( 1 ) طارق عزیز، ایک کثیرالجہت شخصیت


طارق عزیز ( 28 اپریل: 1936 ء|وفات: 17 جون 2020 ء) ممتاز اداکار، صدا کار، ادیب، شاعر، کالم نویس اور نیوز کاسٹر طارق عزیز پی ٹی وی کے پروگرام نیلام گھر کے حوالے سے سب سے زیادہ جانے جاتے ہیں۔ جبکہ بلا شبہ بطور شاعر بھی ان کو ممتاز مقام حاصل ہے طارق عزیز عمر کے لحاظ سے سید فخرالدین بلے سے محض چھ برس اور بائیس دن چھوٹے تھے لیکن اس کے باوجود ان کو ہمیشہ فخرالدین بلے کا بے حد احترام کرتے دیکھا گیا ہے۔ طارق عزیز 28 اپریل 1936 ء کو جالندھر میں پیدا ہوئے۔

ابتدائی تعلیم ساہیوال سے حاصل کرنے کے بعد لاہور چلے گئے۔ اورینٹل کالج لاہور میں اعلیٰ تعلیم کو جاری رکھتے ہوئے اپنے فنی کیرئیر کا آغاز ریڈیو پاکستان سے کیا۔ جب پاکستان ٹیلی ویژن نے نومبر 1964 ء میں لاہور سے اپنی نشریات کا آغاز کیا تو طارق عزیز بھی پی ٹی وی سے وابستہ ہو گئے۔ انہیں پی ٹی وی کے پہلے نیوز کاسٹر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ ستر کی دہائی میں پی ٹی وی لاہور سے نیلام گھر کا آغاز ہوا جو تقریباً چالیس برس سے نشر ہوتا رہا۔ بعد ازاں اس پروگرام کا نام بدل کر طارق عزیز شو رکھا گیا، پھر بزم طارق عزیز کے نام سے جاری رہا۔

ٹیلی ویژن کے ساتھ جناب طارق عزیز نے فلم انڈسٹری میں بھی قدم رکھا اور متعدد فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ ان کی پہلی فلم شباب کیرانوی کی انسانیت تھی جس میں انہوں نے زیبا، وحید مراد اور فردوس کے ساتھ کام کیا۔ ان کی دیگر مشہور فلموں میں ’سالگرہ‘ ، ’قسم اس وقت کی‘ ، ’کٹاری‘ اور ’چراغ کہاں روشنی کہاں‘ شامل ہیں۔ طارق عزیز نے کالم نگاری بھی کی۔ ان کے کالموں کا ایک مجموعہ ”داستان“ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔

انہیں سیاسی، سماجی، فلمی، ادبی اور سپورٹس کی مشہور شخصیات کے انٹرویوز کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ طارق عزیز نے عملی سیاست میں بھی قدم رکھا اور ستر کی دہائی میں پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد پیپلز پارٹی کے لیڈروں کی سیاست سے دل برداشتہ ہو گئے اور پی پی پی سے اپنی وابستگی ختم کر دی۔ بعد ازاں پاکستان مسلم لیگ میں شامل ہو گئے۔ 1997 ء میں لاہور سے ایم این اے منتخب ہوئے اور وفاقی وزیر بھی رہے۔

جب ڈاکٹر وزیر آغا نے اپنی تصنیف مجید امجد کی داستان محبت کا مسودہ سید فخرالدین بلے کو یہ کہہ کر پیش کیا کہ میں نادم ہوں کہ اس منصوبے کی تکمیل میں تاخیر ہوئی لیکن اللہ کا شکر ہے کہ یہ کام تاخیر سے ہی مگر پایۂ تکمیل کو تو پہنچا۔ بعد ازاں اس کتاب کو سید فخرالدین بلے نے اپنے قائم کردہ اشاعتی ادارے معین اکادمی لاہور کے زیر اہتمام زیور طباعت سے آراستہ کیا۔ ایک روز برادرم خالد احمد اور ڈاکٹر اجمل نیازی جناب طارق عزیز کے ہمراہ اچانک سید فخرالدین بلے کی اقامت گاہ پر پہنچے تو اتفاق سے میں گھر سے باہر ہی کھڑا تھا اور ڈاکٹر حسن رضوی کو رخصت کرنے ہی باہر تک آیا ہوا تھا اور میری نظر ان معزز مہمانان گرامی پر پڑی وگرنہ تو شاید میں حسن رضوی کو ان کے گھر تک ہی رخصت کر کے آتا کیونکہ ان کی رہائش گاہ ہمارے گھر سے چند قدم کے فاصلے پر ہی تھی۔

میں نے بہت تعظیم سے مہمانان گرامی کا استقبال کیا تو طارق عزیز صاحب نے دریافت فرمایا کہ بلے صاحب تشریف رکھتے ہیں تو میں نے عرض کیا جی بالکل آئیے آئیے برادر محترم خالد احمد اور اجمل نیازی نے کہا شکر ہے کہ آپ سے ملاقات ہو گئی کیونکہ ہم طارق عزیز صاحب سے راستے میں یہی کہہ رہے تھے کہ اگر فخرالدین بلے صاحب نہ بھی ملے تو ہمارا بھائی ظفر معین ہمارا مسئلہ حل کردے گا۔ جب مہمان گھر کے اندر قافلہ پڑاؤ ہال میں تشریف لے آئے تو برادر محترم اجمل نیازی نے کہا میرے بھائی ظفر معین بلے آواز جرس کا مجید امجد نمبر اور معین اکادمی کی شائع کردہ مجید امجد کی داستان محبت جو آپ نے عطا کی تھی غلطی سے اسرار زیدی اپنے ساتھ لے گئے، ان سے فون پر بات ہوئی ہے وہ دو تین روز تک مجھے کسی کے ہاتھ بھجوا دیں گے۔

میں نے جب طارق عزیز صاحب کو بتایا تو انہوں نے کہا مجھے تو آج ہی درکار ہے، آپ طارق عزیز صاحب کو آواز جرس کے مجید امجد نمبر کا ایک شمارہ اور مجید امجد کی داستان محبت کا ایک نسخہ فراہم کروا دیں۔ میں نے بصد احترام عرض کیا کہ ایک کیوں، آپ دس نسخے لیجے، میں ابھی اپنی بات مکمل بھی نہیں کر پایا تھا کہ قافلہ پڑاؤ ہال میں قبلہ سید فخرالدین بلے بھی تشریف لے آئے اور انہوں نے برادرم خالد احمد، ڈاکٹر اجمل نیازی اور طارق عزیز صاحب کا پر تپاک خیر مقدم کیا اور طارق عزیز سیے کہا کہ آپ آج کیسے راستہ بھول گئے تو برادرم اجمل نیازی نے کہا کہ بلے بھائی دراصل طارق عزیز صاحب کو آج مجید امجد کی محبت یعنی کہ آپ کے پبلشنگ ہاؤس معین اکادمی کی شائع کردہ کتاب مجید امجد کی داستان محبت اور آپ کی زیر ادارت شائع ہونے والا ہفت روزہ آواز جرس کا مجید امجد نمبر کھینچ لایا ہے۔

اسی اثنا میں ہم نے کتاب کے چند نسخے اور آواز جرس کے چند شمارے لاکر طارق عزیز صاحب کے قریب رکھی ہوئی سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیے۔ جناب طارق عزیز نے ڈرائنگ روم کی دیوار پر آویزاں آنس معین کے پورٹریٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مجھے مخاطب کیا اور کہا ظفر معین بلے یہ جو آنس معین کی تصویر ہے بہت خوبصورت ہے اس کے نیچے آنس معین کا یہ شعر بھی لکھوا دیں کہ

حیرت سے جو یوں میری طرف دیکھ رہے ہو
لگتا ہے کبھی تم نے، سمندر نہیں دیکھا

طارق عزیز کا اتنا کہنا تھا کہ سب ہی احباب نے اپنے حافظے میں محفوظ آنس معین کے اشعار سنانے شروع کر دیے اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے موضوع گفتگو مجید امجد سے آنس معین ہو گیا۔ دیر گئے آنس معین کے حوالے سے احباب گرامی نے بھرپور اور سیر حاصل گفتگو فرمائی۔ اس کے بعد سید فخرالدین بلے نے برادر خالد احمد اور ڈاکٹر اجمل نیازی سے گزارش کی آپ اپنا اپنا کلام عطا فرمائیے تاکہ پھر عزیزم طارق عزیز سے ان کا کلام سنا جائے، ویسے بھی آج یہ کئی روز بلکہ ڈیڑھ دو ماہ گزرنے کے بعد قابو آئے ہیں۔ اس شعری نشست کے آغاز میں ڈاکٹر اجمل نیازی، برادر خالد احمد اور پھر جناب طارق عزیز سے ان کا پنجابی اور اردو کلام سنا گیا۔ ان کے مشہور زمانہ اشعار میں سے ایک شعر یہ بھی ہے

ہم وہ سیاہ بخت ہیں طارق، کہ شہر میں
کھولیں دکاں کفن کی، تو سب مرنا چھوڑ دیں

کلام سنانے کے بعد طارق عزیز نے سید فخرالدین بلے سے مٹی کا قرض سنانے کی فرمائش کی تو جناب خالد احمد نے کہا کہ مٹی کا قرض کے بعد وہ غزل کہ جس کا شعر ہے

دل کی دھڑکن اگر نہ بند ہوئی
کیسے گزرے گی زندگی چپ چاپ
(جاری ہے )

Facebook Comments HS