انسانی حقوق جمہوری عمل سے ملتے ہیں!


دنیا کے ہر ملک میں شہریوں کے کچھ حقوق اور فرائض ہوتے ہیں۔ ان تمام حقوق و فرائض کو پورا کرنے کے لیے دنیا بھر کے مختلف ممالک پہلے سے ہی اپنی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ منصوبہ بندی کا ایک مطلب یہ ہے کہ پیداوار کے عوامل کی بہترین تنظیم سازی کی جائے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ آبادی کے تناسب سے جو پیداوار مطلوب ہے وہ کتنی ہو گی اور کس طرح سے تقسیم ہو گی۔ یہ تمام تر فیصلے قبل از وقت ہونے چاہئیں کیونکہ یہی چیز اس کو سالانہ بجٹ سے ممیز کرتی ہے۔

سالانہ بجٹ بھی تو آیا ہی چاہتا ہے۔ اگر معاشی ترقی میں پائیداری نہیں ہو گی تو معاشی بحران پیدا ہو گا۔ ایسے ہی حالات کا سامنا ان دنوں ہمیں نجانے کئی دہائیوں سے ہے۔ دوسری اہم بات حقوق سے زیادہ فرائض کی ادائیگی کی ہے۔ فرض نبھانا معاشرے کا سنہری اصول ہے۔ پاکستان بن جانے کے بعد سے لے کر آج تک انسانی حقوق کا حصول مشکل ہی رہا۔ انسانی حقوق ہیں جو قدرت نے ہماری جبلت میں رکھے ہیں۔ ان حقوق کے حصول کے بغیر ہم انسانوں کی طرح زندگی نہیں گزار سکتے۔

یہ تمام حقوق کسی بھی قومیت، مذہب، نسل، حسب نسب، عمر اور صنف سے مبرا ہیں۔ سماج میں موجود یہ حقوق عزت، احترام، آزادی، مساوات اور انصاف پر مبنی ہوتے ہیں۔ موجودہ حکومت میں نظام ناکام ہو چکا ہے اور سیاست میں تقسیم صاف دکھائی دے رہی ہے۔ سیاست کے پھٹیچر میدان میں سب کچھ ہو رہا ہے ما سوائے عوام کے حقوق کی فراہمی کے لیے۔ پی۔ ڈی۔ ایم آئین کا روگ یوں الاپ رہی ہے جیسے کہ وہ ہر کام آئین کے مطابق ہی کر رہے ہیں۔

اب تازہ ترین واقعے کی ہی دیکھ لیجیے۔ ”کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے“ کے مصداق پی۔ ڈی۔ ایم اور اپوزیشن والے مذاکرات کی میز پر بیٹھ ہی چکے تو اچانک چوہدری پرویزالہٰی کو گرفتار کرنے لیے دھاوا بول دیا۔ گھر کی مستورات اور ملازمین کے ساتھ اس طرح کی بد تمیزیاں پہلے دیکھنے کو نہیں ملیں۔ اس پر تشدد عمل کے بارے میں وزیر داخلہ سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ کو اس کے خلاف ایکشن نہیں لینا چاہیے تو ان کا جواب حیران کن تھا کہ پنجاب نگران حکومت اور پنجاب پولیس براہ راست وزارت داخلہ کے ما تحت نہیں بلکہ وزیراعظم کے انڈر بھی نہیں۔

رانا ثناااللہ نے مزید کہا کہ جب چوہدری پرویزالٰہی وزیراعلیٰ تھے تو یہی اینٹی کرپشن محکمہ تھا جس نے میرے بھی باقاعدہ وارنٹ گرفتاری جاری کیے اور ایک ٹیم اسلام آباد تھانے میں بھیجی گئی کہ ہمیں پولیس کی مدد دیں تاکہ ہم وزیر داخلہ کو گرفتار کر سکیں۔ رانا ثنا اللہ کی اس بات سے کہیں بدلے کی بو تو نہیں آ رہی۔ نہیں! نہیں! بالکل بھی نہیں! جب ریاست کے قانون میں جوڑ توڑ ہو، افواہیں اور پروپیگنڈے جنم لے رہے ہوں تو صورت حال مشکل ہو جاتی ہے۔

اداروں کی تنگ نظری جمہوریت کی گردن پر چھری بن کر چلتی ہے۔ آخر یہ نفرت جو بغاوت میں بدلتی جا رہی ہے اس کے بیج کون بو رہا ہے۔ اب تھوڑا سا ذکر معیشت کی عالمگیریت کا کر لیتے ہیں۔ دنیا کب کی عالمگیر گاؤں بن چکی ہے۔ دنیا بھر میں آزادانہ تجارت شروع ہو چکی ہے۔ مگر ہم ہیں کہ مقابلے کی فضا کے لیے تیار ہی نہیں ہیں۔ پاکستان کی معاشی بدحالی کا یہ حال ہے کہ ہم دنیا کی نظر میں تماشا اور ہاسا بن چکے ہیں۔ معاشی منصوبہ بندی کے لیے ماہر معاشیات کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارے ملک میں کیا کیا وسائل موجود ہیں اور نیز ہمیں کیا کچھ درکار ہے؟

معاشی ترقی کے لیے بیروز گاری کو قابو میں رکھنا ہو گا۔ جی۔ ڈی۔ پی میں مناسب مثبت نشوونما اور مجموعی پیداوار میں اضافہ کرنا بھی ضروری اقدام ہے۔ لیکن پتہ نہیں کب، کیسے اور کہاں سے ہمارے ملک میں نفرتوں اور تقسیم کے بیج بوئے گئے۔ آخر کو ہمارے ملکی سلامتی کے ادارے کیا افیون کھائے بیٹھے ہیں؟ افسوس ہے کہ نفرت کا کوئی وطن اور مذہب نہیں ہوتا۔ نفرت نہ اپنوں کو دیکھتی ہیں نہ غیروں کو یہ تو اپنے بس بھاری بھرکم پاؤں رکھ کر راستے میں آئی ہر چیز کو روندتی چلی جاتی ہے۔

عوام مصیبت کی زندگی گزارتے ہوئے تکلیف اور ضرورت سے نڈھال ہو کر رہ جاتے ہیں۔ لیکن حکمران مکر و فریب سے کہتے ہیں کہ گزشتہ حکومت نے ستیا ناس کر دیا ہے۔ عوام سے ناروا سلوک یوں کیا جا رہا ہے جیسے یہ انسان نہیں بھیڑوں کا گلہ ہیں۔ حکمرانوں کے جھوٹے وعدے دل کے زخموں کو چھیڑ دیتے ہیں۔ آخر میں کچھ ذکر بلاول زرداری کا کہ وہ انڈیا کیا لینے گیا ہے۔ 2016 میں سارک کانفرنس کے لیے انڈیا نے یہ کہہ کر پاکستان آنے سے انکار کر دیا کہ پاکستان ایک دہشت گرد ملک ہے۔

کرکٹ میچ کھیلنے کے لیے انڈیا یہاں نہیں آنا چاہتا۔ مگر افسوس بلاول کو نجانے کون سا عشق ستا رہا ہے۔ عوام بلاول کے اس دورے کو مسترد کرتی ہے۔ حیرت ہے کہ دفتر خارجہ نے آخر کیونکر اس دورے کو سراہا ہو گا۔ جب تک حکومت اور عوام ہم آہنگ نہیں ہوں گے ملک ترقی کی شاہراہ پر نہیں چڑھ سکے گا۔ بے کار پرانی تھکڑ ریل کی طرح بوگیاں ادھر ادھر لڑھکتی رہیں گی۔ اتحادی حکومت اور اپوزیشن اگر مذاکرات کی گول میز پر بیٹھ ہی چکے ہیں تو مذاکرات کی کامیابی ہی میں عوام کا سکون مضمر ہے۔

دو صوبوں کی اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد الیکشن کا معاملہ عدالت عالیہ اور حکومت کے درمیان محاذ آرائی کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ دستور پاکستان میں اسمبلیوں کے ٹوٹنے اور الیکشن سے متعلق واضح شقیں موجود ہیں۔ مگر نجانے کیوں الیکشن جیسے جمہوری عمل پر ایک ذاتی سا ڈیڈ لاک کیوں لگایا جا چکا ہے۔ اسمبلیوں کی تحلیل کے نئے الیکشن کا مرحلہ آئین کے مطابق طے شدہ مدت میں ہو جانا چاہیے مگر اتحادی حکومت کا میں نہ مانوں کا رویہ اور ہٹ دھرمی سے معاملہ انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ معاشرے اور قومیں انسانی حقوق کی علمبرداری ہی سے ترقی حاصل کرتی ہیں۔ جب تک جمہوریت کی ریل عوام کی بچھائی ہوئی پٹریوں پر نہیں چڑھے گی انسانی حقوق پامال ہوتے رہیں گے۔ انسانی حقوق جمہوری عمل سے ہی ملتے ہیں۔

Facebook Comments HS