بھارت میں شنگھائی تنظیم اور جی۔ 20 کے اجلاس


اس کالم کے مستقل قارئین میں سے کئی افراد نے واٹس ایپ اور ٹویٹر پر ڈی ایم کے ذریعے حیرت کا اظہار کیا ہے کہ میں بھارت کے شہر گوا کیوں نہیں گیا۔ بارہا اس کالم میں بڑے مان سے یاد دلاتا رہتا ہوں کہ 1984ء سے بھارت کے مسلسل دورے کئے ہیں۔رواں صدی کے آغاز میں تقریباََ دو برس تک اسلام آباد میں دو ماہ گزارنے کے بعد تین مہینوں کے لئے دلی چلا جاتا۔ بھارت کے زمینی حقائق سے دیرینہ اور براہ راست آشنائی نے کئی لوگوں کی نگاہ میں مجھے بھارتی امور کا ”ماہر“ بنا رکھا ہے۔ ان کی خواہش تھی کہ میں ان دنوں گوا میں موجود ہوتا۔اس شہر میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کا اجلاس ہورہا ہے۔اس میں شرکت کے لئے پاکستان کے وزیر خارجہ گیارہ برس کے طویل وقفے کے بعد بھارت گئے ہیں۔موصوف کی وہاں مصروفیات پر نگاہ رکھتے ہوئے مجھے معلوم کرنا چاہیے تھا کہ پاک- بھارت تعلقات میں مذکورہ کانفرنس کی بدولت کوئی تاریخی ”بریک تھرو“ ہو سکتا ہے یا نہیں۔

قارئین کے شکوے جائز ہیں۔ دل پر ہاتھ رکھ کر معافی کا طلب گار ہوں۔ اس کے بعد مگر احمد مشتاق صاحب کا وہ مصرعہ بھی یاد دلانا ہو گا جو ”عمر بھر کون حسین کون جواں رہتا ہے“ کی حقیقت بیان کرتا ہے۔ عملی رپورٹنگ سے عرصہ ہوا ویسے بھی ریٹائر ہو چکا ہوں۔ پرنٹ سے الیکٹرانک میڈیا میں چلا گیا تھا۔ اس کی بدولت ایئرکنڈیشنڈ سٹوڈیوز میں سرخی پاﺅڈر لگا کر بیٹھتا اور ناظرین کو اپنے ”گرانقدر“ خیالات سے نوازنے کے گماں میں مبتلا رہتا۔ نام نہاد ”سیلبرٹی“ بن جانے کے بعد رپورٹر رپورٹر نہیں رہتا۔ ریٹنگ کو بے چین ”سٹار“ بن جاتا ہے۔ ربّ کا صد شکر کہ ”سیم پیج“ کی برکت سے عمران خان اگست 2018ء میں ہمارے وزیر اعظم بن گئے۔ وہ اور ان کے سہولت کار ”مثبت“ خبروں کے متمنی تھے۔ میں اس تناظر میں بانجھ ہوں۔ جس ٹی وی کیلئے پروگرام کرتا تھا اس کی انتظامیہ سے لہٰذا رابطہ ہوا اور چند ہی دنوں بعد مجھے ادارے پر ”مالیاتی بوجھ“ ٹھہراتے ہوئے فارغ کردیا گیا۔ سر جھکائے پرنٹ صحافت میں لوٹ کر یہ کالم لکھتا رہا۔ شاہ حسین کے بتائے ”گڑ“ کو مکھیوں کی نذر کر دینے کے بعد اب گوشہ نشینی میں عافیت محسوس ہوتی ہے۔

پاک بھارت تعلقات کی بابت رپورٹنگ بے تحاشہ محنت کا تقاضا کرتی ہے۔ اس پر نگاہ رکھنے کے لئے لازمی ہے کہ پاکستان کے ریاستی اداروں میں بھارتی امور پر نگاہ رکھنے والوں سے رابطے استوار کرنے کے علاوہ آپ اسلام آباد میں مقیم بھا رتی سفارتکاروں سے بھی میل جول بڑھائیں۔ ”خبر“ ان میں سے کوئی ایک بھی آپ کو فراہم نہیں کرے گا۔ ملاقاتیں اور رابطے مگر رپورٹر کو درست قیافے لگانے کے قابل بنا سکتی ہیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ صحافی مگر صحافی نہیں رہے۔  یہ سانحہ ”سفارت کاروں“ کے ساتھ بھی ہوا ہے۔براہ راست ملاقاتوں یا روابط کے بجائے سفارت کار بھی ان دنوں سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے ملک کا ریاستی ”بیانیہ“ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جدید ترین ذرائع مواصلات کی بدولت مختلف ممالک کے سربراہان ایک دوسرے سے براہ راست رابطے میں رہتے ہیں۔ان کے مابین جو معاملات طے ہوتے ہیں بسااوقات ”سفارت کاروں“ تک بھی ہماری طرح ”اطلاع“ کی صورت پہنچتے ہیں۔ اس تناظر میں واقعہ یہ بھی ہوا کہ نواز شریف کے تیسرے دور اقتدار میں جب نریندر مودی نے ”اچانک“ کابل سے لاہور اترنے کا فیصلہ کیا تو نواز شریف ہی نہیں بلکہ ان دنوں اسلام آباد میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر بھی اس فیصلے سے قطعاََ لاعلم تھے۔بھارتی وزیر اعظم نے نواز شریف سے براہ راست فون پر گفتگو کے بعد لاہور آنے کا بندوست کرلیا۔ مودی کی لاہور آمد طے ہوگئی تو بھارتی ہائی کمشنر کو فی الفور اس شہر پہنچنے کا حکم صادر ہوا۔ موٹروے پر سفر کرتے ہوئے موصوف کی گاڑی نے کئی بار ”120 کلومیٹر“والی حد کی خلاف ورزی کی۔

سفارت کاروں سے میرے طویل عرصے سے روابط نہیں رہے۔ کبھی کبھار کچھ دوستوں کے ہاں کھانوں پر چند افراد سے سرسری ملاقاتیں ہو جاتی ہیں۔بھارتی سفارت کاروں سے میں ویسے بھی ملنے سے گھبراتا ہوں۔ ان کی وجہ سے آپ پربآسانی ”غداری“ کی تہمت لگائی جاسکتی ہے۔تحریک انصاف کے سوشل میڈیا اور پانچویں پشت کی ابلاغی جنگ کے لئے تیار ہوئے محب وطن صحافیوں نے عوام کو سمجھا دیا ہے کہ صحافی اگر کسی سفارت کار سے ملے تو مقصد اس ملاقات کا ضمیر فروشی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ پاکستان کو حقیقی آزادی دلوانے کے لئے اگرچہ تحریک انصاف کے سرکردہ رہ نما ان دنوں تواتر سے غیر ملکی سفارت کاروں سے مل رہے ہیں۔ طالبان کو ”غلامی کی زنجیریں“ توڑنے میں مدد فراہم کرنے کے بعد زلمے خلیل زاد بھی ان دنوں پاکستان کو ”حقیقی آزادی“ دلوانے کے لئے عمرن خان کی معاونت میں مصروف ہے۔ ایسے مہربانوں کے ہوتے ہوئے مجھ دو ٹکے کے مفلوج ہوئے رپورٹروں کو سفارت کاروں پر نگاہ رکھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔

حسب عادت اصل موضوع پر توجہ مرکوز رکھنے کے بجائے پھکڑپن کو بہک گیا ہوں۔ گوا جائے بغیر جبلی طورپر محسوس کررہا ہوں کہ بلاول بھٹو زرداری کے اس شہر میں قیام کے دوران کوئی ”تاریخی“ بریک تھرو کی توقع نہ رکھی جائے۔ پاکستان کا وزیرخارجہ گیارہ برس کے بعد بھارت کسی ”باہمی“ بندوست کی بدولت نہیں گیا ہے۔ گوا میں ایک بین المملکتی تنظیم کا اجلاس ہے۔اس تنظیم کا بانی اور روح رواں ہمارا عزیز ترین دوست عوامی جمہوریہ چین ہے۔ ہمارے وزیر خارجہ اگر اس تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لئے بھارت کے ساتھ باہمی تنازعات کی بنیاد پر گوا نہ جاتے تو ہمارے یار کو ”سبکی“ محسوس ہوتی۔ بنیادی طور پر پاکستانی وزیر خارجہ ”رانجھا“ راضی رکھنے گوا گئے ہیں۔ان کے دورے سے بریک تھرو کی توقع رکھنا زیادتی ہوگی۔

شنگھائی تعاون تنظیم جیسے بین الملکی اداروں کے اجلاس ہوں تو ان میں شامل ممالک ”باہمی تنازعات“ کو قابو میں لانے کی ترکیب بھی ڈھونڈ سکتے ہیں۔اس ضمن میں البتہ ”ارادہ“ درکار ہوتا ہے۔بھارتی میڈیا کے سرسری جائزے نے پیغام مجھے یہ دیا ہے کہ دلی میں فی الوقت پاکستان کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کا ارادہ اور خواہش موجود نہیں۔وہاں کے تبصرہ نگاروں کی اکثریت یہ سوچ رہی ہے کہ پاکستان معاشی گرداب میں گھر چکا ہے۔ اپنے ”ازلی دشمن“ کو وہ اس کی وجہ سے مزید نڈھال ہوا دیکھنا چاہ رہے ہیں۔ بھارت میں آئندہ برس کے مئی میں عام انتخاب ہونا ہیں۔ مجھے توقع نہیں کہ تیسری بار اپنے ملک کا وزیر اعظم منتخب ہونے کے لئے نریندر مودی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو معمول کے مطابق لانے کی ضرورت محسوس کریں گے۔

بھارت کو مگر اس برس اپنے ہاں دنیا کے خوش حال ترین ممالک پر مشتمل تنظیم -G-20- کا اجلاس بھی منعقد کر ناہے۔اس حوالے سے چند تقاریب کے لئے بہت سوچ بچار کے بعد سری نگر کو چنا گیا ہے۔آرٹیکل 370 کی تنسیخ کے بعد دو حصوں میں بانٹے اور منتخب صوبائی حکومت کے بجائے دلی سے چلائے حکومتی بندوست والے کشمیر کے دارالحکومت میں -G-20- کا اجلاس پاکستان سے چند ”وعدوں“ کی گنجائش پیدا کر سکتا ہے۔ ان کے حصول کی خواہش اگر واقعتا موجود ہے تو بھارتی وزیر خارجہ پاکستانی ہم منصب سے ”آئس بریکنگ“ مگر ”ہیلوہائے“ دِکھتی ملاقات کر سکتے ہیں۔

(بشکریہ نوائے وقت)

Facebook Comments HS