آزاد کشمیر حکومت کی تبدیلی اور وزیراعظم چودھری انوار سے توقعات


آزاد کشمیر میں وزیر اعظم چودھری انوار الحق کی سربراہی میں قائم مخلوط حکومت کو ایک مثبت تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ آزاد کشمیر کی پارلیمانی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ جب آزاد کشمیر میں تمام بڑی پارلیمانی سیاسی جماعتوں پر مشتمل حکومت قائم ہوئی ہے۔ اس مخلوط حکومت کے قیام سے آزاد کشمیر میں 2021 کے الیکشن میں آنے والی ’پی ٹی آئی‘ کی سیاسی تحلیل کا فطری عمل بھی شروع ہو گیا ہے جس کا قیام بڑی مقدار میں پیسے کے بل بوتے عمل میں لایا گیا تھا۔

23 ارکان اسمبلی رکھنے والی ’پی ٹی آئی‘ سکڑ کر 7 ارکان اسمبلی تک محدود ہو گئی ہے۔ تقریباً دو سال قبل آزاد کشمیر میں ’پی ٹی آئی‘ حکومت کو لایا گیا تو عمران خان کی طرف سے مسلط کیے جانے والے وزیر اعظم عبدالقیوم نیازی نے وزیر اعظم بنتے ہی اپنے رشتہ داروں، اپنے مقامی علاقے کے افراد کی درجنوں کی تعداد میں سرکاری عہدوں پر تقرریوں کا سلسلہ شروع کر دیا اور وزیر اعظم کے طور پر سب سے پہلے ایسے احکامات صادر کیے جن سے ان کے خاندانی کاروبار کو فائدے حاصل ہو سکیں۔

آزاد کشمیر کے 2021 کے الیکشن میں تنویر الیاس نے ہر حلقے میں دولت کے بل بوتے سیاسی فتوحات کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اربوں روپے لگا کر آزاد کشمیر میں ’پی ٹی آئی‘ کی حکومت تو قائم ہو گئی لیکن وزیر اعظم کا عہدہ نہ تو اربوں روپے خرچ کرنے والے تنویر الیاس کو ملا اور نہ ہی ’پی ٹی آئی‘ کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چودھری وزیر اعظم بن سکے۔ تنویر الیاس نے بیرسٹر سلطان محمود چودھری سے ’پی ٹی آئی‘ کی صدارت چھین لی اور آزاد کشمیر کا صدر بنوا کر انہیں پارلیمانی سیاست سے ہی آؤٹ کر دیا۔

تنویر الیاس موسٹ سینیئر وزیر بنے تو انہیں معلوم ہوا کہ اس عہدے میں تو انہیں کوئی اختیار ہی حاصل نہیں، لہذا وہ خود وزیر اعظم بننے کے لئے اپنی ہی پارٹی کے وزیراعظم کے خلاف سرگرم ہو گئے۔ علی امین گنڈا پور عمران خان کے قریبی ساتھی اور وزیر امور کشمیر کے طور پر آزاد کشمیر کے الیکشن کے دوران حلقوں میں پیسے تقسیم کرنے سمیت تمام معاملات میں تنویر الیاس کے ساتھ شامل رہے۔ عبدالقیوم نیازی کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹا کر تنویر الیاس کو وزیر اعظم بنانے میں بھی علی امین گنڈا پور نے بھر پور کردار ادا کیا۔ اس معاملے میں بھی کروڑوں روپے لینے اور دینے کی اطلاعات زبان زد عام ہیں۔

تنویر الیاس کی سربراہی میں ’پی ٹی آئی‘ کی پارلیمانی پارٹی نے عبدالقیوم نیازی پر کرپشن، اقرباپروری سمیت کئی سنگین الزامات لگاتے ہوئے عمران خان کی معاونت سے انہیں وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹوا دیا اور تنویر الیاس وزیر اعظم کے اس عہدے پہ براجمان ہو گئے جس کے لئے انہوں نے اربوں روپے خرچ کیے تھے۔ وزیر اعظم بنتے ہی تنویر الیاس نرگسیت کا شکار ہوئے اور خود کو ہر معاملے میں عقل کل سمجھنے لگے۔ الیکشن سے لے کر وزارت عظمی کا عہدہ استعمال کرنے میں بے تحاشہ دولت استعمال کر کے کامیابی حاصل کرنے سے وزیراعظم تنویر الیاس کی خود اعتمادی بد تہذیبی اور مزاحیہ پن کی حدیں عبور کرنے لگی۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹورازم اور بیرونی سرمایہ کاری کے نعرے لگانے والے وزیراعظم تنویر الیاس کی تان آزاد کشمیر سے سور برآمد کرنے کے اعلان پہ آ کر ٹوٹی۔ وزیر اعظم کے طور پر تنویر الیاس کا دور حکومت بد انتظامی اور بد اخلاقی کے شاہکار کے طور پر نظر آتا ہے۔ آئے روز سرکاری افسران کے تبادلے ہی نہیں بلکہ اپنے سٹاف کو بھی صبح، دوپہر اور شام کی قلیل مدت میں تبدیل کرنے کا چلن اپنایا گیا۔ وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں نت نئے عہدوں کی تشکیل کرتے ہوئے درجنوں کی تعداد میں منظور نظر افراد کی تعیناتیاں پورے عہد اقتدار میں جاری رہیں۔ ان کے اسی طرح کے روئیے سے آزاد کشمیر حکومت کا تمام ڈھانچہ ہی مفلوج ہو کر رہ گیا۔

سرکاری افسران ہی نہیں بلکہ سیاسی رہنماؤں کے خلاف بھی بد کلامی کا کھلے عام مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔ کئی سیاسی رہنماؤں کو گالیاں تک دیں اور پھر کئی سے معافی مانگنے ان کے گھروں کو پہنچ گئے۔ وزیر اعظم تنویر الیاس کی بدکلامی سے ان کی اپنی پارٹی کے سابق وزیر اعظم عبدالقیوم نیازی بھی محفوظ نہ رہے اور اسمبلی اجلاس میں یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ میں وزیر اعظم تنویر الیاس کی معذرت کو جوتے کی نوک پہ رکھتا ہوں۔ وزیر اعظم تنویر الیاس نے خوشامدیوں کا ایک ٹولہ اپنے گرد جمع کر لیا جنہوں نے انہیں کشمیر کی تاریخ کا عظیم قومی رہنما قرار دے دیا اور ایک جعلی خبر بناتے ہوئے بتایا کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے انٹیلی جینس کے ایک اجلاس میں وزیر اعظم تنویر الیاس کو کشمیر کے حوالے سے بھارت کے لئے ایک بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔

یوں وزیر اعظم تنویر الیاس نے شعبدہ بازی سے کشمیر کاز کے ساتھ بھی کھلواڑ شروع کر دیا۔ ’پی ٹی آئی‘ اپنے تقریباً دو سالہ عہد اقتدار میں کشمیر کاز سے متعلق کوئی ایک معمولی سے اقدام کرنے میں بھی ناکام نظر آئی کیونکہ اس جانب نہ تو ان کی کوئی دلچسپی تھی اور نہ ہی انہیں اس بات کا کوئی ادراک تھا کہ آزاد کشمیر کے لئے کشمیر کاز کی کتنی اہمیت ہے۔

اپنی ہی حماقتوں سے تنویر الیاس عدالت سے نااہلی کی سزا پاتے ہوئے وزارت عظمی اور آزاد کشمیر اسمبلی کی نشست سے محروم ہوئے اور پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون اور فارورڈ بلاک کے ارکان اسمبلی کے اتحاد سے چودھری انوارالحق کی سربراہی میں مخلوط حکومت کا قیام عمل میں آیا۔ آزاد کشمیر میں حکومت کے تبدیلی کے اس عمل کا تمام عوامی حلقوں کی طرف سے خیرمقدم کیا گیا۔ اپنی حکومت کے خاتمے کا ماحول دیکھتے ہوئے تنویر الیاس نے یہ دھمکی بھی دی کہ اگر انہیں وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹایا گیا تو آزاد کشمیر میں حالات اتنے خراب ہو جائیں گے کہ لوگ مقبوضہ کشمیر کو بھول جائیں گے لیکن پھر سب نے دیکھا کہ تنویر الیاس کی برخاستگی پہ آزاد کشمیر میں کہیں بھی کوئی مظاہرہ نہیں ہوا۔

وزیراعظم چودھری انوارالحق ایک منجھے ہوئے سنجیدہ سیاسی کارکن ہیں اور وزیراعظم بننے کے بعد تحمل اور بردباری سے معاملات کو چلا رہے ہیں۔ ابھی کابینہ کی تشکیل کا مرحلہ مکمل نہیں ہوا تاہم انہوں نے گڈ گورننس کے اقدامات شروع کر دیے ہیں جن پہ عملدرآمد بھی ہوتا نظر آ رہا ہے۔ یہ بھی ایک مثبت قدم ہے کہ وزیراعظم چودھری انوارالحق نے ماضی کے وزیراعظموں کی طرح وزیراعظم بنتے ہی اپنے حلقے، قریبی تعلق داروں کی تعیناتیوں کا سلسلہ شروع نہیں کیا حتی کہ ابھی تک ان کی طرف سے وزیراعظم کا سیاسی سٹاف بھی متعین نہیں کیا گیا۔ آزاد کشمیر کا وزیراعظم تمام خطے کے علاوہ کشمیر کاز کا بھی نمائندہ ہوتا ہے اور اگر وہ سرکاری تعیناتیوں میں اپنے حلقے کے سیاسی مفادات میں محدود ہو جائے تو اس کا اچھا تاثر اور نتائج برآمد نہیں ہوسکتے۔

وزیراعظم چودھری انوارالحق سے عمومی توقعات ہیں کہ وہ آزاد کشمیر کی روایتی سیاسی مفاداتی سیاست سے خود کو محفوظ رکھتے ہوئے ایک مثالی کر دار اپنائیں گے اور آزاد کشمیر میں اچھے اخلاقی اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے کشمیر کاز سے متعلق بھی ”مقبوضہ کشمیر کی آزادی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے“ کی طرح کے کھوکھلے بیانات میں محدود رہنے کے بجائے عملی طور پر ایسے اقدامات پر توجہ دیں گے کہ جس سے کشمیر کاز سے متعلق بھی آزاد کشمیر کا اخلاص نمایاں ہو سکے۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ آزاد کشمیر میں اصلاح احوال اور کشمیر کاز سے متعلق موثر اقدامات کے لئے وزیراعظم چودھری انوارالحق کو مقامی سیاسی مفادات میں محدود رہنے والی شخصیات کے بجائے صالح مشاورت کے حصول پہ بھی خاص توجہ دینا چاہیے۔

Facebook Comments HS