ڈاکٹر خالد سہیل: انسانوں کا مشیر، انسانیت کا سفیر


ایک ماہر نفسیات اور انسان دوست شخص کی کہانی جس نے اپنی زندگی انسانوں کی نفسیاتی و سماجی بھلائی کے لئے وقف کردی۔

اندازہ ہی نہیں ہوا کب ڈاکٹر خالد سہیل سے رابطہ ہوا، تعلق بنا اور ایک رشتہ قائم ہو گیا۔ ان سے ایک ایسا ادبی، علمی اور تخلیقی رشتہ مضبوط ہوا کہ یہ یقین مزید پختہ ہو گیا کہ زندگی میں خون کے رشتے نہیں بلکہ خلوص پر مبنی رشتے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔ جس میں رنگ، نسل، زبان، عمر، مذہب اور سرحد و وقت کی قید نہیں ہوتی، بلکہ انسانیت بنیادی اور باہمی قدر ہوتی ہے۔

ڈاکٹر خالد سہیل ایک نامور ماہر نفسیات تو ہیں ہی لیکن وہ ایک بہترین مصنف بھی ہیں بلکہ ان سب سے بڑھ کر وہ ایک علم دوست اور انسان دوست شخص ہیں جو انسانیت پر یقین رکھتے ہیں اور اپنی تخلیقی اور پروفیشنل صلاحیتوں سے لوگوں کی زندگی میں آسانیاں پیدا کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر خالد سہیل کا جہاں زندگی، دنیا اور ادب کا مطالعہ بہت وسیع ہے وہیں ان کا حلقہ احباب بھی بڑا شاندار اور منفرد ہے بلکہ بہت ورسٹائل ہے۔ ڈاکٹر خالد سہیل سے میرا لگاؤ اب عشق کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ وہ میری زندگی میں ایسے سایہ دار شجر کی مانند ہیں کہ جب مجھے زندگی کی سختیاں اور دھوپ بہت پریشان کرنے لگتی ہیں تو میں ان کے سائے میں پناہ لے لیتا ہوں۔ وہ مجھے ہمیشہ انسپائر کرتے ہیں اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو سامنے لانے کے لئے متحرک کرتے ہیں۔

آج کے اس آرٹیکل میں ڈاکٹر خالد سہیل کی زندگی کے چند پہلوؤں، ادبی سفر اور نفسیات کے حوالے سے خدمات پر روشنی ڈالیں گے۔ وہ اپنی ادبی تخلیقات کو دکھی انسانیت کے نام اپنے محبت نامے قرار دیتے ہیں۔ آئیے ان کی زندگی پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم:

9جولائی 1952 کو کراچی میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر خالد سہیل کو اپنے والدین سے دو مختلف رویے وراثت میں ملے۔ ان کی پرورش پشاور اور کوہاٹ میں ہوئی۔ ان کی والدہ عائشہ قاسم ایک حقیقت پسند خاتون تھیں جبکہ والد عبدالباسط ایک مثالیت پسند انسان تھے۔ ان کی شخصیت دونوں رویوں کا امتزاج ہے۔ اس وقت پش اور اور صوبہ سرحد جیسے روایتی ماحول اور قدامت پسند معاشرے کے باوجود ان کی شخصیت میں تخلیقی اور جدت پسند عناصر شامل رہے۔ ان کی والدہ کی شدید خواہش تھی کہ وہ ڈاکٹر بنیں جبکہ وہ شاعر اور فلاسفر بننا چاہتے ہیں۔ والدہ کا خواب اور اپنی خواہش انہوں نے ماہر نفسیات بن کر پوری کی۔

انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم سینٹ جوزف کانونٹ سکول، کوہاٹ اور میٹرک آر اے بازار ہائی سکول، پشاور سے کیا۔ ایڈورڈ کالج سے ایف ایس سی اور خیبر میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں دو سال ہاؤس جاب کی۔ 1976 سے 1977 تک ایران میں قیام پذیر رہے اور 1977 کو کینیڈا چلے گئے جہاں چار سالہ نفسیات کی ڈگری حاصل کی اور 1982 میں فیلو آف رائل کالج بنے۔ بعد ازاں ٹورنٹو کے قریب شہر میں 1984 سے 1994 تک ایک مقامی ہسپتال میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔ 1995 کو باقاعدہ اپنا کلینک شروع کیا۔ 2000 سے لے کر 2022 تک وہ گرین زون تھیراپی پر اپنی ساتھی نرسز کے ساتھ مل 6 کتابیں انگریزی میں لکھ چکے ہیں۔ جواب اردو میں ترجمہ ہو پا رہی ہیں۔ جام شورو یونیورسٹی کی ڈاکٹر عارفہ بھٹو کے ساتھ مل کر وہ گرین زون ایپ بنا رہے ہیں جو تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔

ادبی خدمات:

ڈاکٹر خالد سہیل نے 1986 سے لکھنا اور شائع ہو نا شروع کیا اور ہر سال ایک انگریزی اور ایک اردو کی کتاب باقاعدہ پلاننگ کے ساتھ شائع کرتے ہیں۔ اب تک وہ گزشتہ 35 سالوں میں 70 کتابیں شائع کر چکے ہیں۔ جو ایک بہترین منصوبہ سازی، اپنے کام سے لگن اور محنت کی شاندار مثال ہے۔ ان کتابوں میں شاعری، افسانے، ناولز، کالمز، انٹرویوز، تراجم، تنقیدی مضمون اور نفسیات کے موضوعات شامل ہیں۔ ان کے افسانوں پر جواہر لال نہرؤ یونیورسٹی، دہلی میں شبانہ خاتون اور پاکستان میں سیدہ عمیرہ حسن نے ایم فل کے مقالے لکھے ہیں۔

ان کا ایک انگریزی افسانہ ”جریزہ“ کینیڈا کی معروف کتاب ”گلوبل سفاری“ میں شامل ہے۔ جو کسی بھی پاکستانی کے لئے ایک اعزاز سے کم نہیں ہے۔ ڈاکٹر خالد سہیل نے بلند اقبال کے مل کر ”دانائی کی تلاش“ کے عنوان سے یوٹیوب پر ویڈیو سیریز کا آغاز کیا جس میں اب تک ادب، نفسیات اور فلسفے کے بڑے ناموں کے کارنامے پر مشتمل 72 اقساط اپ لوڈ ہو چکی ہیں۔ جن کو عبدالستار نے ”دانائی کا سفر“ کے نام سے کتابی شکل دی ہے۔

خطوط نویسی کی بحالی:

ڈاکٹر خالد سہیل کو بلاشبہ اس بات کا کریڈٹ دینا چاہیے کہ انہوں نے خطوط نویسی کو ازسر نو بحال کیا جو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی وجہ سے ناپیدا ہو گئی تھی۔ بلکہ انہوں نے اس صنف کو دوبارہ زندہ کیا ہے۔ انہوں نے مختلف ادیبوں کے ساتھ خطوں پر مبنی 10 کتابیں شائع کیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے اس سے قبل اردو ادب میں غالب کے خطوط مشہور تھے لیکن وہ یک طرفہ خطوط تھے۔ انہوں نے کوشش کی ہے یہ خطوط دو طرفہ ہوں جس میں اپنے ہم عصر اور نوجوان ادیبوں کے مل کر ادب، نفسیات اور علم پر کام کیا جائے۔

وہ اب تک معروف ویب سائٹ ”ہم سب“ پر 600 آرٹیکل لکھ چکے ہیں۔ جہاں اب نوجوان ادیب اور لکھاری ان کو معاشرتی، نفسیاتی اور ادبی موضوعات پر خط لکھتے ہیں جسے کے جواب میں وہ خط لکھتے ہیں جو کالم کی صورت میں شائع ہوتا ہے۔ اس سے دو ادیبوں کے درمیان باہمی اشتراک ہو تا ہے اور خط کی صنف بھی بحال رہتی ہے اور قارئین کو دو لوگوں کی رائے جاننے کا موقع ملتا ہے۔

ایوارڈز اور اعزازت:

میں نے ڈاکٹر خالد سہیل سے اس انٹرویو کی تکمیل کے لئے یہ سوال پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ویسے تو انہیں چھوٹے، بڑے کئی ایوارڈز مل چکے ہیں لیکن سب سے اہم اور بڑا ایوارڈز لوگوں کی جانب سے پذیرائی اور حوصلہ افزائی ہے۔ جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کینیڈا میں انہیں ”ہیومنسٹ آف دی ائر“ کا ایوارڈ دیا گیا اور ان کی چالیس سالہ خدمات کے اعزاز میں رائل کالج نے ایک خصوصی مراسلہ بھیجا جو ان کے لئے انتہائی خوش گوار لمحات تھے۔

ڈاکٹر خالد سہیل کی زندگی ایک فلمی کہانی کی طرح لگتی ہے۔ وہ اپنی زندگی کی مشکلات اور منفی تجربات کو ایسے بیان کرتے ہیں جسے کسی چھوٹے بچے کو سونے کے لئے کہانی سنا رہے ہوں۔ ان کی تحریریں پڑھ کر بھی ایسے ہی محسوس ہوتا ہے جسے وہ قارئین کو سکون اور راحت دینے کے لئے کہانی سنا رہے ہوں۔ ان کی کتابوں کا ہر باب اور مضمون انتہائی دلچسپ، پر کشش اور معنی خیز ہوتا ہے۔ یہ ڈاکٹر خالد سہیل کے مطالعہ، پیشہ ورانہ مشاہدات، براہ راست زندگی کے تجربات اور عملی مہارت کا نچوڑ ہے۔

ڈاکٹر خالد سہیل ہارڈ ورک نہیں ”ہارٹ ورک“ کی بہترین مثال ہیں جنہوں نے وہ کام کیے جو ان کے دل کے قریب تھے اس لئے وہ ایک زندگی میں ایک ادارے جتنا کام تنہا کرچکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ”مجھے اپنے پیشے سے بے پناہ محبت ہے۔ میں اپنے کام میں اتنا آرام اور اتنی خوشی محسوس کرتا ہوں کہ مجھے یوں لگتا ہے جیسے میں نے اپنی زندگی میں ایک دن بھی کام نہ کیا ہو۔“

مجھے ان کی یہ عادت بہت متاثر کن لگتی ہے کہ وہ ہمیشہ نئے لکھنے والوں کی تحریریں پڑھتے ہیں اور ان پر کمنٹ کر کے حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

ان کے اندر انسانیت کی خدمت کا جذبہ قابل ذکر ہے۔ وہ مذہب، ملک، سرحد، زبان اور نسل سے بلند ہو کر سوچتے ہیں۔ پاکستان سے باہر ہو کر بھی ان کا دل پاکستانی معاشرے کی بہتری کے لئے دھڑکتا ہے۔ وہ پاکستانی معاشرے میں نفسیات اور ذہنی صحت کے حوالے سے شعور اور آگہی کے لئے ہمیشہ کو شاں رہتے ہیں اور اردو زبان میں اپنی تحریروں کے ذریعے اس خلا کو پورا کرنے کی جستجو میں رہتے ہیں۔

ڈاکٹر خالد سہیل وسیع مطالعہ اور وسیع قلب و ذہن کے بھی مالک ہیں وہ ہمیشہ دوسروں کی رائے کا احترام کرتے ہیں اور دوسروں سے سیکھنے کی تلاش میں رہتے ہیں۔ انہوں نے انسانی نفسیات، اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے براہ راست تجربات، مشاہدات، فلسفیوں، دانشوروں کی تعلیمات کو صحت مند، خوش حال اور پر سکون زندگی بسر کرنے کے لئے جدید سوشل میڈیا ٹولز کا بھی عمدہ استعمال کیا جو ان کے جواں ہمت اور عزم کی علامت ہے۔ وہ گرین زون فلاسفی کے بانی بھی ہیں اور اس ضمن میں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں لیکچر دیتے ہیں۔

مجھے ان کے پاکستان میں چند زوم سیشن میں شرکت کا موقع ملا ہے جو انتہائی سادہ، عام فہم اور موثر ہوتے ہیں۔ میری دانست میں ڈاکٹر خالد سہیل نفسیات کے موضوع کو اردو ادب اور تحریری میدان میں اجاگر کرنے والد جدید مفکرین میں سرفہرست ہیں۔ اس بات کا اندازہ ان کی تحریریں اور اس پر قارئین کی رائے سے بخوبی لگا یا جا سکتا ہے۔ ان کی حال میں شائع ہونے والی کتاب ”انسانی نفسیات کے راز“ چند ہفتوں میں فروخت ہو چکی تھی۔

ڈاکٹر خالد سہیل کا کہنا ہے کہ پاکستانی معاشرہ ابھی ارتقائی مراحل میں ہے۔ ذہنی صحت اور نفسیات کی تعلیم اور آگہی کے لئے لوگوں کو مزید شعور دینے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں اسکول، اساتذہ، بچوں، والدین اور کارپوریٹ سیکٹر کو نفسیات کی تعلیم اور معلومات دینے کی ضرورت ہے۔ میں نے سوال کیا کہ آپ مغرب میں رہتے ہیں اور آپ کا تعلق مشرق سے ہے، مغرب اور مشرق کے ادیب اور ادب میں خاص کیا فرق ہے؟ جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس کے تین بنیادی پہلوؤں ہیں۔ کوئی بھی ادیب اس وقت تک تخلیقی ادب تخلیق نہیں کر سکتا جب تک وہ اپنے معاشرتی اور سماجی دباؤ سے آزاد نہ ہو۔ دوسرا ادیب معاشی دباؤ پابندیوں سے آزاد نہ ہو اور تیسرا اپنے معاشرے، روایت، زبان، مذہب، نسل، رنگ اور خطے سے بالا تر ہو کر نہ سوچے۔

ڈاکٹر خالد سہیل اپنی زندگی کا ایک خو بصورت واقعہ بتاتے ہیں۔

”جب میں ایڈورڈز کالج پشاور میں پڑھا کرتا تھا ان دنوں ہمارے پرنسپل آسٹریلیا کے استاد فل ایڈمنڈز تھے۔ ایک دن وہ ہمیں پڑھانے آئے تو بہت خوش دکھائی دے رہے تھے۔ ہم نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ کل میرا بیٹا انگلینڈ سے سائنس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لے کر لوٹا ہے میں اس لئے خوش ہوں۔ ایک طالب علم نے پوچھا ’سر! کیا اب آپ اس کے لئے دلہن تلاش کریں گے؟ فل ایڈمنڈز کے بزرگ چہرے پر مشفقانہ مسکراہٹ پھیل گئی پھر وہ کہنے لگے۔

‘ میرا بیٹا اپنے لئے خود ہی دلہن تلاش کر لے گا اور اگر وہ اپنے لئے شریک حیات تلاش نہیں کر سکتا تو اس کا مطلب ہے وہ شادی کے لئے تیار نہیں ہے۔ ’ڈاکٹر خالد سہیل کہتے ہیں کہ جو والدین اپنے کو ان بچوں کو اپنے فیصلے خود کرنا سکھا دیتے ہیں وہ جیتے جی بے فکر ہو جاتے ہیں لیکن جن والدین کے بچے دانشمندانہ فیصلے نہیں کر سکتے وہ ساری عمر یہی سوچتے رہتے ہیں کہ ہمارے مرنے کے بعد ان جوان بچوں کا کیا ہو گا؟

ڈاکٹر خالد سہیل کہتے ہیں کہ ”میرا یقین ہے کہ فطرت نے ہمیں ایک خاص تحفہ Creative Gift دیا ہے اور اس تحفے کی آگہی ہماری صحت، ہمارے ذہنی سکون اور ہماری زندگی میں کامیابی کا راز ہے۔ اسی لئے میں نے اپنے کینیڈا میں کلینک کا نام“ کری ایٹیو سائیکو تھراپی ”رکھا ہے۔“ میں سمجھتا ہوں کسی اچھے ادیب کے پاس ایک زرخیز دماغ ہونا بڑی نعمت ہے، لیکن ڈاکٹر خالد سہیل کو قدرت نے زرخیز دماغ اور بہترین دل دے کر انسانیت کو بہترین تحفہ دیا ہے۔

Facebook Comments HS