(2) طارق عزیز، ایک کثیر الجہت شخصیت
ایک روز احمد ندیم قاسمی صاحب ریڈیو پاکستان سے اپنا ہفتہ وار کالم پڑھ کر فارغ ہوئے اور طے شدہ پروگرام کے مطابق سیدھے بابا جانی قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب کی اقامت گاہ (جی۔ او۔ آر۔ تھری) پہنچے ان کے ہمراہ خالد احمد بھائی اور نجیب احمد صاحب بھی تھے اور کچھ ہی دیر بعد طارق عزیز صاحب اور عارفانہ کلام پڑھنے میں بے مثل مقبولیت پانے والے اقبال باہو بھی پہنچے۔ اختر حسین جعفری صاحب کو پک کر کے لانے کی ذمہ داری جناب ابصار عبدالعلی صاحب کی تھی کیوں کہ ہمسائیوں کے بھی تو حقوق ہوتے ہیں۔ بابا جانی کبھی خود چین و قرار کے ساتھ نہیں بیٹھے تو ہمسائیوں تک بھی تو فیض پہنچنا ضروری ہے اس روز احمد ندیم قاسمی صاحب کا موڈ کچھ کوفت زدہ سا لگ رہا تھا۔
قاسمی صاحب بابا جانی سے کچھ یوں مخاطب ہوئے بلے صاحب حد ہی ہو گئی خدا معلوم کیا ہو گا ان عاقبت نا اندیشوں کا۔ بابا جانی نے دریافت کیا ہوا تو پھر ان کو قاسمی صاحب نے بتایا کہ میں تو برسوں سے ریڈیو سے وابستہ ہوں اور میرا مسلسل ریڈیو سے اور وابستگان ریڈیو سے رابطہ بھی ہے۔ آج جب ریڈیو پر ایک انتہائی نااہل شخص سے رابطہ ہوا تو محسن ملک و ملت جناب سید مصطفی علی ہمدانی بہت یاد آئے۔ کیا نفیس انسان تھے ریڈیو پاکستان کی پہچان اور جان۔ پیشہ ورانہ مہارت میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا نہ ہے۔ جب آج ریڈیو پر ایک نا اہل شخص سے سابقہ پڑا تو میں نے اس سے کہا کہ کاش آج سید مصطفی علی ہمدانی حیات ہوتے تو وہی آپ کو کچھ سمجھا سکتے تھے لیکن نہیں ایسا ممکن نہیں ہو سکتا تھا کہ آپ اور مصطفی علی ہمدانی صاحب بیک وقت ریڈیو کی اس چھت تلے اکٹھے ہوتے۔ بس اتنی ہی بات کر کے احمد ندیم قاسمی صاحب نے بہت کچھ کہہ ڈالا تھا۔ قاسمی صاحب کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ابصار عبدالعلی گویا ہوئے ہائے ہائے کیا ہیرا راہبر و راہنما تھے استاد محترم جناب مصطفی علی ہمدانی صاحب۔
ہم نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے اور وہ بھی کمال شفقت فرمایا کرتے تھے اور بہت سی کام کی باتیں سمجھانے کے ساتھ ساتھ ریڈیو پاکستان کے مختلف مراکز میں پنپنے والی داخلی سیاست سے دور اور محفوظ رہنے کا مشورہ دیا کرتے۔ ہمزاد دا دکھ کے خالق اور مقبول ٹو وی شو نیلام گھر سے شہرت کی بلندیوں کو پہنچنے والے جناب طارق عزیز صاحب نے احمد ندیم قاسمی صاحب اور ابصار عبدالعلی صاحب کے موقف کی تائید کرتے ہوئے فرمایا کہ پاکستان ریڈیو اور پاکستان ٹیلی وژن ( کے قیام ) کی عمروں میں جو فرق ہے باپ بیٹے یا ماں بیٹے کی عمروں میں بھی اتنا ہی فرق ہوتا ہے اور ریڈیو پاکستان کے سامنے پاکستان ٹیلی وژن کی حیثیت ایسی ہی ہے جیسی ماں باپ کے سامنے اولاد کی یا استاد کے سامنے شاگرد کی اور میں تو فخریہ طور پر جناب مصطفی علی ہمدانی صاحب کو اپنا گرو اور راہبر بلکہ روحانی استاد سمجھتا ہوں۔ محترمہ توصیف افضل صاحبہ نے اپنی یادوں کے حوالے سے جناب مصطفی علی ہمدانی شاہ صاحب کو خراج پیش کیا۔ اختر حسین جعفری صاحب نے عقیدت مندانہ انداز میں مصطفی علی ہمدانی کو خراج پیش کیا اور پھر فرمایا ہم اپنے اسلاف اور محسنین ملت سے آنکھیں چرا کر کہیں کے نہیں رہیں گے یہ بات نئی نسل کو سمجھ لینی چاہیے۔ یہ بات سن کر طارق عزیز صاحب نے فرمایا اختر حسین جعفری۔ احمد ندیم قاسمی، سید فخرالدین بلے صاحب، منیر نیازی اور خالد احمد میرے پسندیدہ شاعروں میں سے ہیں۔ پھر طارق عزیز صاحب نے احمد ندیم قاسمی صاحب سے مخاطب ہو کر کہا آپ کی سفارش بھی کام نہ آئی۔ میں نے بارہا جناب سید فخرالدین بلے صاحب سے گزارش کی کہ وہ میرے شو میں مہمان شاعر و محقق کے طور پر شرکت فرمائیں اور وہ ہمیشہ یہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں کہ نہ تو آپ کہیں جا رہے ہیں اور نہ ہی میں۔ قاسمی صاحب آپ ہی فرمائیے کہ میں کیا کروں اور بلے صاحب سے احتجاج بھی کروں تو کیسے؟ پسندیدہ شعرا میں سے ہیں۔
احمد ندیم قاسمی صاحب مسکرائے اور ان کی مسکراہٹ دیکھ کر طارق عزیز صاحب نے پوچھا قاسمی صاحب میری بات کے جواب میں آپ کی مسکراہٹ، میں سمجھ نہیں پا رہا۔ اس سوال کے جواب میں احمد ندیم قاسمی صاحب نے فرمایا کہ سید فخرالدین بلے صاحب سے صہبا لکھنوی صاحب کو ہم نے افکار کے لیے۔ محمد طفیل صاحب کو نقوش کے لیے اور محترمہ صدیقہ بیگم کو (کہ جو خود سید فخرالدین بلے صاحب کے افراد خانہ میں شمار کی جاتی ہیں) ادب لطیف کے لیے اظہر جاوید صاحب کو تخلیق کے لیے اور مسعود اشعر صاحب کو دھنک کے لیے اور طفیل ہوشیار پوری صاحب کو محفل کے لیے بارہا کلام کی فرمائش کرتے سنا اور دیکھا ہے اور جبکہ میں خود فنون کے لیے متعدد بار ان سے ان کا کلام طلب کرچکا ہوں لیکن وہ ہمیشہ ہی نہایت خوبصورتی سے ٹال جاتے ہیں۔ اور تو اور حسن رضوی اور اجمل نیازی کافی عرصہ کوشش کرتے رہے کہ فخرالدین بلے صاحب انہیں جنگ اور پاکستان کے لیے انٹرویو دے دیں حسن رضوی کو تو کامیابی حاصل نہیں ہو سکی البتہ اجمل نیازی سے پوچھنا ہو گا کہ کرنا ہو گا کہ انہوں نے کیا حربہ استعمال کیا تھا کس طرح فخرالدین بلے صاحب نے انہیں انٹرویو دے دیا۔
طارق عزیز وسیع المطالعہ تھے طارق عزیز کی پنجابی شاعری کے مجموعہ ہمزاد دا دکھ کو بہت مقبولیت اور پذیرائی حاصل ہوئی۔ جشن تمثیل انیس سو بیاسی کی شکل میں تھیٹر کی تاریخ کا انوکھا اور فقیدالمثال کارنامہ سرانجام دینے پر سید فخرالدین بلے کو مبارکباد پیش کرنے میں سبقت لے جانے والوں میں طارق عزیز بھی شامل تھے۔ پروفیسر یوسف حسن کا اکثر راولپنڈی سے لاہور آنا ہوا کرتا تھا اور شاید ہی ایسا کبھی ہوا ہو کہ وہ لاہور آئے ہوں اور حضرت احمد ندیم قاسمی اور سید فخرالدین بلے کی خدمت میں حاضر نہ ہوئے ہوں اور برادر محترم خالد احمد، نجیب احمد اور ڈاکٹر اجمل نیازی کو اپنی آمد کی اطلاع نہ کی ہو۔
پروفیسر یوسف حسن نے قافلہ کے متعدد پڑاؤ میں شرکت بھی فرمائی۔ قافلہ کے ہی ایک پڑاؤ میں پروفیسر یوسف حسن نے شرکائے قافلہ پڑاؤ کو بتایا کہ سید فخرالدین بلے جب بطور ڈائریکٹر راولپنڈی آرٹس کونسل کے خدمات انجام دے رہے تھے تو آرٹس کونسل تخلیق کاروں، ادیبوں اور شاعروں غرض فنون لطیفہ سے متعلقین کا دوسرا گھر سمجھا جانے لگا تھا۔ ہم سب ہی سید فخرالدین بلے صاحب کے مستقل مہمان ہوا کرتے تھے۔ پروفیسر یوسف حسن نے بتایا کہ فخرالدین بلے صاحب کے دور میں راولپنڈی آرٹس کونسل میں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں ادبی و ثقافتی شاندار اور یادگار تقاریب کا انعقاد ہوا اور انہی میں سے ایک تقریب طارق عزیز کے پہلے شعری مجموعے ہمزاد دا دکھ کی تقریب رونمائی بھی تھی۔
طارق عزیز نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں بے شمار ایوارڈز حاصل کیے۔ حکومت پاکستان کی طرف سے انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس کا اعزاز بھی ملا۔ طارق عزیز ریڈیو پاکستان، ٹیلی ویژن، فلم انڈسٹری، کالم نگاری اور ادب کا ایک درخشندہ ستارہ ہے جس کی سب سے بڑی پہچان پی ٹی وی کا وہ طویل ترین پروگرام ہے جو نیلام گھر سے شروع ہو کر طارق عزیز شو اور بزم طارق عزیز تک پچاس برس جاری رہا۔ پروگرام کا مشہور ابتدائیہ ابتدا ہے رب جلیل کے بابرکت نام سے جو دلوں کے بھید بہتر جانتا ہے، دیکھتی آنکھوں سنتے اور کانوں آپ کو طارق عزیز کا سلام پہنچے، آنے والے مہمانوں کو خوش آمدید۔
پروگرام کے اختتام پر لگایا جانے والا نعرہ پاکستان پائندہ باد۔ طارق عزیز۔ 17 جون، 2020ء کو انتقال کر گئے۔ طارق عزیز کی اپنی کوئی اولاد نہ تھی۔ انھوں نے مرنے سے قبل اپنی تمام جائیداد اپنے پیارے وطن پاکستان کو وقف کر دی۔ ان کی وصیت کے مطابق تدفین سے قبل ان کی پراپرٹی اور 4 کروڑ 41 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کروا دی گئی۔






