یکم مئی مزدوروں سے یک جہتی کا دن
امریکہ کے شہر شکاگو مئی 1886 ء میں، حے مارکیٹ میں مزدوروں کے خلاف ایک پرتشدد واقع ظہور پذیر ہوا۔ جس کی مناسبت سے مزدوروں کی یونین نے 4 مئی 1889 ء کا دن ان مزدوروں کی یک جہتی میں منانے کا فیصلہ کیا اور تا حال اب تک تمام ممالک میں مزدوروں کا یہ دن ان کی یک جہتی میں منایا جاتا ہے۔ یہ دن پولیس اور مزدوروں کے درمیان واقع تصادم کی صورت میں پر تشدد بن گیا اور پولیس نے مزدوروں پر تشدد کیا اور پھر یہی واقعہ ان کی تحریک کا استعارہ بن گیا جسے دنیا میں یکم مئی کے طور منایا جاتا ہے۔
یہ مزدور پولیس کے پر تشدد رویے پر احتجاج کرنے کے لئے حے مارکیٹ میں جمع تھے جہاں ان کے اور پولیس کے درمیان تصادم ظہور پذیر ہوا جس کے نتیجے میں مزدوروں اور پولیس کو ہلاکتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ کئی زخمی بھی ہوئے۔ اس پر تشدد معرکے کے نتیجے میں کئی مزدور راہنماؤں کو قتل کے الزام میں سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا، جن میں چار رہنماؤں بشمول ایک جاسوسی کرنے والے کو سزائے موت دے دی گئی۔
ایک نے خودکشی کر لی جبکہ تین کو شکاگو کی حکومت نے معاف کر دیا۔ حکومت کی نظر میں مزدوروں کے رہنما انکار کی پھیلانا چاہتے تھے اور یہ سوشلسٹ تحریک کا حصہ تھے جو سرمایہ دارانہ نظام کو تباہ و برباد کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ اسی لئے بعد میں یورپ کے کئی ممالک نے یکم مئی کا دن چھٹی میں تبدیل کر دیا تاکہ اس کی اصل روح کو اس سے نکال دیا جائے۔ جس کی مثال جرمنی کی حکومت کا مئی کو سرکاری تعطیل کا اعلان تھا۔
یورپ کے دیہاتوں میں یکم مئی پیگن کے تہوار کے طور پر منایا جاتا تھا۔ لیکن بعد میں مزدوروں سے یک جہتی کے طور پر اس دن کو لیبر ڈے منایا جانے لگا۔ مغربی ممالک کا یہ خیال تھا اس طرح وہ ایک تیر سے دو شکار کر لیں گے۔ ایک تو وہ مزدوروں کی ہمدردیاں سمیٹ لیں گے اور دوسری طرف امریکہ کی خوشنودی اور سرمایہ دارانہ نظام کے ساتھ اپنی یک جہتی کا مظاہرہ بھی کر لیں گے۔ امریکہ اور کینیڈا میں مزدوروں کے ساتھ یک جہتی ستمبر کے پہلے سوموار کے دن لیبر ڈے کے طور منایا جاتا ہے ۔
مزدوروں کا استحصال ایک معمولی بات تھی ان سے سولہ سولہ گھنٹے کی شفٹ میں کام لیا جاتا، ان کے آرام و آسائش کا بالکل خیال نہیں رکھا جاتا تھا اور نہ ہی کام والی جگہوں میں صفائی کا کوئی مناسب بندوبست ہوا کرتا تھا۔ مزدور اپنے کام کی آٹھ گھنٹے کی شفٹ بارے احتجاج کر رہے تھے کہ یہ افسوسناک واقعہ وقوع پذیر ہوا۔ اس کی اصل وجہ ایک تو ٹیکنالوجی کا متعارف ہونا اور دوسرا اس سے قبل کساد بازاری نے آجروں کی تو چاندی کر دی تھی لیکن مزدور طبقہ پستے چلا گیا۔
یکم مئی کو مزدوروں اور سوشلسٹ تنظیموں نے اکٹھے ہو مل کر کچھ دنوں کے لئے احتجاج کرنے کا ارادہ کیا لیکن مسلح پولیس کے ظالمانہ رویے نے اس پرامن ماحول کو پرتشدد بنا دیا۔ اسی دوران بم پھٹنے کا ایک واقعہ بھی ہوا لیکن مصدقہ اطلاعات نہ تھیں کہ کیا یہ مزدوروں کی جانب سے پولیس کی طرف کسی نے پھینکا یا پولیس کی طرف سے کسی نے مزدوروں کی جانب پھینکا۔ اس نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور مزید یہ کہ اس بارے کوئی بھی مصدقہ شہادت مہیا نہیں کی گئی۔ جب مزدوروں کی تحریک نے زور پکڑا تو امریکی صدر گروور کلیولینڈ نے مئی 1886 ء کے اصل واقعہ کے پانچ سال بعد اپنے دستخطوں سے مزدوروں کی باقاعدہ تعطیل کا دن منانے کا قانون نافذ کر دیا۔
یکم مئی کو مزدوروں سے یک جہتی کا دن دنیا بھر میں ہر سال منایا جاتا ہے۔ یہ دن ان کے حقوق اور مواقع، ان کی فلاح و بہبود اور ایک اچھے مستقبل پر عمل پیرا ہونے کا درس دیتا ہے۔ آج بھی مزدوروں کا استحصال اسی طرح ہو رہا ہے لیکن حربے تبدیل ہو گئے ہیں۔ موجودہ دور میں مغربی معاشرے میں ہفتہ اتوار کی تعطیل کے ساتھ سوموار کو ملا کر یہ دن منایا جاتا ہے ۔ اس دن لوگ عموماً آرام و تفریح، گھروں میں بار بی کیو یا سیر و سپاٹے کو نکل جاتے ہیں۔
ان میں اکثریت مزدوروں کے ساتھ پیش آئے واقعے سے لاعلم ہوتے ہیں اور نہ ہی انہیں اس بات کی جستجو ہوتی ہے کہ معلوم کریں اس دن تعطیل کی بنیادی وجہ کیا ہے۔ آج جو بھی مراعات مزدوروں کو حاصل ہیں اس کے پیچھے مئی 1886 ء میں ان مزدوروں کی کتنی قربانیاں تھی جو نامساعد حالات میں جبر کے سامنے ڈٹ گئے اور بعض نے تو جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا۔ یہ دن اس عہد کا دن ہے کہ کہیں بھی نہ انصافی ہو اس کے خلاف ڈٹ جانا چاہیے۔
مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا ایک عظیم کار خیر ہے۔ اس کی مدد و داد رسی کرنا ہی انسانیت ہے۔ انسان اپنی معراج کو اس وقت نہیں پہنچتا جب تک وہ انسانوں کے لئے نہ صرف آسانیاں پیدا کرے بلکہ ان کی دل و جان سے مدد کرے۔ ”فرشتوں سے بہتر ہے انسان بننا مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ“ ۔ خاتم النبیین کا فرمان ہے! مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے قبل اس کے کام کی ادائیگی کر دینی چاہیے۔


