رنگین شام تلے! دل کے فلک پر اترے یاد کے کالے بادل

موسم کتنا اداس ہے، ہر شام، ہر صبح، ہر شب آبدیدہ ہے ہر طرف سے اداسیاں رقص کر رہی ہیں۔ ہماری زندگی کی کہانیاں اس افسردہ آنگن پر برما کی مظلوم بستی جیسی لگ رہی ہیں۔ ہم ایک ایسے سماج میں اپنے لمحات گزار رہے ہیں جہاں پورا سال دکھوں اور تکلیفوں کا موسم رہتا ہے جہاں ہر لمحہ آنسوؤں کی بارشیں برستی رہتی ہیں۔ دنیا وباؤں سے خوفزدہ ہو کر کچھ لمحوں کے لیہ اپنا کاروبار بند کرتی ہے، لیکن یہاں ہر لمحہ وباؤں کی زد میں گرفتار ہے۔ اس سماج کو نفرتوں کی وباؤں نے ذہنی اور دلی سطح پر بیمار کر دیا ہے، یہاں ہر دل میں لاک ڈاؤن لگا ہوا ہے۔ محبتوں کے خوبصورت شہر کرفیو کی لپیٹ میں ہیں، چوک چوک پر نفرتوں کی کلاشنکوفیں راج کر رہی ہیں اور ہر پریمی وجود ڈرا ہوا ہے، سہما ہوا ہے۔
یہاں دلوں کی رغبت روایتوں، رسموں اور سماج کے ضعیف نظریوں کے پتھراؤ سے زخمی ہوتی رہتی ہے۔ یہاں آزاد خیالی گناہ اور مثبت خیالات کا تشدد ثواب ہے، یہاں ہر دل یادوں کے سائے تلے جیتی ہے۔ یہاں جبر کی شادیوں کا رواج ہے، یہ محبتوں کے دشمن لوگ رسموں اور رواجوں کی چادر پہنا کر ہر وجود کا جبری ریپ کرواتے ہیں۔ یہ محبت سے خالی مائنڈ جانوروں جیسی زندگی گزارنے والے ہیں، ان کے آنگن میں پیار، امن اور انسانیت کی حیثیت ڈسٹ بن جتنی ہے۔
زمانے کی ان منحوس راہوں پر محبتیں نہیں ملتیں، دل خواہشات سے خالی رہتا ہے۔ یہاں ضرورتیں انسان کا وجود کہا جاتی ہیں اس کے ساتھ ذہنی غلامی کا تشدد نسلوں کو تباہ کر دیتا ہیں۔
یہ سماج منفی نظریات کے بندھن میں اتنا پھنس گیا ہے کہ یہاں محبتوں کی پرورش حقیقت سے الگ ہو کر یادوں کے احاطے میں کرنی پڑتی ہے۔
یادوں کے دو پس منظر ہیں، یادیں زندگیوں کی حرارت کو برقرار بھی رکھتی ہیں اور یادیں زندگانی کے سفر کو منزل سے آگے ختم شدہ بھی کر دیتی ہیں۔ یادوں کے سفر آسان نہیں ہیں، یادوں کے بغیر زندگی کی راہوں پر سفر کرنا بھی آسان نہیں ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ یادوں میں اک سرور ہوتا ہے، یادوں میں مٹھاس ہوتی ہے، یادیں چمن میں لرزتے پھولوں کی مانند ہوتی ہیں، یادیں سندھ کے کارونجھر پر گنگناتی فضاؤں جیسی ہوتی ہیں،
یادیں کینجھر کنارے نوری کے لیہ بیتاب تماچی ہیں، یادیں بہار کی پہلی بارش جیسی ہوتی ہیں، یادیں المنظر کے کنارے پر بلند حسین قہقہوں جیسی ہوتی ہیں، یادیں لب مہران کے سرخ ہونٹوں جیسی ہیں، یادیں سندھ ورسٹی کی مصروف سڑکوں پر گھومتی باغی کی محبوبہ ہیں، یادیں جامشورو کی چاندنی شب جیسی ہوتی ہیں۔
یادیں تھر کا وہ گرم صحرا بھی ہیں جہاں پانی دیوتا اور بارش محبوبہ ہوتی ہے، یادیں فلسطین کی اجڑی ہوئی دھرتی ہیں، یادیں افغانستان کی عورتوں پر پہنے نیلے برقعوں جیسی ہیں، یادیں ایوان میں سوئے ہوئے حکمرانوں جیسی ہیں، یادیں افریقہ کے جنگلات جیسی ہیں جہاں فلسفہ حیات کا وجود ابھی تک ننگا گھوم رہا ہے، یادیں قصور کی بے قصور زینب ہیں، یادیں مشرق کی عصمتوں کے ننگے سر جیسی ہیں، یادیں کربلا کی تپتی ریت ہیں، یادیں فرات کا وہ پانی ہیں جو اصغر کے ننھے ہونٹوں کو چومنے کے لیہ ابھی تک ترس رہا ہے، یادیں خیموں میں لگی آگ جیسی ہیں، یادیں خوشیوں کا چمن ہیں تو یادیں دکھوں کا ایک اداس نگر بھی ہیں۔
کیا ستم ہے کہ! ہماری زندگانی کا اہم عنصر آکسیجن سے زیادہ اپنی عمر کی وہ تمام یادیں ہیں جن کو دماغ نہیں بلکہ دل کی میموری میں محفوظ رکھ کر ہم جیتے ہیں۔ ہماری شامیں، ہماری صبحیں، ہماری راتیں یادوں کا ورد کرتے ہوئے گزر جاتی ہیں۔ ہمارا جنم بھی اک ایسی سماج میں ہوا ہے جہاں حقیقت سے مکالمہ کرنی کی اجازت نہیں ہے، ہمارے ذہن نفرتوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ زندگی کی ابتدا چیخ سے ہوتی ہے، یہ چیخ اس بات کی گواہ ہے کہ زندگی دراصل ایک گہرا زخم ہے، اس جہان میں ہماری موجودگی سوائے حادثے کے اور کچھ بھی نہیں۔ یہ چیخ فطری ہوتی ہے اس چیخ کو ختم کرنے کے لیہ ہمیں پیدا ہوتے وقت ہی ڈرایا جاتا ہے لیکن دنیا کے دوسرے سماج اس چیخ کو علم اور عمل کے ذریعے آزادی کی مسکراہٹ میں تبدیل کرتے ہیں۔
آؤ کسی رنگین شام یادوں سے بات کریں، سورج کے ڈھلتے سائے میں ہم یادوں سے ملاقات کریں۔ ایک رنگین شام میری دل کے فلک پر اترے تیری یاد کے کالے بادل، ایسے بادل جب برسنے لگے ان میں آنسوؤں کی بارش کے نمکین قطرے ٹپک رہے تھے۔
کیا میرے وجود کی یہ نمکین آب اتنی سستی ہے! تمہیں کیا پتا یہ نمکین پانی جب اندر کے دکھے ساگر سے سفر کر کے آنکھوں کے ساحل پر پہنچتا ہے تو کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ اس معاشرے کی رسم ہے کہ ہر برات پر دکھوں کی سوغاتیں تقسیم کی جاتی ہیں، اشکوں کی آب سے دکھوں کو ایک وجود سے دوسرے جسموں میں رخصت کیا جاتا ہے۔ فطرت کے اصول روایتوں کی رسی سے مکمل باندھے نہیں جا سکتے، سائنس کے اصول بھی فطرت کے اصولوں کا آئینہ ہی ہیں لیکن کہیں کہیں فطرت اور سائنس کا تضاد ہے لیکن وہاں نتیجہ انتہائی خراب ہے۔ تم سماج کو جب فطرت کا مخالف بنا کر حقیقت کا چہرہ چھپاؤ گے تو معاشرے کے ڈھانچے میں فرسٹریشن کے سوا اور کچھ نہیں بچے گا، اور فرسٹریشن کے مرض میں مبتلا سماج میں ایجادات، جدت، رشتے اور انسانی اقدار کوئی معنی نہیں رکھتے۔
یادیں فطرت کا حصہ ہیں لیکن یادوں کا باب انسان کی زندگی میں پہلے سے نہیں ہوتا بلکہ یہ چیپٹر انسان خود لکھتا ہے۔ خوبصورت یادوں کے علاوہ ہر یاد ستاتی ہے، ہر یاد رلاتی ہے۔ اے سماج کے باشندوں، اے سفر یاد کے ہم نشینوں آؤ عہد کریں، آؤ رنگین شام تلے کسی ہنستے ہوئے چمن میں بیٹھ کر دکھوں کے سارے درخت کاٹ کر پیار کے نئے پودے لگائیں۔ محبت کی موسیقی میں آزادی کے نغمے گا کر رقص کریں، دکھی یادوں کے مینار مسمار کر کے خوشیوں بھرے لمحوں کو ایجاد کریں۔

