سید قربان رضا شاہ بھی رخصت ہوئے


ساٹھ ستر کی دہائیاں پاکستان کی ترقی پسند تحریک کے از سر نو ترویج کا دور ہے۔ جب بنگلہ دیش (سابقہ مشرقی پاکستان) میں چٹا گانگ اور رنگ پور کے اضلاع میں کسان تحریک عروج پر تھی اور ڈھاکہ شہر کی طالب علموں کی جمہوری تحریک نے ایوبی آمریت کو چیلنج کر رکھا تھا مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ اور نیشنل عوامی پارٹی کا بھاشانی گروپ ابھر کر نمایاں حیثیت اختیار کر گیا تھا۔ 68۔ 69 میں جالو جالو آگن جالو, آمار باڑی تومار باڑی۔ نکسل باڑی۔ انتخاب نہیں انقلاب جیسے نعرے رواج پا رہے تھے۔ مغربی حصہ میں بھی مزدوروں کی تحریکیں نمایاں تھیں۔ بقول حکومت ملک بھر میں لا قانونیت پھیل رہی تھی، تو ایسے میں متحدہ اپوزیشن نے ایوب خاں سے گول میز مذاکرات شروع کیے تھے۔ مگر ذوالفقار علی بھٹو اور مولانا عبدالحمید بھاشانی ان مذاکرات کے خلاف تھے اور عوامی مزاحمت کے ہیرو بھی تھے جبکہ اپوزیشن کے مطالبے پر شیخ مجیب الرحمن کو بھی جیل سے لا کر مذاکرات کا حصہ بنایا گیا تھا حالانکہ وہ اگر تلہ سازش کیس کے الزام میں جیل میں بند تھے۔ ملکی حالات اور عوامی دباؤ کے باعث ایوب خان نے آرمی چیف جنرل یحیی کو خط لکھا اور مارشل لاء لگا دیا گیا مگر اس سارے عرصہ میں پارٹیوں کے اندر بھی نئی صف بندی ہو رہی تھی۔ نیشنل عوامی پارٹی (بھاشانی) سے میجر اسحق محمد اپنے کئی ساتھیوں سمیت الگ ہو گئے اور نیشنل عوامی پارٹی (ولی گروپ) سے بھی افضل بنگش اپنے کئی ساتھیوں سمیت مزدور کسان گروپ بنا کر الگ ہو گئے تھے۔

انہی دہائیوں میں کمیونسٹ پارٹی پاکستان جو نیشنل عوامی پارٹی میں رہ کر متحرک تھی از سر نو منظم ہو رہی تھی تا ہم مشرقی حصہ میں اس کی تنظیم محض پروفیسر مظفر احمد گروپ سے رابطوں تک ہی محدود تھی۔ یہ وہ حالات ہیں جب گوجرانوالہ میں بھی ترقی پسندوں کا ایک گروپ متحرک تھا۔ جس میں ایوب مصلی، چوہدری منظور احمد، کامریڈ عبدالکریم، قربان رضا شاہ، غلام نبی بھلر، کنیز فاطمہ، مشتاق احمد کشفی اور کئی دوسرے بھی نمایاں تھے۔ ان حالات میں میجر اسحق محمد اور افضل بنگش کے اشتراک سے متحدہ جماعت بنانے کی کوششیں ہوئیں تو گوجرانوالہ کو اعزاز حاصل ہوا کہ پہلا تنظیمی کنونشن وہاں کیا گیا۔ غلام نبی بھلر، مشتاق احمد کشفی اور کنیز فاطمہ، میاں محمد اسلم، میاں محمد اکرم اور ان کے بھائی تو نیشنل عوامی پارٹی (بھاشانی) میں متحرک رہے جبکہ قربان رضا شاہ، چوہدری منظور احمد، ایوب مصلی، کامریڈ عبدالرحمن، مشتاق بادل لاہور کے سید سبط الحسین بھاکڑی، پروفیسر عارف، پروفیسر ظفر علی خان، اشفاق سلیم مرزا، صدیق گھمن، میاں تسلیم جہانگیر، مسعود ملک، علامہ صدیق اطہر اور کئی دیگر لوگوں کے ہمراہ فیصل آباد سے بابا لطیف چوہدری، شریف چوہدری، بابا پھٹے چک، دوست محمد بچھر، حکیم عبدالرحمن، سلیمان راؤ، چوہدری حفیظ جیسے دوستوں نے مل کر پہلی کانگرس کا انعقاد کیا۔ اس لحاظ سے سید قربان رضا شاہ کو مزدور کسان پارٹی کے بانی ممبران میں شمار کیا جاتا ہے۔

شاہ صاحب گوجرانوالہ کے سول لائنز کے علاقہ میں رہائش پذیر تھے۔ جبکہ ان کی ڈرائی کلینر کی دکان گوجرانوالہ اڈہ چوک میں موجود تھی۔ ان کا گھر پارٹی سرگرمیوں کا مرکز رہا۔ بلکہ پارٹی کے اجلاس ہوتے، تو رات کو انہی کے گھر سو بھی جاتے۔ وہ بہت بڑا گھر نہ تھا مگر گھر کے مکین بہت بڑے دل کے مالک تھے۔ گو کہ انکم بہت زیادہ نہ تھی مگر دل کھول کر پارٹی دوستوں کی مدد کرتے تھے۔ 1977ء میں پارٹی کئی حصوں میں تقسیم ہو گئی اور پھر توڑ دی گئی۔ یہاں شخصیات کے مابین ٹکراؤ تھا۔

بنگش، لالہ ستار، شیر علی باچہ، سرحد میں الگ الگ ہو گئے۔ پنجاب میں امتیاز عالم کی سربراہی میں جمع ورکرز گروپ بن گیا جو 1978 ءمیں پنجاب لوک پارٹی بن گیا۔ سندھ میں بھی پارٹی دو حصوں میں بٹ گئی۔ شمیم عالم، اکرم دھاریچہ، اقبال نیازی کا الگ گروپ اور شفیع محمد کا الگ گروپ بن گیا۔ سید رضا قربان شاہ لوک پارٹی کا حصہ بن گئے۔ جو 1980 ءمیں پاکستان نیشنل پارٹی (PNP) میں غوث بخش بزنجو کی قیادت میں ختم ہو گئی۔ قربان رضا شاہ اس سارے عرصہ میں متحرک رہے مگر ان کے کاروبار پر فرق پڑا، تو انہوں نے دوسرے بزنس کی طرف رخ کیا۔

نوے کی دہائی میں پاکستان کی ترقی پسند تحریک ماند پڑ گئی بالخصوص سویت یونین کے ٹوٹنے اور ماؤ ازم کے خاتمے کے بعد پاکستان میں خاصہ دھچکا لگا۔ اس دوران پھر شکست و ریخت کا سلسلہ شروع ہوا تو کئی ایک ترقی پسند کارکن دوسرے میدانوں میں متحرک ہوئے۔ بعض نے اپنی پیشہ ور صحافت اور وکالت اور صحافت میں نام پیدا کیے۔ اور چند ایک این جی او تحریک سے وابستہ ہو گئے۔ سید قربان رضا شاہ بھی این جی او تحریک سے وابستہ ہو گئے اور کراچی میں اورنگی پراجیکٹ حمید اختر خان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انہی کی مدد کے ساتھ گوجرانوالہ میں آرگنائزیشن فار پارٹسی پیٹری ڈویلپمنٹ (OPD) کی بنیاد رکھی۔ مہر اسلام بھی انہی کے ساتھ تھے۔ جلد ہی یہ تنظیم OPD بہت بڑی تنظیم بن گئی۔ جو دس سالوں تک بہت متحرک رہی سید قربان کی ایک بیٹی اور ایک بیٹا بھی تعلیم حاصل کرنے کے بعد این جی او تحریک سے وابستہ ہو گئے اور کئی عالمی اداروں سے منسلک رہے۔ جبکہ شاہ صاحب کی بڑی بیٹی کی شادی تسنیم رضوی آرکیٹیکٹ سے ہوئی، جو پھر ترقی پسند تحریک کے پرانے اور نئے ساتھیوں کے لئے مرکز بن گیا۔ شاہ صاحب کے بیٹے کی شادی کراچی کے ارتقا گروپ کے بانی اور انجمن ترقی پسند مصنفین کے متحرک رہنما راحت سعید کی بیٹی سے ہوئی جو اب پی ایچ ڈی کر رہی ہے۔

اس لحاظ سے شاہ صاحب کا گھرانا ترقی پسندوں کے لئے ہمیشہ دوستانہ رہا ہے اور یہ سب کچھ شاہ صاحب اور ان کے اہل خانہ کے اخلاق کی بدولت ہے۔ شاہ صاحب کافی عرصہ علیل رہے۔ ان کی رحلت ایک دکھ ہے مگر سب کو ہی واپس جانا ہے۔ لیکن جس طرح کوئی زندگی گزارتا ہے وہ یادیں بن جاتی ہیں۔

Facebook Comments HS