آزادی صحافت کا عالمی دن 3مئی، 2023
آزادی صحافت کا عالمی دن ہر سال 03 مئی کو منایا جاتا ہے۔ اس کا آغاز 1993 میں کیا گیا تھا۔ تین دہائیوں کی جدوجہد کے بعد دنیا میں آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے کے حصول میں خاطر خواہ پیش رفت ہو چکی ہیں۔ بہت سارے ممالک میں آزاد میڈیا کے پھیلاؤ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے عروج نے معلومات کے آزادانہ پھیلاؤ کو ممکن کر دکھایا ہے۔ بایں ہمہ دنیا بھر کے ممالک خواہ وہ جمہوری ہوں یا آمرانہ طرز حکومت کے حامل، ترقی یافتہ ہوں یا ترقی پذیر، ہر جگہ ذرائع ابلاغ کی آزادی نت نئی پابندیوں کے نرغے میں ہے۔
البتہ جمہوری ممالک میں صحافیوں کو دھمکیاں بالعموم جسمانی تشدد یا گرفتاری کی صورت میں نہیں دی جاتیں بلکہ اس کے لیے دوسرے طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور اپنے ناقدین کے خلاف کچھ افراد کو خرید کر ان کی نجی زندگی کے راز افشاں کر دیے جاتے ہیں اور انہیں سوشل میڈیا پر ہراساں کیا جاتا ہے اور پھر ان کے ذریعے سے اپنی مرضی کی تنقیدات اور پروپیگنڈا مہم چلائی جاتی ہیں۔ اسی طرح سے مقتدر طبقہ اکثر اوقات قومی مفاد، سیکورٹی اور غیر معمولی حالات کی آڑ میں ذرائع ابلاغ کی آزادی کو محدود کرتا ہے۔
اس وقت بین الاقوامی برادری کو متعدد بحرانوں کا سامنا ہے۔ جیسے سرحدی تنازعات اور دہشت گردی، سماجی و معاشی عدم مساوات، لوگوں کی صحت اور بہبود کا چیلنج اور پھر ماحولیاتی مسائل۔ دنیا کو جب اس وقت ان بحرانوں کا سامنا ہے اسی وقت جھوٹی اور غلط خبریں بھی عام پھیلائی جا رہی ہیں جس سے جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے ادارے متاثر ہو رہے ہیں۔ ان تمام نازک حالات اور خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے پریس کی آزادی، صحافیوں کا تحفظ اور درست معلوت تک رسائی دیگر انسانی حقوق کے حصول کے لیے مرکزی اہمیت رکھتے ہیں۔
صحافت ہمیشہ سے ایک پر خطر پیشہ رہا ہے۔ خاص طور پر اگر رپورٹنگ کا مقصد اقتدار میں رہنے والوں کی بدعنوانی اور جرائم کو بے نقاب کرنا ہو۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے مطابق 1993 سے آج تک دنیا میں 1587 صحافیوں کو قتل کیا گیا ہے۔ سب سے زیادہ صحافی عراق میں 201، پھر میکسیکو میں 152 اور تیسرے نمبر پر وطن عزیز پاکستان کا نام آتا ہے جس میں 91 صحافیوں کو جان سے مارا گیا ہے۔ اس سے واضح ہے کہ صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے پاکستان کی صورت حال پہلے سے زیادہ تشویش ناک ہے۔
قیام پاکستان کے بعد سے ہی سول سوسائٹی کی طرف سے آزادی صحافت کی جدوجہد شروع ہو گئی تھی جبکہ دوسری طرف حکمران اشرافیہ میڈیا پر وسیع پیمانے پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے مسلسل جبر روا رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 19 میں کہا گیا ہے کہ ”ہر شہری کو اظہار رائے اور صحافت کی آزادی کا حق حاصل ہو گا۔ تاہم یہ حق اسلام کی شان اور تحفظ پاکستان کے ساتھ مشروط ہے“ ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستان میں ذرائع ابلاغ کی آزادی پہلی بار 2002 میں ایک آمر کے دور حکومت میں پروان چڑھی۔
پاکستان میں اس وقت تقریباً 100 ٹی وی چینلز اور 200 سے زائد ریڈیو اسٹیشنز ہیں جو نسبتاً کم شرح خواندگی والی آبادی کو خبریں اور معلومات فراہم کرنے میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسی طرح سے اردو، انگریزی اور علاقائی زبانوں میں کئی روزنامے اور رسالے شائع ہوتے ہیں۔ انگریزی زبان کے اخبار جو کہ زیادہ تر شہری اشرافیہ کے لیے خاص ہیں، آزادی صحافت کی ایک مضبوط روایت قائم رکھے ہوئے ہیں۔
میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو قومی، علاقائی اور مقامی آوازوں کو یکجا کرتا ہے۔ یہ عوام کی طرف سے حکومت پر نگران ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر عوام کو ایجوکیٹ کرنے اور انہیں تفریحی پہنچانے کا بھی ذریعہ ہوتا ہے۔ آزادی صحافت کسی بھی جمہوریت کا ایک لازمی ستون ہے۔ ایک صحافی کی یہ پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی خوف اور لالچ کے بغیر عوامی مفاد کے معاملات پر رپورٹنگ جاری رکھے۔
آزادی صحافت کا دفاع ابتدائی دور میں انگلستان کے مشہور شاعر اور دانشور جان ملٹن نے 1644 میں اپنے ایک پمفلٹ کیا تھا۔ یہ پمفلٹ برطانوی پارلیمنٹ کی جانب سے ایک قانون کی منظوری کے جواب میں لکھا گیا تھا جس کے مطابق کسی بھی کتاب کی اشاعت سے پہلے حکومت سے اجازت لینا لازمی قرار دیا گیا تھا۔
آزادی صحافت کے لیے سب سے پہلے سویڈیش پارلیمنٹ نے 1766 میں قانون سازی کی۔ اس قانون نے حکومت سے مطبوعہ مواد کو سنسر کرنے کا اختیار سلب کر لیا اور سرکاری سرگرمیوں کو پبلک کرنے کو کہا گیا۔ مزید براں، اس قانون نے ہر شہری کو کسی بھی انتقامی کارروائی کے خوف کے بغیر معلومات کے اظہار کرنے اور انہیں پھیلانے کا حق دے دیا۔ یہی وہ قانون ہے جو بعد ازاں پوری دنیا میں جمہوریت کا سنگ بنیاد بن گیا۔
آزادی اظہار رائے کا حق تمام دوسرے انسانی حقوق کے لیے ایک لازمی شرط اور ان کے حصول کے لیے بنیادی محرک کی حیثیت رکھتا ہے۔ آج کا دن جس طرح حکومتوں کے لیے ایک یاددہانی ہے کہ وہ ذرائع ابلاغ کی آزادی کے حوالے سے اپنے وعدوں کو پورا کریں اس طرح میڈیا سے وابستہ افراد کو بھی یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اس پیشے کی آزادی سے متعلق مسائل اور اپنی پیشہ ورانہ اخلاقیات کا جائزہ لیں۔ میڈیا کی آزادی پر ہونے والے حملوں کا مقابلہ کریں اور ان صحافیوں کو خراج تحسین پیش کریں جنہوں نے اپنے فرائض منصبی نبھاتے ہوئے اپنی جان تک قربان کر دی۔
۔ ۔ ۔ ۔


