خواب، بچے اور والدین


بچپن کو مختلف لوگ مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں۔ میرے لئے بچپن ہمیشہ ایک ایسا دور رہا جس میں میں نے خواب بنے، شروع میں میرے خواب طلسماتی ہوتے تھے۔ میں نے ایک کہانی پڑھی تھی، سندھی میں، اس میں ایک اڑنے والا گھوڑا تھا جس پر سوا ہو کر آپ دنیا کو بلندی سے دیکھ سکتے تھے۔ وہ کہانی خواب بن گئی تھی اور میں نے اس کے گرد اپنے مستقبل کو بننا شروع کر دیا تھا۔ اس کے بعد میں ہوا بازی کے خبط میں مبتلا ہو گیا تھا۔ وہ پاکستان ٹیلی ویژن کا دور تھا۔

ان دنوں کا رل ساگان کی معروف ڈاکیومینٹری کاسموس نشر ہوئی تھی۔ اسے دیکھ کر، ہوا بازی کا شوق خلاءبازی میں بدلا اور آخر میں سائنس دان بننے تک بات پہنچ گئی تھی۔ یوں میں نے کتابیں پڑھنی شروع کی، ہرمن ہیس کا ناول سدھارت پڑھا تو مجھے اندازہ ہوا کہ گو تم بدھ کو اس دنیا کے رنج و الم نے سادھو بنا دیا تھا۔ میں نے سوچا میں سادھو نہیں بنوں گا لیکن دنیا کے رنج و الم کو کم کرنے کی ارادہ کر لیا تھا اور یوں میرا سفر طلسماتی خوابوں سے ہوتا ہوا حقیقت پسندی کی دہلیز تک پہنچ گیا تھا۔

آج زندگی کی چار دہائیاں گزارنے کے بعد جب میں اپنی زندگی کا جمع خرچ کرتا ہوں تو، طلسم سے لے کر حقیقت پسندی تک وہ تمام تر چیزیں میری شعور و لا شعور کی دنیا سجائے ہوئے ہیں، جن کی داغ بیل میرے بچپن میں پڑی تھی۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ بچپن سپنے بننے کا دور ہوتا ہے اور بچوں کو حسین سپنے بننے کے لئے ماحول فراہم کرنا ہم بڑوں کا سب سے اہم کام ہے۔ اگر ہمارے مستقبل کے معمار، ہمارے بچے، اپنے، اپنے معاشرے اور ملک و قوم کے لئے خوبصورت سپنے بنیں گے تو ترقی کا پہیا چلتا رہے گا۔ اس کے بر عکس اگر ان کے سپنے بھیانک ہوئے تو معاشرہ تاریکی کا شکار ہو جائے گا۔

بچوں کی نفسیات کے ماہر ین اس بات پر متفق ہیں کہ بچوں کی زندگی کے ابتدائی ماہ و سال ان کے مستقبل کے لئے انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ نو مولود بچے کے دماغ کو اسپنج سے تشبیہ دی جاتی ہے جو ہر چیز جذب کر لیتا ہے۔ بالکل اسی طرح بچے کا دماغ بھی اپنے اردگرد چیزوں کا تیزی سے مشاہدہ کرتے ہوئے انہیں اپنے تجربے کا حصہ بناتا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ کہا جاتا ہے کہ اگر بچے کو نئی زبانیں سکھانی ہیں تو بچپن اس امر کے لئے مواقف ہے کیونکہ بچے کا دماغ اس معاملے میں کافی تیز اور سازگار ہوتا ہے۔

اس بات کو سمجھتے ہوئے اگر ہم دیکھیں تو یہ ایک نادر موقعہ نظر آئے گا کہ ان ماہ و سال میں ہم اپنے بچوں کی ذہنی نشو و نما احسن طریقے سے کر سکتے ہیں۔ اگر ان ابتدائی سالوں میں ہم ان کو علم و فکر کی طرف لے گئے تو پھر تا عمر یہی ان کا شعار ہو گا۔ اس کے برعکس اگر یہی بچے بھٹک گئے تو ان کو راہ راست پر لانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو گا۔

آج کل کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ بچوں کی توجہ مرکوز رکھنے میں مشکلات پہلے سے زیادہ ہیں کیونکہ ان کا دھیان بٹانے کے لئے انواع اقسام کے طریقے میسر ہیں جن میں موبائل فون، ٹچ پیڈز اور دوسرے برقی گیجٹس شامل ہے۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ اکثر اوقات والدین نونہالوں کو ایسے آلات تھما دیتے ہیں اور خود بری الزمہ سمجھتے ہیں۔ ایسے بچے ان گیجٹس کے عادی ہو جاتے ہیں اور یہ ایک عصر حاضر کا ایک اہم مسئلہ بن گیا ہے۔ اس عادت کی وجہ سے بچے ذہنی امراض و پسماندگی کا شکار ہوتے نظر آتے ہیں۔ اس صورتحال میں والدین کا کردار اہم گردانا جاتا ہے۔ اگر والدین اپنے بچوں کی ذہنی نشوونما پر توجہ دیں گے تو ایک نسل بچ جائے گی۔

بچوں کی بلند پرواز کے لئے ان کے تخیل کو پر لگانے ضروری ہیں، تبھی تو وہ خواب بن سکیں گے اور جب وہ اپنے خوبصورت خوابوں کو لیے میدان کارزار میں اتریں گے، محنت کریں گے، تو اس معاشرے کے لئے کا ر آمد فرد بن پائیں گے۔

Facebook Comments HS