واٹس ایپ وار

دشنام طرازی، ہاتھا پائی اور لڑائی جہاں بدمزگی، آزردگی اور عداوت کا باعث بنتی ہے، وہاں تہذیبی حسن اور ثقافتی خوبصورتی کی علامت بھی ہے۔ ہر علاقے کی دشنام دہی اور گتھم گتھا ہونے کی اپنی ایک ثقافت ہوتی ہے۔ کسی علاقے میں بات آپ سے تم تک پہنچ کر ختم ہو جاتی ہے، تو کہیں فحش کلامی سے ”چھڈویں جتی“ تک کا سفر ایک لمحہ میں طے ہو جاتا ہے۔ کہیں ڈنڈے سوٹے چل جاتے ہیں تو کہیں پستول کی گولی کو کام میں لایا جاتا ہے۔
دنیا جیسے جیسے ارتقائی منازل طے کر رہی ہے ویسے ویسے لڑائی کے رجحانات، معیارات اور طریقوں میں جدت آتی جا رہی ہے۔ دنیا میٹاورس کی جانب بڑھ رہی ہے تو لڑائی گلی محلے سے واٹس ایپ تک کا سفر کر چکی ہے۔ چند سال قبل گلی محلے میں لڑائی کی صورت میں لوگ اپنے حمایتوں کو بندے بھیجنے اور اسلحہ سپلائی کرنے کی درخواست کرتے تھے۔ حامی معاملہ کا بغور جائزہ لیتے۔ اگر بات ہاتھا پائی تک کی ہوتی تو ڈنڈے، ورنہ گولیاں اور پستول وغیرہ بھیجے جاتے۔
مگر اس دور جدید میں ہاتھا پائی ہو یا لڑائی دونوں کے معیار اور طریقے بدل چکے ہیں۔ اب ہاتھا پائی واٹس ایپ چیٹ کا روپ دھار چکی ہے۔ واٹس ایپ چیٹ پر ہونے والی ہاتھا پائی کے لیے حمایتوں سے سامان رسد کے طور پر مخالفانہ سٹیٹس لگانے کی درخواست کی جاتی ہے اور اگر بات آگے بڑھ کر لڑائی کا روپ دھار لے تو نتیجہ ”بلاک کرنا“ کی صورت نکلتا ہے۔ اگر اس سے بھی غصہ کی شدت میں کمی نہ آئے تو فیس بک پر سے ان فرینڈ کرنا، ٹویٹر اور انسٹاگرام سے ان فالو کرنا بعد کے اقدامات ہیں۔
جہاں لڑائی اور ہاتھا پائی کے بدلتے معیارات کے کچھ نقصانات ہیں، وہاں فوائد بھی ہیں۔ سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ گلی میں ہونے والی لڑائی سے جہاں ہمسایہ لوگوں کی کھڑکیوں کے کانچ اور کریانہ سٹور کی شیشے کی بوتلیں ٹوٹ جاتی تھیں، وہاں اب ہو کا عالم ہوتا ہے اور اور ہر شیشہ سالم رہتا ہے۔ دوسرا فائدہ اس خاموشی کی صورت ہے، جسے اوپر میں نے ”ہو کا عالم“ کا نام دیا۔ وہ عاشق، فقیر، درویش اور فلسفی جو دنیا سے کنارہ کیے گوشۂ نشیں تھے اور شور شرابا کی وجہ سے دھیان نہیں لگا پاتے تھے، اب دھیان لگائیں یا غرق سخن ہوں ان کے مراقبہ میں کسی قسم کی دخل اندازی نہیں ہوتی۔
نقصانات کی فہرست خاصی طویل ہے۔ میرے اعداد و شمار کے مطابق لڑائی کے بدلتے معیارات کی وجہ سے سب سے بڑا نقصان ہمارے محلے کے چاچا شیدے کو ہوا ہے۔ چاچا شیدا محلے میں ”ٹوئی لانا“ کے نام سے مشہور ہے۔ ہاتھا پائی کو لڑائی میں بدلنے کا ہنر اس سے کم ہی کسی کو آتا ہو گا۔ ادھر آواز بلند ہوئی ادھر چاچا شیدا آ دھمکا۔ ایک کے ہاتھ میں ڈنڈا پکڑا کر، دوسرے کو پستول نکالنے کا مشورہ دیتا، باہر نکلا اور پولیس کو کال پر بتاتے ہوئے کہ ادھر محلہ میں لڑائی ہو گئی ہے، رفو چکر ہو گیا۔ گھمسان کا رن پڑا، پولیس آئی، معاملہ ہسپتال سے ہوتا ہوا عدالت تک جا پہنچا۔ مگر جب سے لڑائی واٹس ایپ پر منتقل ہوئی ہے، وہ اپنا ہنر استعمال کرنے سے قاصر ہے اور گلیوں میں باؤلا باؤلا پھرتا ہے۔
دوسرا نقصان اس ثقافتی حسن کو ہوا ہے جو لڑائی اور ہاتھا پائی کے طریقوں پر مبنی اپنے علاقے کی پہچان ہوا کرتا تھا۔ پہلے بات ہوتی تھی کہ فلاں علاقہ کے لوگ بڑے لڑاکا ہیں، فلاں علاقہ کے لوگوں میں شائستگی ہے۔ مگر اب بات ہوتی ہے کہ فلاں علاقہ کے لوگ ٹک ٹاک پر بڑے وائرل ہیں اور اس علاقہ کا فلاں شخص انسٹاگرام پر ایک ملین فالورز رکھتا ہے۔
معیارات کے بدلاؤ کا سنگین اور شدید نقصان آج کے نوجوان کو ہوا ہے۔ آج کا نوجوان سوشل میڈیا پر ہر وقت بولتا نظر آتا ہے، مگر اس کی اندرونی دنیا خاموش اور تنہا ہے۔
مستقل بولتا ہی رہتا ہوں
کتنا خاموش ہوں میں اندر سے
وہ کسی ایسے دوست کی تلاش میں ہے جو اس کے پاس آئے اور ہاتھ پکڑ کر پوچھے، تمہارا کیا حال ہے؟ مگر کف افسوس ملنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اب مسلسل ایک ہی مصرع گنگناتا رہتا ہے کہ:
کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا
پہلے جب لڑائی ہوتی تھی تو زخم جسم پر آتا تھا۔ چند دنوں میں زخم بھر جاتا اور دشمنی دوستی میں بدل جاتی۔ مگر واٹس ایپ یا دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ہونے والی لڑائی میں روحانی اور ذہنی (سائیکالوجکل) زخم آتا ہے۔ یہ ایسا زخم جسے مندمل ہونے میں صدیاں درکار ہیں۔
دنیا جتنی تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہی ہے، اب کوئی ایسی امید بھی باقی نہیں رہی کہ معیارات کا رخ پیچھے کی جانب ہو جائے گا اور محلہ میں وہی گالم گلوچ، وہی دشنام دہی اور وہی ہاتھا پائی لوٹ آئے گی۔
کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی

