوامی مینڈیٹ اور بالا دستی کے حق کا دعویٰ تو کرتی ہے مگر عوام اور ملک و قوم کے حقوق اور اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے سے غفلت پر جوابدہی کے عمل سے بھاگتی ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ بلا تفریق ہر کسی کے لئے خواہ کسی بھی عہدہ، شعبہ یا ادارے سے تعلق ہو، سب کے لئے ایک جیسا، شفاف، غیر جانبدارانہ اور برابری کی بنیاد پر احتساب کا نظام متعارف کروائے اور کسی کو بھی اس سے استثنا حاصل نہ ہو اور اس بارے ایک علیحدہ سے خود مختار ادارہ ہونا چاہیے جس میں تعیناتی کا معیار اس کا عہدہ، الحاق یا حوالہ جات نہ ہوں بلکہ ان کی اخلاقی اور پیشہ ورانہ کارکردگی ہو۔

Facebook Comments HS