آئیے بے فیض باغیچوں کو با فیض بنائیں


پرانے وقتوں کی بات ہے ایک قصبہ تھا۔ جہاں زرخیز زمینیں آہستہ آہستہ گھٹنے لگی تھیں۔ وہاں کے رہنے والے دلیر اور محنتی تھے۔ لیکن سالوں کے بدلتے چہرے پر وہ بزدلی اور کسل مندی کا شکار ہوتے گئے۔ وہ جو ہر لمحہ شکر گزار رہتے تھے۔ اب ہر دم شکوے، گلے، شکایتوں میں مبتلا رہنے لگے۔ جو خود اگانے والوں میں سے تھے۔ اب اناج حاصل کرنے کو پورا پورا دن لمبی قطاروں میں لگے رہتے۔ بلکہ ماں، بہن، بیویوں تک کو آگے کرتے تاکہ جلد شنوائی ہو۔

جہاں گھر گھر میں پھلواری اور سبزی کی کیاریاں ہوتی تھیں۔ وہاں اب دھنیا، پودینہ بھی پورے محلے میں ڈھونڈنے سے نہیں ملتا۔ اور نہ کرنے کے بہانے بے شمار۔ مثلا:

جگہ کم ہے۔
کوئی کرنے والا نہیں۔
بڑا مشکل کام ہے۔
دو چار ٹماٹر، لیموں اگا بھی لئے تو کیا معرکہ سر کر لیا؟

اس سے دل تو خوش ہو سکتا ہے لیکن پانچ افراد کا کنبہ پیٹ نہیں بھر سکتا؟ تو پھر اس سارے کشٹ سے کیا فائدہ؟

اپنے عوام کو خوراک کی فراہمی حکومتوں کا کام ہے۔ ہم پیسے سے سب خرید سکتے ہیں؟ بڑے باغیچوں والوں کا دعوٰی۔ اس لئے ان کے لان برینڈڈ پودوں اور پھولوں سے تو سج سکتے ہیں لیکن روزمرہ کی دال، سبزی بیچنا بے کار لگتا ہے۔

تو آئیں آج عوام، حکومت اور مختلف کرتا دھرتاؤں کے ایسے سارے بہانوں پر بات کرتے ہیں اور ان سے متعلقہ کم قیمت، نسبتاً مفت اور آسان تجاویز پر غور کرتے ہیں، جس میں پرانے دور کا یہ شہر تھا:

سب سے پہلے اس خود ترسی سے باہر آ جائیں کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے یا آپ کے لئے سب کچھ کسی اور نے کرنا ہے۔

دوسرا، خود کو سستی اور کاہلی کی کالی چادر سے نکالیں کہ کچھ پانے کے لئے، محنت کرنی پڑتی ہے۔

یہ بات سمجھ لیں کہ صرف دیہاتوں کی ذمہ داری نہیں کہ شہروں کو خوراک مہیا کریں۔ بلکہ ہر شہری کو بساط بھر اپنا حصہ اس کاوش میں ڈالنا پڑے گا۔

موسمیاتی تغیر، کھاد کی بروقت فراہمی نہ ہونا، قدرتی آفات، بروقت اقدامات کا فقدان، زرعی زمین کا عمدا قتل وغیرہ وغیرہ کے جو اثرات خوراک کی کمی کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں، صرف ہمارے کسان اس سے نہیں نمٹ سکتے۔ ہم سب کو ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونا پڑے گا۔

یہ حصہ داری شہروں کے رہائشیوں، ہاؤسنگ سوسائٹیز کے مالکان، شہری منصوبہ بندی کے اداروں سبھی کو کرنا پڑے گی۔

تو جب آپ ذہنی طور پر اپنے کردار کو سمجھ لیں تو ایسے ممکنہ سارے حل عملی طور پر اپنائیں :
اگر گھر میں لان ہے تو اس کا آدھا حصہ لازمی موسمی سبزی اگانے کو رکھیں۔

زمیں نہیں ہے تو گملوں میں اگائیں۔ کیا ہے جو آپ ان میں نہیں اگا سکتے؟ سبز مرچیں، ٹماٹر، پیاز، لہسن، ادرک، آلو، بینگن، توری، بھنڈی اور جو بھی آپ لگا سکیں۔

بے رونق، کاٹھ کباڑ سے اٹی چھتوں کو کار آمد اور با مقصد بنائیں۔

گھر کے ’کریکڈ‘ جگ، کپ، بالٹیاں، ٹب، پھل، سبزی کی ٹوکریاں سب کو استعمال میں لائیں۔ مٹی ڈالیں۔ اور کسی چیز کے بیج ڈال دیں۔

سبزی کے سستے کریٹ اور بڑی پیکنگ سے نکلے تھرمو پور کو بھی لے آئیں اور بوئیں جو سبزی بیچنے کا دل ہو۔

رہائشی پلاٹوں میں خالی پلاٹ سبزی لگانے کے لئے پروموٹ کریں۔ اور جو رہائشی یہ ذمہ داری لے۔ اس کے لئے پانی، صفائی، کیبل، انٹرنیٹ کے سروس چارجز میں کٹوتی کا اعلان/انسینٹیو دیں۔ اس سے خالی پلاٹ باقی رہائشیوں کے لئے کوڑے دان بننے سے بچ جائیں گے اور آپ مکھیوں، مچھروں، انواع و اقسام کی بدبو اور حشرات الارض کے شر سے بھی بچ سکیں گے۔

یا پھر ہاؤسنگ اسکیمز کی انتظامیہ ان خالی پلاٹوں کو بوڑھوں، ریٹائرڈ لوگوں، خواتین اور بچوں کے لئے مختص کر دے کہ وہ آئیں اور سبزیاں اور پھل کاشت کریں۔ اس سے وہ پنشن پر آنے والے خواتین و حضرات جو روز کا اخبار پڑھ پڑھ کر اوب چکے ہیں۔ جی اٹھیں گے۔ جنہیں آپ نے ’ویلے بابے‘ زبردستی بنا لیا ہے۔ ان کے وقت کو مفید مصرف مل جائے گا۔ وہ خواتین جو ساری زندگی خوشی، رضا اور مزے کے بغیر اپنی صبح سے شام کچن اور گھر کی باسی دیواروں میں گزارتی ہیں، مسرت کے سانس لیں گی۔ اور جو بڑھتے ہوئے موبائل زدہ بچے ہیں وہ ان کو یہ پیغام ملے گا کہ خود کرنا ہے تو کھانا ملنا ہے۔ آپ دوسروں لفظوں میں ’سکلڈ لیبر‘ تیار کر رہے ہیں۔

رہائشی کالونیوں کی مرکزی سڑکوں کے میڈیئنز کو کنگھی پام، ہینڈ پام، کورن کارپس، اور اسی طرح کے فیشن زدہ، بے فائدہ پودوں سے آراستہ کرنے کی بجائے ان پر پھل دار درخت لگائیں مثلاً انار، امرود، انگور، آڑو، شہتوت وغیرہ۔ تاکہ سایہ اور پھل مفت وافر ہو۔ اور نیچے کی طرف نیچی سطح والی سبزیوں سے لینڈ اسکیپ کریں۔ جیسے پالک، دھنیا، پودینہ، پارسلے، بند گوبھی، مرچ، شملہ مرچ اور بہت کچھ۔ رنگ اور اونچائی کے اعتبار سے متوازن اور دلکش انداز میں لگائیں۔

بالکل اسی طرح ہر گلی میں ایک قسم کا پھل دار پودا لگائیں۔ اور گلی کا نام اسی درخت پر رکھیں۔ جیسے کہ امرودوں والی گلی، بیروں والی گلی، جامنوں والی گلی، آموں والی گلی، کچنار والی گلی۔

اور یہی طرز شہر کی کشادہ سڑکوں پر اپنائیں۔ اور ان سے ملحقہ دکانیں، اسکولز، شاپنگ مالز، بنک، اور دوسرے کاروبار کرنے والوں کو باحسن اس تحریک کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

تمام سرکاری اور بڑے غیر سرکاری اسکول جن کے پاس زمین کی کمی نہیں۔ وہاں اگر موسم کی سبزی کاشت کرنے کو کوئی جگہ مختص نہیں۔ اس کے کھیل کے میدان اور عمارت کے اندر، باہر اگر پھل دار درخت نہیں تو بڑی زیادتی ہے۔ ان چیزوں کا موجود ہونا ’لائیو لیب‘ کا درجہ رکھتا ہے۔ جس کو چلانا، دیکھ بھال کرنا بھی طلبا، اساتذہ، اور انتظامی ملازمین کے ذریعے ہو گا۔

ساتھ ساتھ عمودی باغبانی کے کونے بھی مقرر ہوں جسے سجانے اور چلانے کو بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں، ری سائیکلنگ کے طریقوں کو بروئے کار لایا جائے۔ وگرنہ ہر سال بچوں سے پودے منگوا کر، موسم، وقت، جگہ کا خیال کیے بغیر مالیوں سے بنا سوچے سمجھے کچھ پودے زمین میں گاڑنے سے ’ہفتہ شجرکاری‘ کے نعرے کی تسکین تو ہو سکتی ہے۔ دیرپا نتائج صفر ہی رہیں گے۔

قطرہ قطرہ مل کر دریا بنتا ہے، اس فارمولے کو گھروں کے باہر گیٹ کے ساتھ جو سبز لان بناتے ہیں، اس کے لئے لازم و ملزوم کر لیں۔ اور بجائے ہر گھر اس محدود جگہ پر مٹھی مٹھی بھر ساری سبزیاں اگائیں۔ اس سے کہیں بہتر ہے کہ ایک گلی اور محلے میں ہر گھر اس جگہ پر صرف ایک سبزی بیچے۔ یعنی اختر صاحب نے پودینہ لگایا تو خالد صاحب نے پھول گوبھی، حمیدہ بیگم نے کدو کی بیلیں چڑھائیں تو احمد میاں نے توری کی۔ خوشبو صاحبہ نے پالک کی اقسام بوئیں تو ارشد صاحب نے بھنڈی کے پودے کھڑے کر لئے۔

مطلب جو بھی ہو وہ پورے محلے کو کافی ہو۔ اور جس کو جب چاہیے وہ توڑ لے یا باریاں لگا لیں۔ ترتیب، توازن اور رنگوں کے امتزاج کا خیال رکھتے ہوئے اگر ایک محلے کو اس طرح بڑھایا جائے۔ تو نہ صرف خوبصورتی پیدا ہو گی۔ بلکہ سماجی تعلقات کو بھی جلا ملے گی۔ اور نامیاتی، گندے پانیوں اور کیمیکل اسپرے سے پاک خوراک بھی ہوگی۔

یوں مفت سبزی، پھل بھی ہو گا اور آبادیوں کے استعمال شدہ پھلوں، سبزیوں کے چھلکے، چائے کی پتی، انڈے کے خول سب کھاد کے طور دوبارہ زمین میں دب کے اس کی زرخیزی کا باعث بنیں گے۔ اور کم از کم ابلتے کوڑے دانوں، تعفن زدہ غیر تعمیر شدہ پلاٹوں اور اور قیمتوں کی گرانی سے تو چھٹکارا ملے گا۔

ویسے لگتا تو کافی شیخ چلی کا خواب ہے۔ کہ ادھر آنکھ کھلی، ادھر خوابوں کی گٹھڑی زمین بوس۔ لیکن صرف انھی کے لئے جو ’شیخ چلی‘ ہیں۔ آسانی پسند کرنے والے۔ جنہیں پوستی بننا تو قابل قبول ہے لیکن محنت کرنا نہیں۔ ورنہ اوپر دی گئی تجاویز میں ایسا کیا ہے جو ناممکن ہو؟

Facebook Comments HS