فلسطین کی شب ظلمت

دو مئی کی صبح خدر عدنان اسرائیلی جیل کی ایک تنگ و تاریک کوٹھڑی میں مردہ پائے گئے۔ انہیں اسرائیلی ظالم فوج نے اس سال کے اوائل میں 5 فروری کو ان کے گھر جو آرآبا مغربی کنارے کا شہر ہے سے گرفتار کر لیا تھا۔ ان کا قصور یہی تھا کہ وہ اپنی غیر قانونی گرفتاری کا جواز ڈھونڈتے تھے۔ انہیں کسی قانونی کارروائی کے لیے کسی عدالتی عمل سے بھی نہ گزارا گیا۔ وہ 45 سالہ باشعور نوجوان تھے جو فلسطینوں کے خلاف بڑھتی ہوئی غیر انسانی سلوک کے خلاف سینہ سپر تھے۔
دراصل اسرائیل نے ایسے خوفناک قوانین بنائے ہوئے ہیں جس میں وہ کسی کو بھی دہشتگردی کا مرتکب گردان کر پابند سلاسل کر سکتے ہیں اور بغیر تفتیش یا کسی عدالتی عمل کے وہ انہیں شدید تشدد کا شکار بناتے ہیں اور پھانسی تک پہنچا کر ہی دن لیتے ہیں۔ اس ظلم کے خلاف آواز اب اسرائیلی عوام اور عوامی نمائندوں کی جانب سے بھی آنا شروع ہو چکا ہے۔
اسرائیلی پارلیمنٹ کا ایک ممبر ہے اس کا نام اوفر کاسف ہے وہ بھی ان انتہائی خوفناک اور ظالمانہ قوانین کے خلاف آواز اٹھا رہا ہے۔ اس نے کہا کہ یہ سفاکانہ قتل عمد نیتن یاہو کے سر ہے۔ خدر عدنان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ اس کے بقول عدنان کی وفات بھوک ہڑتال کی وجہ سے نہیں ہوئی بلکہ انہیں قتل کیا گیا ہے جس کی تمام تر ذمہ داری نیتن یاہو پر لاحق ہوتی ہے۔ اس وقت انتظامیہ ہے احکامات کو بروئے کار لاتے ہوئے کم از کم 1016 فلسطینیوں کو قید کر لیا گیا ہے۔ جن کو قیدیوں کے عالمی معاہدات کے برعکس ہر قسم کے دفاع اور اسیروں کے حقوق سے یکسر محروم کیا جا چکا ہے۔ ان میں کئی ایک بچے، نوجوان اور پروفیشنل لوگ بھی ان اسیران میں شامل ہیں۔
1949 میں جو قیدیوں کے حقوق کے لیے کنونشن منظور ہوا اس میں یہ لکھا گیا تھا کہ قیدیوں کو انسانی حقوق حاصل رہیں گے اور کوئی ظالمانہ طریقہ و برتاؤ روا نہ رکھا جائے گا۔ اقوام متحدہ کی 1990 کی قرارداد کا حصہ 45 / 111 کی ذیلی شق نمبر 9 بھی قیدیوں کو طبی امداد کے حصول کی بات کرتی ہے مگر اسرائیل کو مغربی و امریکی پشت پناہی حاصل ہے جس وجہ وہ دیدہ دلیری سے اپنے من چاہے طرائق سے ظلمت کدہ سجائے بیٹھے ہیں۔ جلد یا بدیر مملکت فلسطین پہ آزادی کا سورج طلوع ہو گا۔

