کلاس سٹینڈ ہینڈز اپ


ایک سو لڑکوں کی ایک کلاس بغیر استاد کے فارغ بیٹھی ہوئی ہے اور بیکار بیٹھے بیٹھے ہم جماعت آپس میں گپیں لگا رہے ہیں، کچھ اونچی آواز میں اور کچھ دھیمے سروں میں۔ لیکن جب ایک سو لوگ آپس میں باتیں کریں تو چاہے وہ بات چیت نیچی آواز میں ہی کیوں نہ ہو اسے کمرے کی چار دیواری میں مقید رکھنا نا ممکن۔ ایسے میں ایک صاحب کمرے میں داخل ہوتے ہیں اور با آواز بلند حکم جاری کرتے ہیں ’کلاس سٹینڈ ہینڈز اپ‘ ۔

یہ منظر نامہ میری آٹھویں جماعت کا تھا۔ یہ منظر نامہ کسی ایک دن کا نہیں اور نہ ہی دن کی کسی مخصوص ساعت کا۔ یہ تقریباً ہر دن کا معمول تھا اور دن میں بھی تین سے چار مرتبہ اس عمل سے گزرنا پڑتا۔ ہر مرتبہ اس سٹینڈ اور اپ کا دورانیہ پندرہ سے پینتالیس منٹ ہوتا۔ حکم دینے والے صاحب، جو ہمارے کلاس ٹیچر تھے، حکم صادر فرما کر پھر کلاس سے تشریف لے جاتے اور یہ سو افراد کا غول کچھ دیر اسی حالت میں خاموشی سے کھڑے رہنے کے بعد ایک مرتبہ پھر اپنی باتوں میں مشغول ہو جاتا۔ اگر اس مرتبہ بھی شور استاد محترم کی طبع نازک کی قوت برداشت سے زیادہ ہوتا تو ان کی واپسی زیادہ گھن گرج کے ساتھ ہوتی اور وہ سب کی تواضع، بلا کسی تفریق، ڈنڈے سے کرتے۔

میری آمد اس اسکول میں ساتویں جماعت میں ہوئی تھی۔ چھٹی جماعت تک میں ایک چھوٹے سے اسکول میں پڑھتا تھا جسے اسکولوں کی نیشنلائزیشن کے بعد اسکول کی مالکن نے بند کر دیا تھا۔ میرا پرانا اسکول میرے نئے اسکول سے کئی لحاظ سے بالکل منفرد تھا۔ اسکول میں طلباء کی تعداد بہت کم، کسی بھی کلاس میں طلباء کی تعداد پندرہ بیس سے زیادہ نہیں۔ تمام طلباء پر انفرادی توجہ اور پڑھائی کے علاوہ بزم ادب، باغبانی، مطالعاتی دورے اور نجانے کیا کیا۔ اس نئے اسکول میں پہلی مصیبت تو ہر کلاس میں طلبا کی تعداد تھی۔ پھر جس بنچ پر دو بچوں کے بیٹھنے کی گنجائش تھی اس پر تین تین چار چار بچوں کو بٹھایا جاتا یا بٹھانے کی کوشش کی جاتی۔

ہماری ساتویں جماعت کے کلاس ٹیچر بہت نفاست سے تیار ہو کر اسکول آتے۔ صاف ستھرا استری شدہ لباس، خوب رگڑ رگڑ کر کی ہوئی شیو، چمکتے ہوئے جوتے۔ پڑھانے پر بھی توجہ دیتے۔ لیکن موصوف بڑی رغبت سے طلباء پر تشدد کرتے۔ ان کے پاس ایک خاصہ موٹا اور مضبوط ڈنڈا ہوتا جس کا استعمال کرنے کے لئے وہ مختلف مواقعوں کی تلاش میں رہتے۔ کبھی ہوم ورک نہ کرنے پر سزا دیتے، کبھی شور کرنے پر اور کبھی دیر سے آنے پر۔ چونکہ ڈنڈے کی ضرب خاصی کاری ہوتی لہٰذا طالب علموں کے ہاتھ اس کی مار برداشت نہ کر پاتے۔

اس لئے استاد محترم نے ڈنڈے برسانے کے لئے کولہوں کا انتخاب کر رکھا تھا۔ عام طور پر ہر گنہگار چھ ڈنڈوں کا مستحق ہوتا۔ ڈنڈے کا خوف اس قدر تھا کہ اکثر طالب علم ڈنڈا کھانے سے پہلے ہی تھر تھر کانپنے لگتے۔ مقررہ طریقۂ کار یہ تھا کہ مجرم کو میز پر یوں الٹا لٹایا جاتا کہ اس کی ٹانگیں زمین پر رہیں۔ اس کے ہاتھ پھیلا کر معاون جلاد ( جو کلاس کا ایک فرد ہی ہوتا تھا) کے قبضے میں دے دیے جاتے اور اس کے بعد جلاد صاحب چھ عدد ڈنڈے پوری قوت سے مجرم کے کولہوں پر رسید کرتے۔

ایک مرتبہ یہ نوبت ہم تک بھی پہنچی۔ یاد نہیں کیا وجہ تھی۔ میں چونکہ جسمانی لحاظ سے خاصا کمزور تھا اور اس سے پہلے زندگی میں کبھی ایسی صورتحال سے دوچار بھی نہ ہوا تھا، لہٰذا مار کھانے کے امکان پر نہایت دہشت زدہ ہو گیا۔ شاید میرے چہرے پر پھیلی دہشت اور میرے بدن پر طاری کپکپاہٹ کو دیکھ کر استاد محترم کو محسوس ہوا ہو گا کہ یہ مصیبت گلے پڑھ جائے گی۔ وجہ جو بھی رہی ہو بہرحال ہم اس دن تشدد سے محفوظ رہے۔ لیکن اس واقعے کی دہشت آج بھی میرے دل و دماغ میں موجود ہے۔

ایک صاحب ہمیں ساتویں جماعت میں تاریخ پڑھانے پر مامور تھے۔ موصوف کے چہرے پر ہم نے مسکراہٹ نام کی کوئی چیز کبھی نہ دیکھی تھی۔ ایک دن کلاس میں بیٹھے بیٹھے اچانک سے پوچھتے ہیں ’یہ موتی مسجد کہاں ہے؟‘ شاہی قلعہ تو ہم کئی مرتبہ گئے تھے لیکن موتی مسجد تک اس وقت تک کبھی نہ پہنچے تھے۔ ہمارے باقی ہم جماعت بھی اس مسجد کے محل وقوع سے لا علم نکلے۔ اب استاد محترم نے اسکول کی عمارت سے متصل چرچ کا نام لیا اور پوچھا کہ وہ کہاں ہے۔

ظاہر ہے کہ تمام لوگ اس کا جواب دے سکتے تھے۔ اس پر استاد محترم نے کلاس کو سخت سست کہا اور مسلمانوں کی زبوں حالی کی وجوہات اور ان کی دین سے لا علمی پر ایک طویل تبصرہ کیا۔ ایک مرتبہ استاد صاحب کی کلاس جاری تھی کہ ایک طالب علم اس میں داخل ہوا۔ تمام بنچوں پر طلباء بیٹھے ہوئے تھے اور کسی پر بھی تین سے کم لوگ نہیں تھے۔ نووارد نے سوالیہ نظروں سے استاد محترم کی جانب دیکھا۔ استاد نے ہمارے بنچ کی طرف اشارہ کر دیا جو کہ ان کی میز کے قریب تھا۔

ہمارے بنچ پر درمیان میں بیٹھے ہوئے صاحب خاصے صحتمند تھے۔ فدوی نے مسمی سی آواز میں جگہ کی قلت کی طرف استاد کی توجہ دلانے کی کوشش کی۔ ابھی جملہ مکمل بھی نہ ہوا تھا کہ ایک زناٹے دار تھپڑ ہمارے گال پر پڑا۔ آج کئی دہائیوں کے بعد بھی ہمارے بائیں گال پر جڑے اس تھپڑ سے ہونے والی تذلیل کو محسوس کرتے ہیں جو ہم نے اس دن محسوس کی تھی۔

ہم تو اس اسکول میں ساتویں جماعت میں داخل ہوئے لیکن ہمارے جو ہم جماعت اس اسکول میں نیشنلائزیشن سے پہلے سے زیر تعلیم تھے ان کا کہنا تھا کہ اسکول کی حالت پہلے ایسی نہ تھی بلکہ اس کا شمار شہر کے اچھے اسکولوں میں ہوتا تھا۔ سنا ہے کہ ہمارے اسکول چھوڑنے کے بعد کے دور میں بنچوں کا ٹنٹا ہی ختم کر دیا گیا تھا اور کلاس رومز میں ٹاٹ بچھا دیے گئے تھے۔

اسکولوں کی نیشنلائزیشن کے بعد بھٹو صاحب نے ایک پرائمری ٹیچنگ کورس متعارف کروایا جس کے تحت دسویں پاس کوئی بھی شخص اس کورس کو مکمل کر کے اسکول میں پرائمری کلاسز کو پڑھا سکتا تھا۔ اس کورس کے فارغ التحصیل اشخاص کو سرکاری اسکولوں میں بڑی تعداد میں ملازمتیں دی گئیں۔ ایسے ہی بھرتی شدہ صاحبان میں کچھ ہمارے اسکول میں بھی تھے۔ ان میں سے ایک صاحب جو غالباً پارٹی ورکر بھی تھے اسکول میں مختلف وجوہات کی بنا پر خاصے نمایاں تھے۔

ہم اس وقت دسویں جماعت میں پہنچ چکے تھے۔ وہ صاحب پرائمری کو پڑھانے کی بجائے دسویں کلاس کے طلباء سے ملنے میں زیادہ دلچسپی لیتے اور اپنی تعلیمی خدمات انہیں پیش کرتے رہتے۔ چونکہ موصوف کی علمی قابلیت سب پر عیاں تھی لہٰذا طلباء بھی تفنن طبع کے لئے ان سے طرح طرح کے نصابی اور غیر نصابی سوالات پوچھتے رہتے۔ ایک دن کسی ستم ظریف نے ان سے پوچھا کہ ’فیئر گیم‘ کا کیا مطلب ہے؟ فرمانے لگے ’فیئر کا مطلب تو ہے میلہ اور گیم کا مطلب تو آپ کو آتا ہی ہے‘ ۔

اس اسکول میں ایک سر پی ٹی بھی تھے جو ہر وقت بید کی چھڑی سے لیس رہتے۔ ذو معنی جملے بولتے اور بید کی چھڑی کا شرمناک استعمال کرتے۔

ایسا نہیں کے اسکول میں سبھی کچھ برا ہی تھا۔ چند اساتذہ بہت قابل اور شفیق تھے۔ وہ اپنے فرائض اچھی طرح ادا کرنے کی کوشش کرتے لیکن اسکول کا عمومی ماحول اس کے لئے سازگار نہ تھا۔

دسویں جماعت کے بورڈ کے امتحان سے چند ماہ پہلے ہم نے اپنی اماں کو بتایا کہ اگر فوری طور پر ٹیوشن کا بندوبست نہ کیا گیا تو ہمارا میٹرک کے امتحان میں خاطر خواہ نمبر لینا محال ہو گا۔ اماں نے کسی سے پوچھ تاچھ کے ایک ٹیوٹر کا بندوبست کیا اور انہوں نے تین ماہ خوب دل لگا کے پڑھایا۔ ہم نے بھی خوب پڑھا اور اچھے نمبروں سے میٹرک پاس کیا اور گورنمنٹ کالج لاہور میں ایف اے میں داخل ہوئے۔ گورنمنٹ کالج کے چار سال میری طالب علمی کی زندگی کا سب سے حسین اور خوشگوار زمانہ تھا۔

مجھے اسکول چھوڑے ہوئے چھیالیس سال ہو گئے ہیں۔ ان چھیالیس سالوں میں میں نے کبھی اسکول کے دروازے سے اندر داخل ہونے کی کوشش نہیں کی۔ اس کے باہر سے بارہا گزرا لیکن کبھی عمارت کی طرف نہیں دیکھا۔ اسکول کی الوداعی تقریب میں کھنچی تصویر کو حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ایک لمبے عرصے تک کبھی اسکول کے ہمجولیوں سے رابطہ کرنے کی خواہش دل میں نہیں پیدا ہوئی۔ چند سال قبل چند پرانے ہمجولیوں نے واٹس ایپ گروپ بنایا تو میرا اپنے لڑکپن کے دوستوں سے رابطہ بحال ہوا۔ چند ماہ قبل ہم پرانے دوستوں نے اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھایا۔ یہ میرا ان میں سے بیشتر سے چھیالیس برسوں میں پہلا بالمشافہ رابطہ تھا۔

میرے ہائی اسکول میں گزرے چار سال میری زندگی کا اتنا بڑا ٹراما ہے جس سے میں باہر نہ نکل سکا۔ نہ جانے کتنے ماہ کی مسلسل سوچ بچار کے بعد میں یہ باتیں کہہ پا رہا ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ ایسا میری حد سے بڑھی حساسیت کی وجہ سے ہے یا اور لوگ بھی جو ایسے حالات سے گزرتے ہیں اتنا لمبا عرصہ ایسے صدمے سے دوچار رہتے ہیں۔ میں اپنے ٹراما کی وجہ تو سمجھتا ہوں لیکن میرے دل میں ایک احساس شرمندگی بھی ہے۔ اس کی وجہ غالباً وہ تھپڑ اور ڈنڈے ہیں جو میں نے ان چار سالوں میں کھائے۔ لیکن غصہ نہیں اور شرمندگی؟ کیوں؟

کیا ہم کبھی بھی اپنے اسکولوں کی حالت ایسی کر پائیں گے کہ ان اسکولوں کے فارغ التحصیل بچے خوشگوار یادوں کے ساتھ اپنے اسکول کا ذکر کر سکیں؟ آج بھی جب میں اپنے کسی پرانے ہم جماعت سے ملتا ہوں تو بے اختیار میرے ذہن میں چار الفاظ گونجتے ہیں ’کلاس اسٹینڈ ہینڈز اپ‘ ۔

Facebook Comments HS