عدم برداشت اور سیاست
عام شہریوں کی عدم برداشت حقیقی سیاست کے لیے اہمیت رکھتی ہے یہاں تک کہ اگر سیاسی جماعتوں کی پالیسی کے نتائج میں عوام کے لئے مضبوط تعلق موجود نہ ہو۔ ثقافتی عدم رواداری انفرادی شہریوں کی آزادی کو محدود کرتی ہے۔ اس بات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے کہ لوگ سیاسی آزادی کو کس طرح سمجھتے ہیں، رواداری اور آزادی کو جوڑنے والے کئی مفروضے تلاش کیے جاتے ہیں۔ ایک قومی سروے کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ رواداری اور آزادی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
جو لوگ اپنے آپ کو سیاسی طور پر اظہار خیال کرنے میں آزاد محسوس نہیں کرتے ہیں وہ دوسروں کے ساتھ عدم برداشت کا شکار ہوتے ہیں، کم متضاد ساتھی گروپس اور کم روادار انسان ہوتے ہیں، اور کم روادار کمیونٹیز میں رہتے ہیں۔ بالآخر، پاکستانی سوسائٹی میں بڑے پیمانے پر سیاسی عدم برداشت کی اہمیت یہ ہے کہ یہ مطابقت کا ایک ایسا کلچر قائم کرتا ہے جو بہت سے اہم طریقوں سے انفرادی سیاسی آزادی کو محدود کرتا ہے۔
سیاسی رواداری ایک جمہوری قدر ہے جس کا اکثر عوامی رائے اور جمہوریت کے درمیان تعلق میں دلچسپی رکھنے والوں نے مطالعہ کیا ہے۔ اس کے باوجود زیادہ تر تحقیقی کوششیں نسبتاً جمہوری حکومتوں میں کی گئی ہیں۔ نسبتاً مطلق العنان حکومتوں میں سیاسی رواداری کے بارے میں بہت کم جانا جاتا ہے جس کے نتیجے میں سیاسی عدم برداشت کافی حد تک پھیل جاتی ہے۔ مزید برآں، عدم برداشت کی چیزوں پر کم توجہ مرکوز کی جاتی ہے جبکہ زیرو ٹالرنس کی پالیسی کو بڑے پیمانے پر سیاسی اور عوامی مقبولیت حاصل بھی نہیں ہوتی۔
پاکستانی سیاست میں نئی سیاسی، مذہبی، لسانی، اور علاقائی گروپوں کے داخلے پر پاکستانی سیاسی نظام پر مختلف نتائج سے جمہوریت کے اشرافیہ کے نظریہ کے عمومی اطلاق کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں : پہلا۔ خاص طور پر زیادہ خطرے اور اعتراض کی صورت حال میں سیاسی اشرافیہ اپنی رویہ رواداری میں عام لوگوں سے زیادہ مختلف نظر آتے ہیں، اور خود کا ذکر عوام کی بجائے معتبر سیاسی اشرافیہ میں کرتے ہیں۔ دوسرا، سیاسی طور پر متعصبانہ فیصلہ سازی کے عمل میں داخل ہوتے ہیں اور رواداری کے بجائے عدم برداشت کی حرکیات پیدا کرتے ہیں۔ سیاسی اشرافیہ کے گروہوں نے ایک دوسرے کو روکا نہیں، بلکہ مزید سیاسی گروہوں کے وجود میں آنے کے لئے چھوٹے چھوٹے گروپس کو تعاون دیا۔ اور تیسرا، سیاسی گروہوں کا عوام میں عدم انتشار محدود کرنے کے اقدامات کرنا اشرافیہ کا معاملہ تھا، جس پر پاکستانی سیاست میں گراں قدر اقدامات نہیں اٹھائے گئے جس کے نقصانات آج معاشرے میں عدم برداشت اور عدم استحکام کی صورت میں نظر آتے ہیں اور اس سیاسی عدم استحکام کی صورتحال بنا کر سیاسی جماعتوں نے اپنے ایجنڈے آگے بڑھائے ہیں اور ملک میں مجموعی عدم استحکام کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لئے زیادہ اقدامات بھی نہیں کیے جس کے نتیجے میں معاشرہ اس وقت عدم برداشت اور سیاسی و معاشرتی اخلاقی اقدار سے عاری ہوتا جا رہا ہے لوگوں کے رویوں میں صبر و و تحمل اور قوت برداشت نہیں ہے رویوں میں شدت پسندی اور عدم برداشت اس حد تک غالب آچکے ہیں کہ ہمارے رویوں اور اخلاقی اقدار کی گراوٹ کے باعث احترام آدمیت اور حقوق انسانی بھول چکے ہیں موجودہ صورتحال ماضی کی نسبت بالکل بر عکس ہے آج لوگ اظہار رائے کا سلیقہ بھول چکے ہیں آج کے مباحثوں میں شدت پسندی ’جارحانہ پن‘ غصہ ’عدم برداشت اور گالی گلوچ کا کلچر نمایاں ہے
سیاسی عدم برداشت، تناؤ اور نفرت کی فضا پیدا کرنے میں آج کے جدید دور میں سوشل میڈیا نے جو کردار ادا کیا ہے۔ اس کی آج سے کچھ عرصہ پہلے تک کوئی نظیر نہیں ملتی
سیاسی مخالفت میں نفرت اور رویے میں شدت پسندی نے سیاست میں عدم برداشت کا جس کلچر نے فروغ پا لیا ہے۔ اس منفی رجحان کے خاتمے کے لئے سیاسی رہنماؤں کو کردار ادا کرنا ہو گا۔ پاکستانی سیاست دانوں پر یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے عوام کی سیاسی اور جمہوری طرز پر تربیت کریں جہاں معاشرے میں عدم برداشت اور عدم استحکام کو فروغ نا مل سکے
موجودہ حالات کو ہی دیکھ لیں کسی بھی طرف سے مفاہمت، میانہ روی اور صلح کی بات سننے کو نہیں مل رہی۔ سب اپنے اپنے فلسفے کے مطابق بیانات جاری کر رہے ہیں اگر اس طرح ہی چلنا ہے تو آگے کے ستر سال بھی پاکستانی معاشرہ ارتقائی عمل میں ہی رہے گا جہاں عدم برداشت اور عدم استحکام کم کرنے کی ذرا بھی کوشش کسی بھی طرف سے ہوتی ہوئی نظر نہیں آئے گی
اس کے لئے وسیع قومی بحث کی ضرورت ہے تاکہ جب لوگ احساسات کی بجائے حقائق پر توجہ مرکوز کریں، تو وہ تنازعات کے بارے میں ایک پرسکون اور وسیع تر سمجھ پیدا کریں۔ یہ زیادہ متوازن نقطہ نظر، بدلے میں، دوسری طرف کے لیے عدم برداشت کو کم کرتا ہے۔
دوبارہ تشخیص معاشرے کے لیے سب سے زیادہ موثر ہے جو پریشان نہ ہونے پر رواداری کی قدر کرے اور لوگ جمہوری اصولوں کی حمایت کے ساتھ ساتھ آزادی اظہار کے ساتھ دوسرے کو بھی برداشت کا درس دیں اور معاشرے کی تعمیر و ترقی کا باعث بنیں۔


