یوم مئی: بوجھ کاندھوں سے کم کرو صاحب دن منانے سے کچھ نہیں ہوتا


کسی شاعر نے اپنے الفاظ میں ایک مزدور کی بے بسی کی کیا خوب تصویر کشی کی ہے یکم مئی کا پہلا دن ہر سال مزدوروں کے نام کیا جاتا ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس دن بھی بے چارہ مزدور روزی روٹی کے چکر میں سارا دن ہاتھ پاؤں مارتا ہے کہ کسی طرح اتنی مزدوری بن جائے کہ وہ اپنے گھر کا چولہا جلا سکے۔

یوم مئی دراصل وہ دن ہے جس سے امریکی کارکنوں کو ان کا پہلا اسٹاپ پیج مل گیا تھا اور یہی وجہ تھی کہ شکاگو میں 1886 کے ’ہے مارکیٹ‘ کے معاملے کی یاد میں یکم مئی کو مزدوروں کے عالمی دن کے لئے منتخب کیا گیا اور یکم مئی سے شروع ہونے والے اس سال میں آٹھ گھنٹے کام کے دن کے لئے عام ہڑتال تھی۔

روایتی طور پر یکم مئی یورپی بہار کے تہوار کی تاریخ ہے۔ 1889 میں سوشلسٹ گروپوں اور ٹریڈ یونینوں کی ایک بین الاقوامی فیڈریشن نے شکاگو میں ’ہے مارکیٹ 1886‘ کی یاد میں یکم مئی کو مزدوروں کی حمایت میں ایک دن کے طور پر نامزد کیا، پانچ سال بعد امریکی پریس گروور کلیولینڈورکرز نے یوم مزدور کے دن کو منانے کو لئے قانون سازی پر دستخط کیے ۔ جو کہ پہلے ہی ستمبر کے پہلے پیر کو کچھ ریاستوں میں منایا جاتا تھا یعنی مزدوروں کے اعزاز میں امریکی سرکاری چھٹی اور کینیڈا نے کچھ عرصے بعد اس کی پیروی کی۔

"ہے مارکیٹ فساد 1886” دراصل ہے کیا؟

مئی 1886 میں چار لاکھ ورکرز نے امریکہ کے مختلف حصوں میں ہڑتال شروع کی اور ان سب کی ایک ہی ڈیمانڈ تھی کہ آٹھ گھنٹوں کے کام کا دورانیہ رکھا جائے یہ ہڑتال بہت پر امن طریقے سے شروع ہوئی تھی لیکن تیسرے دن شکاگو میں کچھ تشدد کے واقعات رونما ہوئے پولیس نے غیر مسلح کارکنوں پر فائرنگ کی جس سے متعدد افراد ہلاک ہوئے اگلے دن مزید مظاہرے ہوئے جس میں کسی نے بم پھینک دیا جس کے پھٹنے کے سبب اور پولیس کی فائرنگ سے سات پولیس افسران اور چار کارکن مارے گئے۔

آٹھ کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ان میں سے سات کو سزائے موت سنائی گئی اور ایک کو پندرہ سال کے لئے جیل بھیج دیا گیا تھا۔ بہت سے لوگوں کو یقین نہیں تھا کہ وہ مزدور قصوروار تھے اور مقدمے کے غیر منصفانہ ہونے پر تنقید کی گئی۔ یہ مظاہرہ مزدوروں کے لئے جدوجہد کی ایک بین الاقوامی علامت بن گیا اور یکم مئی کو ’مزدوروں کے عالمی دن‘ کے لئے منتخب کر لیا گیا۔ اس دن سوشلسٹ پارٹیوں اور ٹریڈ یونینز نے مزدوروں سے آٹھ گھنٹے کے دن اور پر امن احتجاج کے حق میں مظاہرے کرنے کی اپیل کی اس طرح 1892 میں امریکہ میں عوامی کارکنوں کے لئے قانون بن گیا اور پھر پوری دنیا میں محنت کشوں کی تحریکیں اس حق کے لئے لڑنے اور جیتنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

دنیا بھر کے مختلف ممالک میں اس دن کو مختلف طریقوں سے منایا جاتا ہے جن میں جشن اور مظاہرے ہوتے ہیں جنوبی افریقہ، تیونس، تنزانیہ، زمبابوے اور چین جیسے ممالک میں یکم مئی کو عام تعطیل ہوتی ہے جبکہ فرانس، یونان، جاپان، پاکستان، برطانیہ اور امریکہ سمیت کئی ممالک میں مزدوروں کے عالمی دن پر اجلاس اور مظاہرے کیے جاتے ہیں۔

یوم مزدور محنت کش لوگوں کے لئے اپنے معمول کی مشقت سے آرام کا دن ہے یہ دراصل مزدوروں کے حقوق کے لئے مہم چلانے، دوسرے محنت کشوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور پوری دنیا میں محنت کشوں کی کامیابیوں کو منانے کا موقع ہے۔

لیکن کیا ہم سب محنت کشوں کے بارے میں کچھ سوچتے بھی ہیں یا بڑے بڑے کمروں میں سیمینار کے نام پر صرف زبانی تقریریں کرتے ہیں اور پھر ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر واپس آ جاتے ہیں۔ کیونکہ اس دن کسی میکینک، آٹو میکینک، خوانچہ فروش اور اسی طرح بہت سے مزدور عالمی دن نہیں منا رہے ہوتے بلکہ وہ اپنے خاندان کے لئے رزق کی خاطر سرگرداں پھر رہے ہوتے ہیں وجہ صرف ایک ہے کہ آج بھی ہم ترقی یافتہ ملکوں کی طرح دن تو مناتے ہیں پر ان کی طرح اپنی عوام کی خدمت نہیں کرتے۔ ذرا سوچیں

جس کے نام پہ چھٹی ہوگی خود وہ کام پہ جائے گا
میرے وطن میں مزدوروں کا دن منایا جائے گا

Facebook Comments HS