سنسرشپ کی زنجیریں اور عالمی یوم آزادیٔ صحافت
’اخبار‘ کی اصطلاح اگرچہ 17ویں صدی سے رائج ہوئی، لیکن جرمنی میں اس طرح کی اشاعتیں 16ویں صدی سے شائع ہونا شروع ہو گئی تھیں، جنہیں آج کی تعریف کے مطابق ’اخبار‘ کہا جا سکتا ہے، کیونکہ وہ تواتر سے شائع ہونے والی خبروں پر مشتمل اشاعتیں تھیں۔ 1605ء میں اسٹراسبرگ میں ناشر ’جوہان کیرولس‘ ( 1575ء۔ 1634ء) کے توسط سے جرمن زبان میں شائع ہونے والی اس اشاعت کو عام طور پر ’دنیا کا پہلا اخبار‘ سمجھا جاتا ہے، جس کے جرمن عنوان کا ترجمہ تھا: ”تمام شہزادوں سے منسلک تاریخیں“ ۔ اس حساب سے اخبار کی عالمی تاریخ آج سے 418 سال پرانی ہے۔
جدید ذرائع ابلاغ کا عروج، چھاپہ خانے (پرنٹنگ پریس) کی ایجاد اور پھیلاؤ کے بعد ہوا، جہاں سے اشاعت کو ’پریس‘ کا باضابطہ نام ملا۔ مشہور مؤرخ ’جوہانس ویبر‘ کے مطابق، ”اس زمانے میں جس طرح طبعی، تکنیکی لحاظ سے پرنٹنگ پریس کی ایجاد ہوئی، اسی طرح لفظ کے وسیع معنوں میں ’پریس‘ بھی تاریخی مرحلے میں داخل ہو گیا۔“ اگرچہ پرنٹنگ پریس کی پہلی شکل ’جوہانس گٹنبرگ‘ ( 1406ء۔ 1468ء) نامی جرمن سنار نے 15 ویں صدی میں ( 1436ء کے لگ بھگ) ایجاد کر لی تھی، لیکن یہ ابتدائی پریس، کتب کی طباعت کے عمل کو خودکار بنانے سے ابھی بہت دور تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پرنٹ ٹیکنالوجی اور پرنٹنگ پریس کو 17ویں صدی کے بعد سے تسلیم کیا گیا۔ ہم پریس کی باضابطہ تاریخ بھی تبھی سے گننا شروع کریں گے۔
جدید ذرائع ابلاغ کے دور کا شمار الیکٹریکل ٹیلی گراف کی ایجاد سے کیا جا سکتا ہے، جسے 1837ء میں امریکا میں ’سیموئل مورس‘ ( 1791ء۔ 1872ء) نامی سائنسدان نے پیٹنٹ کیا تھا۔ ٹیلیگراف کی ایجاد کے بعد ، کسی بھی قسم کے مواصلات کے لیے، جسمانی نقل و حرکت کی ضرورت نہیں رہی۔ 1906ء میں ریڈیو کی ایجاد نے آواز کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا۔ اس انقلاب کے آغاز کے 14 سال بعد ، 2 نومبر 1920ء کو پہلی بار ریڈیو پر خبریں نشر ہوئیں۔
یہ امریکا میں انتخابات کا دن تھا، جس دن الیکشن کے بارے میں دنیا کا پہلا نیوز پروگرام، امریکی ریاست ’پنسلوینیا‘ کے شہر پٹسبرگ میں ’ویسٹنگ ہاؤس الیکٹرک بلڈنگ‘ کی چھت سے، ’کے ڈی کے اے‘ ریڈیو سٹیشن سے نشر کیا گیا۔ یہ نہ صرف دنیا کا ریڈیو سے نشر ہونے والا پہلا نیوز پروگرام تھا، بلکہ دنیا کی نشر ہونے والی اولین الیکشن نشریات بھی تھیں۔ اس تاریخی واقعے کے 7 سال بعد ، 7 ستمبر 1927ء کو ٹیلی ویژن کی ایجاد، مواصلات کی دنیا میں ایک اور انقلاب تھی، جس کے مختلف مراحل میں، ’فلو فارنس ورتھ‘ ( 1906ء۔
1971ء) ، جاپانی انجنیئر ’کینجیرو تاکیانگی‘ ( 1899ء۔ 1990ء) ، ’جان لوئی بیرڈ‘ ( 1888ء۔ 1946ء) اور ’چارلی فرانسز جینکنس‘ ( 1867ء۔ 1934ء) نامی چار انجنیئرز کا عملی طور پر ہاتھ تھا، لیکن ٹی وی کو خبروں کی نشریات اور پریس کے ’ٹول‘ کے طور پر استعمال کرنے میں ایک دو دہائیوں کا عرصہ اور لگا۔ اگرچہ ٹی وی نیوز کاسٹ کی پہلی کوشش 1940ء میں کی گئی تھی۔ ’لاویل تھامس‘ نے مارچ 1940ء میں امریکی ٹیلی ویژن پر پہلے باقاعدہ نیوز پروگرام کی میزبانی کی۔
یہ ’این بی سی‘ نیٹورک نیوز کاسٹ کے ذریعے نشر کیا جانے والا ایک پروگرام تھا، جو ٹیلی ویژن نشریات ایک چھوٹے پیمانے پر صرف نیویارک شہر میں دیکھی گئیں، جسے اس وقت ”ڈبلیو 2 ایکس بی ایس“ نامی تجرباتی ٹی وی اسٹیشن سے نشر کیا گیا۔ لیکن ٹیلی ویژن پر باقاعدہ نیوز کاسٹ کا آغاز 14 جنوری 1952ء کو پہلی بار امریکی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی خبروں کی صورت میں ہوا۔ ”والٹر کیمپٹن نیوز“ کے نام سے 15 منٹ دورانیے کا یہ نیوز پروگرام ”ڈومونٹ ٹیلی ویژن نیٹورک“ پر نشر کیا گیا، جو 1948ء تک تواتر سے نشر ہوتا رہا۔
برصغیر کا پہلا اخبار، ”دی بنگال گزیٹ“ / ”ہکیز بنگال گزیٹ“ نامی ایک اینگلو۔ انڈین اخبار تھا، جسے 1780ء میں کلکتے سے انگریزی زبان میں ایک آئرش نژاد صحافی ’جیمز آگسٹس ہکی‘ ( 1740ء۔ 1802ء) نے شائع کیا تھا۔ برصغیر میں ریڈیو کی نشریات کا آغاز جون 1923ء میں ’ریڈیو کلب بمبئی‘ کی صورت میں ہوا۔ یہ آل انڈیا ریڈیو کے قیام سے 13 سال پہلے کی بات ہے۔ جبکہ مشترکہ ہندوستان کا پہلا ریڈیو نیوز بلیٹن 23 جولائی 1927ء کو ’انڈین براڈکاسٹنگ کمپنی‘ نامی ایک نجی کمپنی کے بمبئی اسٹیشن سے نشر کیا گیا۔
آل انڈیا ریڈیو پر خبریں پہلی بار 19 جنوری 1936ء کو نشر ہوئیں۔ برصغیر میں ٹیلی ویژن کی نشریات، تقسیم ہند کے بعد شروع ہوئیں۔ ہندوستان میں 15 ستمبر 1959ء کو ”دور درشن“ جبکہ پاکستان میں 26 نومبر 1964ء کو ”پاکستان ٹیلی ویژن“ کی صورت میں ٹی وی آیا۔ بھارت کی طرح پاکستان میں بھی ٹی وی پر خبروں کی نشریات ٹی وی نشریات کے پہلے دن ہی سے جاری ہیں۔ البتہ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں 2002ء میں پہلے ”ایمرا“ (الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی) اور پھر ”پیمرا“ (پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی) کا قیام عمل میں آیا اور بڑے پیمانے پر نجی ریڈیو اور ٹی وی چینلز کو لائسنس جاری کیے گئے۔
جس کے بعد ملک میں نجی چینلز کی نشریات کا انقلاب آ گیا۔ اس حساب سے براعظم میں اخبارات کی عمر 153 سال، ریڈیو جرنلزم کی عمر 96 برس، جبکہ ٹیلی ویژن کی صحافت کی عمر تقریباً 64 سال ہے۔ جبکہ پرائیویٹ چینلز کو ہمارے ملک میں عام ہوئے 23 سال ہو چکے ہیں۔ لیکن یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ پاکستان جیسے ممالک میں صحافت ایک غیر محفوظ پیشہ رہا ہے اور اس سے وابستگی اپنی موت کو دعوت دینے یا اپنے لیے تکالیف پیدا کرنے کا دوسرا نام بن چکی ہے۔ ’انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس‘ (آئی ایف جے ) کے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں 1990ء سے اب تک 138 صحافی، صحافتی فرائض کی ادائیگی کے دوران شہید ہو چکے ہیں۔ زخمی اور جبری طور پر لاپتہ ہونے والے صحافیوں کی تعداد اس کے علاوہ اور اس سے کہیں زیادہ ہے۔
دنیا میں ”آزادیٔ صحافت“ کی اصطلاح پہلی مرتبہ تیسرے امریکی صدر ’تھامس جیفرسن‘ ( 1743ء۔ 1826ء) نے استعمال کی تھی، جنہوں نے 1786ء میں اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ ”ہماری (انفرادی) آزادی کا تحفظ، پریس کی آزادی کے بغیر ممکن نہیں!“ دنیا میں صحافت کے پہلے شہید، مشہور امریکی صحافی ’ایلیا پیرش لوجوائے‘ ( 1802ء۔ 1837ء) کو مانا جاتا ہے، جنہیں محض 35 برس کی عمر میں پانچ گولیاں مار کر بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ اس وقت ’مارٹن وان بورین‘ ( 1782ء۔ 1862ء) امریکا کے صدر تھے۔ ’بابائے جمہوریت‘ ابراہام لنکن نے اپنے ایک خط میں لوجوائے کی المناک موت کو ”نئی دنیا میں پیش آنے والا سب سے افسوسناک واقعہ“ لکھا ہے۔
صرف گزشتہ برس 2022ء کے دوران صحافیوں کے قتل کے عالمی اعداد و شمار کے مطابق پورے سال میں 67 صحافی مارے گئے، جو کہ 2021ء میں جان سے ہاتھ دھونے والے صحافیوں کی تعداد کے مقابلے میں تیزی سے ہونے والا اضافہ ہے۔ اس اضافے کی وجہ یوکرین پر روس کے حملے اور ہیٹی کے صدر کے قتل کے بعد شہری بدامنی بتائی جاتی ہے۔ تاہم اگر ہم صرف پاکستان کا تذکرہ کریں، تو گزشتہ سال ملک میں صحافتی فرائض کی انجام دہی کے دوران پانچ صحافی مارے گئے تھے۔ جبکہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ 2 دیگر شہادتوں کی تحقیقات کر رہی ہے، جنہیں مبینہ طور پر پولیس کے ہاتھوں قتل کیا گیا۔ البتہ ارشد شریف کی طرح پاکستان سے باہر بے دردی سے قتل کیے جانے والے پاکستانی صحافیوں کی کہانیاں اس کے علاوہ ہیں۔
اس وقت ’میکسیکو‘ اور ’ہیٹی‘ کو صحافیوں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ صحافت کے لیے خطرناک ترین ممالک کی فہرست میں چین 180 میں سے 177 ویں نمبر پر ہے، جہاں صحافت کی آزادی ابھی تک ایک خواب ہے۔ چینی حکومت، چینی کمیونسٹ پارٹی اور مختلف پراکسیز نے وہاں میڈیا چینلز کی رپورٹنگ اور نشریات پر اپنے آمرانہ اثر و رسوخ میں تیزی سے اضافہ کیا ہے۔ نتیجتاً، چینی کمیونسٹ پارٹی نے دوسرے ممالک میں جارحانہ مداخلت کرنے کی اپنی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے۔
اس عجیب بے یقینی سے بھرے ہوئے اقتصادی موسم میں، جب پاکستان نے چین، روس، سعودی عرب اور ایران کے مشترکہ بلاک میں شمولیت کی تقریباً پوری تیاریاں کر لی ہیں اور ’آئی ایم ایف‘ کی چالوں سے تنگ آ کر پاکستان نے اب چین سے اپنی معاشی توقعات بڑھا دی ہیں، ایسے میں چین کا پریس پر ایسا غاصبانہ رویہ پاکستان کے لیے ہرگز کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔ ہمارا ملک، نہ صرف آمریت کے زمانوں میں بلکہ نام نہاد جمہوری ادوار میں بھی پریس اور میڈیا پر (ابھی تک) پابندیوں اور سنسرشپ کی زنجیروں میں جکڑا رہا ہے۔
جہاں ایک طرف نہ صرف اسٹیبلشمنٹ کبھی صحافیوں کو گرفتار کر کے، کبھی انہیں تکلیفیں دے کر، کبھی نام نہاد ’مثبت رپورٹنگ‘ نہ کرنے کی پاداش میں انہیں کو گم کرنے سے لیکر، میڈیا ہاؤسز بند کرنے یا ان کے اشتہارات بند کر کے ان کا معاشی قتل عام کرنے جیسے سنگین حربے بھی اپناتی رہی ہے، تو دوسری جانب خود پریس کے اندر موجود مافیاز نے بے داغ صحافت خواہ صحافیوں کے لیے بہت مشکلات کھڑی کی ہیں۔ ایسے میں غیر جانبدارانہ صحافت کرنا یقیناً کسی جہاد سے کم نہیں۔
آج کا دن، ان تمام شخصیات، کرداروں اور اداروں کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے، جنہوں نے سچ کا ساتھ دے کر صحافت کو جلا بخشی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ دن اس امر پر زور دینے کا بھی دن ہے کہ صحافت سمیت تمام پریس میڈیا معاشرے کا آئینہ ہے۔ جس کو داغدار یا مسمار کر دینے سے معاشرے کے داغ دھل نہیں سکیں گے، بلکہ معاشرے میں مزید بگاڑ آئے گا اور منفی روایات کو فروغ ملے گا۔ اس لیے ایک صحتمند معاشرے کی تعمیر کے لیے ناگزیر ہے کہ صحافت کو سانس لینے دیا جائے اور صحافیوں کو تحفظ دیا جائے۔ جس کا اعتراف ایک دن دنیا کے ہر فرد کو کرنا پڑے گا۔




