اپنی کار کا انٹیریئر خود منتخب کریں اور کمپنی اسے 20 دنوں میں تیار کر کے آپ تک پہنچائے گ


دنیا بھر میں ٹیکنالوجیز ہر شعبے میں روز نت نئے رجحانات میں اضافہ کر رہی ہیں اور اپنے خریداروں کو متوجہ کرنے کے لیے ہر صنعت میں ڈرامائی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ چین میں کار سازی کی صنعت نے بھی گزشتہ دہائی میں بے پناہ ترقی کی ہے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی چین میں کار سازی کی صنعت میں نئی اختراعات کو متعارف کروا رہی ہے اور کار سازوں اور صارفین کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہوئے پیداوار بڑھانے کا ذریعہ بن چکی ہے۔

چینی الیکٹرک گاڑیوں کے ایک برانڈ نے صارفین کے لیے ایک ایپ لانچ کی ہے جس کی مدد سے وہ اپنی پسند کی کار کے مطلوبہ ماڈل، اس کے رنگ اور کار کے اندر موجود سہولیات کا خود انتخاب کر سکتے ہیں۔

اس کے بعد آرڈرز کمپنی کے ڈیجیٹل سینٹر کو بھیجے جاتے ہیں، جہاں 42 سسٹمز ہر روز 10 ٹیرا بائٹ ڈیٹا اکٹھا کرتے ہوئے، ذاتی نوعیت کی گاڑیوں کے لیے پروڈکشن پلان تیار کرتے ہیں۔

یوں کسی بھی گاہک کی طرف سے آرڈر موصول ہونے کے بعد چار گھنٹے کے اندر کار کو اسیمبل کرنے کا شیڈول ترتیب دیا جا سکتا ہے۔ اس سسٹم سے جڑے دیگر 23 سپلائرز بھی بروقت مصنوعات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس سے قبل اس طرح کی لگژری گاڑیوں کی تیاری میں آدھے سال سے زیادہ وقت لگتا تھا۔ نئے نظام کی مدد سے 20 دنوں کے اندر اندر ڈلیوری سائیکل مکمل کیا جا سکتا ہے۔

حال ہی میں بیسویں شنگھائی انٹرنیشنل آٹو موبائل انڈسٹری نمائش شنگھائی کے نیشنل ایگزیبیشن اینڈ کنوینشن سینٹر میں اختتام پذیر ہوئی، جہاں تقریباً 1000 عالمی آٹو انٹرپرائزز نے 10 روزہ شو کے دوران اپنی بہترین مصنوعات کی نمائش کی اور خریداروں کو متوجہ کیا۔

یہ نمائش، جسے آٹو شنگھائی 2023 کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نہ صرف عالمی آٹو مارکیٹ میں تکنیکی رجحانات کی عکاسی کرتی ہے، بلکہ قائم شدہ عالمی اداروں کے مقابلے میں چین کے ابھرتے ہوئے آٹو میکرز کی طاقت اور اعتماد کا بھی اظہار کرتی ہے۔

یہ نمائش چین کے کوویڈ 19 سے نمٹنے کے اقدامات کو ایڈجسٹ کرنے کے بعد چین میں منعقد ہونے والا پہلا کلاس اے بین الاقوامی آٹو شو تھا۔ 360000 مربع میٹر سے زیادہ کے نمائشی علاقے کے ساتھ، اس نے 1413 کاروں کی نمائش کی، جس میں 93 وہ گاڑیاں بھی شامل تھیں جو عالمی سطح پر اپنا پہلا قدم رکھ رہی ہیں اور 513 نئی گاڑیاں بھی تھیں جو توانائی سے چلتی ہیں۔ اس تقریب میں اندرون و بیرون ملک سے مجموعی طور پر 906000 شرکا نے شرکت کی۔

چائنا ایسوسی ایشن آف آٹو موبائل مینوفیکچررز کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں گھریلو برانڈ کی مسافر گاڑیوں کی فروخت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 5.3 فیصد اضافہ ہوا اور یہ فروخت 2.68 ملین یونٹس تک پہنچ گئی، جو چین میں مجموعی مسافر کاروں کی فروخت کا 52.2 فیصد ہے۔ مقامی الیکٹرک وہیکل برانڈز کے مارکیٹ شیئر نے گزشتہ سال 80 فیصد سے تجاوز کیا۔

آٹوموٹو دنیا میں دو انقلابات رونما ہو رہے ہیں۔ ایک الیکٹرانک وہیکل ہے اور دوسرا خود مختار ڈرائیونگ اور ڈرائیور کی مدد ہے۔ عالمی ماہرین کا ماننا ہے کہ چین ان دونوں سمتوں میں سب سے آگے ہے۔

آٹو شو میں کار ماڈلز پر مختلف قسم کی گھریلو سمارٹ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کا اطلاق کیا گیا۔ اس شو کے موقع پر چینی ٹیکنالوجی کمپنی نے اپنے جدید ترین خودمختار ڈرائیونگ سسٹم اے ڈی ایس 2.0 کی رونمائی کی جو انتہائی درست نقشوں پر انحصار کیے بغیر کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سسٹم کو استعمال کرنے والا پہلا ماڈل، چینی ای وی برانڈ اے آئی ٹی او سے اے آئی ٹی او ایم 5 کا جدید ذہین ڈرائیونگ ورژن، ایونٹ میں سب سے نمایاں رہا۔

اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 2022 میں، چین نے 3.11 ملین سے زیادہ گاڑیاں برآمد کیں اور جرمنی پر سبقت لے جاتے ہوئے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا آٹو برآمد کنندہ بن گیا۔ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں بھی یہ رجحان جاری رہا اور چین نے 9 لاکھ 90 ہزار سے زائد گاڑیاں برآمد کیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 70.6 فیصد زیادہ ہے۔

ملک کی سپلائی چین، کوالٹی، ٹیکنالوجی اور برانڈز میں بہتر مسابقت کی وجہ سے گزشتہ دو سالوں میں چین کی آٹو برآمدات میں سالانہ تقریباً 1 ملین یونٹس کا اضافہ ہوا ہے۔

مزید چینی کار ساز کمپنیاں اب جنوب مشرقی ایشیا اور لاطینی امریکہ سمیت اپنی موجودہ مارکیٹوں میں مزید کام کرنے کی خواہشمند ہیں اور اب انہوں نے یورپی مارکیٹ پر اپنی نظریں مرکوز کر رکھی ہیں۔

Facebook Comments HS