”این جی اوز“ پر نظر ثانی کی ضرورت


یوں تو لاتعداد این جی اوز کام کرتی رہی ہیں اور کر رہی ہیں اور قابل ستائش اور قابل فخر کام روز روشن کی طرح عیاں بھی ہے تاہم ہر شعبے کی طرح اس شعبے میں بھی کالی بھیڑیں موجود ہیں اور خاص طور پر تعلیم کے فروغ کے نام پر بڑے بڑے گھناونے کام ہو رہے ہیں کئی نام نہاد این جی اوز یا ادارے ناقابل برداشت طرزعمل اختیار کیے ہوئے ہیں میری خوش قسمتی کہہ لیں کہ میرا ذاتی تجربہ ان معتبر اداروں کا رہا ہے تو قا بل اعتبار ذرائع نے جب ان نام نہاد اور جعلی اداروں کے بارے میں بتایا تو مجھے ان کو پہچاننے میں ذرا دیر نہ لگی کیونکہ یہ راز بھی عیاں ہوا کہ نہ صرف اپنے ذاتی مفاد بلکہ اپنے پورے کنبے کے بہتر مستقبل کے لئے پوری قوم کا مستقبل داؤ پر لگا یا جا رہا ہوتا ہے ان اداروں کی تمام تر پالیسیاں بھی ایک ہی اصول کے تحت مرتب کی جاتی ہیں، فرضی نام، فرضی اسکول، فرضی مقامات، فرضی دفاتر، فرضی عہدیدار وغیرہ پہلے میرا خیال تھا کہ شاید تعلیم کے فروغ کے نام پر اتنا بڑا فراڈ یا دھوکہ ممکن نہیں۔ آپ کیسے اسکول، بچے، تعلیمی نصاب، اساتذہ، سالانہ کا ر کردگی پیش کریں گے اور کرنا آسان نہیں ہے۔ تعلیم تو مسلسل عمل ہے اسے کسی بھی خاص پورا ماحول تیار کر لینا ممکن نہیں ہو سکتا، اس کے لئے باقاعدہ ایک مستقل، مسلسل اور منظم سیٹ اپ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب کہ صحت، غربت کا خاتمہ کسی بھی بنیادی ضرورت جیسے کہ پانی، بجلی، ذرائع آمدورفت کا فروغ دینے کے لئے فرضی اور وقتی طور پر سب ممکن ہے لیکن یہاں تعلیم کے فروغ میں بھی سب ممکن ہے بس بات پھر وہیں آجاتی ہے کہ ضمیر کتنا مطمئن ہے۔

جن اداروں سے میری اور میرے قابل اعتبار ذرائع کا براہ راست یا بالواسطہ تعلق رہا ہے آئیے پہلے ان کے بارے میں جانتے ہیں میں نے اپنی پیشہ ورانہ تدریس کا آغاز بھی ایک این جی او سے ہی کیا۔

ٹی سی ایف یعنی دا سٹیزنز فاؤنڈیشن بلاشبہ خاموش تعلیمی انقلاب لانے میں، تعلیم کے فروغ میں ایک عظیم کام کر رہی ہے پاکستان میں جتنا کام اس ادارے نے کیا شاید ہی کسی اور ادارے نے کیا ہو میں ذاتی طور پر خود بھی اس ادارے سے منسلک رہی ہوں اور ہمارے ملک میں موجود تمام ہی مستند ادارے اس کے گواہ ہیں میں نے تقریباً دس سال اس ادارے میں مختلف عہدوں پر کام کیا اور ہر عہدے پر ، ہر سطح پر ان کی خدمات قابل تحسین رہی ہیں اس ادارے کی اپنی طلبہ و طالبات کے لئے اس کی خدمات دراصل زندگی کا مثبت پہلو کی جا نب منتقلی کا ایک سفر ہے جو کہ مقصد عظیم ہے۔ پاکستان بھر میں پھیلا ایک بہت وسیع نیٹ ورک لاکھوں بچوں کا مستقبل سنوار نے میں، مستقبل کے تمام تر چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ہر طرح سے تیار کر رہا ہے۔

اب میں ایک ایسے ادارے کا ذکر کروں گی کہ جس کا نہ صرف میرا ذاتی تجربہ رہا ہے بلکہ اس کی خدمات بھی ہر پاکستانی پر روز روشن کی طرح عیاں ہیں اور وہ ہے زندگی ٹرسٹ اس ادارے نے حکومت کے روایتی اور عام سے اسکولوں کو اتنا خاص بنا دیا یعنی گورنمنٹ اسکولوں کو اپنایا اور ایک معیاری تعلیمی نظام دیا اور اس پر عمل درآمد کروایا اور خاص بات کہ یہ دونوں ادارے صرف بچیوں یعنی لڑکیوں کے ہیں کیونکہ ہم اپنے معاشرتی اقدار، رویوں کے پس منظر کی وجہ سے لڑکوں یعنی بیٹوں کو انتہائی اہمیت دیتے ہیں اور بیٹیوں کے بارے میں ہماری سوچ بالکل مختلف ہے گرچہ اس غیر منصفانہ سوچ میں تبدیلی شروع ہو چکی ہے لیکن ابھی یہ تبدیلی کا آغاز ہے منزل ابھی دور ہے ایسے میں زندگی ٹرسٹ کا کام نہایت مثبت اور مستحسن قدم ہے معیاری تعلیم کے ساتھ ہم نصابی سر گر میاں کا عروج و معیار بھی جیسا آپ اس ادارے میں دیکھیں گے ویسا آپ کو کہیں اور کسی نجی، پرائیویٹ ادارے میں بھی نظر نہیں آئے گا خاص طور پر کھیلوں کے میدان میں کراچی بھر میں ادارے کو ایک خاص مقام حاصل ہے میں ذاتی طور پر اور کئی معتبر ادارے اس بات کے عینی شاہد ہیں کہ یہاں ہر اس جدید تحقیق اور طریقہ کار کا استعمال کیا جا رہا ہے جو طالبات کے لئے ضروری اور مفید ہو اس سلسلے میں زندگی ٹرسٹ کا عملہ اور گورنمنٹ کا عملہ جس مستعدی سے کام کر رہا ہے جو لائق تحسین ہے۔

تیسرا بڑا اہم ادارہ کرن فاونڈیشن ہے کہ جس کی لیاری جیسے پسماندہ علاقے کے خاص ذہنیت کے حامل افراد کی سوچ کے درمیان ان کے بچوں کی اعلی تعلیم اور دیگر تربیتی امور کے حوالے سے خدمات قابل تعریف ہیں اور ہیں اس ادارہ کا طرہ امتیاز بھی رہی ہیں رمضان المبارک میں اس ادارے کی خدمات کا مختصر جائزہ لینے کا موقع ملا ان کا اسکول ان کے اساتذہ اور ان کا تمام تر کا کام سراہے جانے کے قابل ہے۔

ایک اور اہم ادارہ جو کہ نہ صرف تعلیم بلکہ کئی دوسرے شعبوں میں بھی کام کر رہا ہے وہ ہے اخوت فاونڈیشن میں صرف تعلیم کے شعبے کا ذکر کروں گی اس ادارے کی خدمات بھی قابل ستائش رہی ہیں اور قابل اعتماد ذرائع بھی اس کی تائید کرتے ہیں۔

اب ایک ایسا ادارہ کہ جو اساتذہ کی تربیت پر اپنی نوعیت کا پہلا اور مکمل کام کر رہا ہے وہ ہے دو وربین انٹر پاس بچیوں کو بی ایڈ کی چار سالہ مفت معیاری تعلیم دے کر اعلی معیار کے اساتذہ تیار کرنا اور پھر ان کے باعزت اور معیاری روزگار کا انتظام کرنا بھی ایک مستحسن قدم ہے اس ادارے نے پاکستان جیسے ملک میں تعلیمی معیار کی بہتری کے لئے اچھے اور تربیت یافتہ اساتذہ کی تیاری کا جو بیڑہ اٹھایا ہے وہ ایک عظیم ذمے داری ہے ابھی کے ثمرات آنے میں کچھ وقت لگے گا لیکن یہ انقلاب بہت زبردست و دوررس نتائج کا حامل ہو گا۔

آئیے اب دیکھیں کچھ ایسی نام نہاد این جی اوز کے کردار کو جو اندرون و بیرون ملک سے زبردست امداد یا فنڈنگ کے نام پر بڑی بڑی رقومات ہتھیا کر اپنے اپنے مفادات پر خرچ کی جا رہی ہیں۔ ہر سطح پر ان اداروں میں ہر عہدیدار اپنے مفادات کے لئے کام کرتے نظر آ رہا ہے۔ کچھ سال کام کر کے اپنی ساکھ بنانے کے بعد ایک لمبے عرصے تک فرضی کام، فرضی ادارے، فرضی دورے، فرضی تربیتی کورسز سبھی کچھ ہو رہا ہے اور پھر بھی متعلقہ اداروں کی آنکھوں سے اوجھل عجیب منطق ہے۔ حکومت سندھ، سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن، ایشین ڈیویلپمنٹ بینک جیسے اداروں کی فنڈنگ کو چند منتخب شدہ لوگوں کی جاگیر بنا دینا ناانصافی اور ناقابل معافی جرم ہے۔ مندرجہ بالا اداروں کا اعتماد حاصل کرنے اور کچھ عرصہ کام کرنے کے بعد اب یہ ادارے ایسے کام کر رہے ہیں کہ حقائق چو نکا دینے والے ہیں۔

انتہائی معتبر ذرائع کے مطابق یہ ادارے جس کے نہ صرف کراچی بلکہ اندورن سندھ بھی کچھ اسکولز کام کر رہے ہیں جیسے کہ کراچی کے علاقوں اورنگی ٹاؤن اور کورنگی میں اسکول موجود ہیں اور بوقت ضرورت ان نام نہاد اداروں کے نام بھی شائع کیے جا سکتے ہیں۔ معتبر ذرائع کے مطابق ان کے اندرون سندھ اسکولوں کی کہانی کچھ اس طرح ہے کہ فروری، مارچ تک ان کے اسکولوں میں بچوں تک کتابوں کا نہ پہنچنا، سلیبس کوریج کے نام پر وہاں گاوں میں موجود عملے کا یہ جواب دینا کہ نہ یہاں کتابیں ہیں اور نہ ہی کوئی سلیبس آؤٹ لائن پھر کون سا اور کیسا سلیبس کوریج رپورٹ؟ یہ انکشاف تھا ان ذرائع کا جو اس ادارے کہ بارے میں بحیثیت ایک اہم عہدیدار اپنی خدمات سر انجام دے رہے تھے اور نئے ملازم ہو نے کی وجہ سے بنیادی معلومات لینے کے دوران انکشاف ان کے پیروں تلے زمین ہی کھینچ کر لے گیا کیونکہ وہاں ہر طرح کی ہفتہ وار رپورٹ، ماہانہ رپورٹ، ڈونرز کو پیش کی جاتی تھیں اور آگے کی منصوبہ بندی اور مزید فنڈ ریزنگ کی میٹنگز اور بریفنگ فائیو اسٹار ہوٹلز میں منعقد کر کے اعلی کارکردگی دکھانے کا مظاہرہ کیا جاتا تھا نہ جانے ایسے کتنے ہی ادارے ہیں کہ جو اس طرح کا گھناؤنا کام کر رہے ہیں ہمیں ان اداروں کے اس طرح کے کاموں کے خلاف آواز اٹھانا ہوگی اس سلسلے میں اور میرے ذرائع ہر قسم کا تعاون کرنا اپنا فرض سمجھ کر ادا کریں گے کیونکہ اچھے اور مثبت اداروں کو سراہنا ہو گا، ساتھ دینا ہو گا اور اپنے ضمیر کی آواز کو سننا ہو گا تا کہ اس معاشرے میں ان کے لئے شعور اجاگر ہو سکے اور ان کا کام جو کہ ایک اہم قومی خدمت ہے جاری رہ سکے اور آگے بڑھ سکے۔

Facebook Comments HS