صبر و شکر

ایم ایس کا پہلا سیمسٹر تھا منگل کے دن ہماری دو کلاسز ایک ساتھ ہوتیں تھیں ایک ہی ٹیچر کے پاس لگاتار یعنی تین گھنٹے، یہ ٹیچر پڑھانے میں بہت ہی ماہر تھا اور سینیئر بھی تھا، پڑھاتے پڑھاتے جب محسوس کرتا کے لڑکے تھک گئے ہیں یا توجہ کم ہوا ہے کلاس کا یا موضوع ختم ہو گیا ہے تو وہ درمیان میں کوئی واقعہ یا چٹکلہ سنا دیتے تھے جس سے پورا توجہ بھال ہو جاتا تھا پھر درس شروع کر دیا کرتے تھے،
تو اس دن بھی کلاس چل رہی تھی تو درمیان میں بات نکل پڑی صبر و شکر کی اس پر استاد محترم نے ایک بہت پیارا واقعہ سنایا جو دل کو چھو گیا۔ بات کرتے ہوئے استاد محترم نے کہا کہ دو بزرگ اللہ والوں کی آپس میں کہیں ملاقات ہو گئی علمی گفتگو جاری تھی کہ ایک بزرگ نے دوسرے بزرگ سے پوچھا کہ آپ کے قبیلے میں شکر کس طرح کیا جاتا ہے؟ ( پہلے لوگ اس طرح ایک دوسرے سے سیکھنے اور علم میں اضافے کے لیے آپس میں سوال و جواب کیا کرتے تھے ) دوسرے بزرگ نے جواب دیا کہ جب اللہ تعالٰی ہمیں دیتا ہے تو شکر کرتے ہیں اور جب ہمارے پاس کچھ نہیں ہوتا تو صبر کرتے ہیں۔
اس بات پر پہلے بزرگ نے کہا اس طرح تو ہمارے ہاں کتے کرتے ہیں، ( اب یہ بات ایسی تھی کہ جب میں نے سنا تو مجھے بھی تھوڑا نا گوارا لگا اور سوچنے لگا کہ یار بزرگ نے دوسرے بزرگ کی توہین کردی آپ کو بھی پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوا ہو گا لیکن ان کے درمیان ایسی کوئی بات نہیں تھی ) اس پر دوسرا بزرگ پریشان ہو گیا، تو پہلے نے کہا کہ دیکھو ہمارے ہاں کتے کا مالک جب اسے کوئی چیز دیتا ہے تو کتا مالک کے اردگرد چکر لگاتا رہتا ہے اور جب مالک اپنے کتے کو کچھ نا دے تو کتا چپ چاپ خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھ جاتا ہے، یہ بات سن کر دوسرے بزرگ نے پوچھا اچھا میاں تو آپ کے قبیلے والے شکر کس طرح کرتے ہیں؟ تو پہلے بزرگ نے جواب دیا کہ جب اللہ تعالٰی ہمیں دیتا ہے تو ہم اس کے نام پر لوگوں میں خرچ کرتے ہیں صدقات خیرات اور زکات کی صورت میں اور جب ہمارے پاس کچھ نہیں ہوتا تو ہم شکر ادا کرتے ہیں۔
یہ تھے بزرگ اللہ والے جن کے اس پورے واقعے سے ہمیں جو سبق ملتا ہے وہ یہ ہے کہ روز مرہ پیش آنے والے حالات خوش گوار بھی ہو سکتے ہیں اور نہایت برے بھی ان دونوں حالتوں میں ہمیں صبرو شکر کا رویہ اختیار کرنا چاہیے اور کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جو ہمارے ایمان کی خرابی کا باعث ہو۔ جب اللہ تعالٰی ہمیں وسعت دے تو ہمیں لوگوں کی مدد میں خرچ کرنا چاہیے کیونکہ جب ہم اللہ پاک کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور شکر ادا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہماری چیزوں میں برکت عطا فرماتے ہیں اور برکت کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ہماری پاس چیزیں دگنی ہو جائیں بلکہ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ جو چیز پڑی ہے اس میں کمی یا نقصان نہ ہو۔ اور صبر کرنے والے اللہ کے دوست ہوتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد پہنچتی ہے۔
اس لیے ہمیں ہمیشہ مشکل حالات میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور اللہ تعالی کی مدد کا منتظر رہنا چاہیے۔ اسی میں ہمارے لیے دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے۔

