ایک سائنسدان کا سوال: زندگی کیا ہے؟


میں ایک سائنسدان ہوں۔ میری پیشہ ورانہ زندگی کا زیادہ تر حصہ سائنسی مسائل کو حل کرنے، مادے کے ساتھ روشنی کے تعامل کو سمجھنے کی کوشش کرنے اور سائنسی تحقیق کی بنیاد پر نئے اثرات اور آلات تجویز کرنے میں گزرا ہے۔ اپنے نجی لمحات میں، میں نے بہت سے بنیادی سوالات پر غور کیا ہے جن میں سے کچھ سائنس اور فلسفے کی حدود میں ہیں۔

میں پیشے کے اعتبار سے فلسفی نہیں ہوں لیکن میرا ماننا ہے کہ ہر انسان کے اندر ایک چھوٹا سا فلسفی چھپا ہوتا ہے۔ ہر کوئی کائنات میں اپنی حیثیت اور اپنی اصلیت اور تقدیر کے بارے میں سوچتا اور حیران ہوتا ہے۔ وہ ان سوالوں کے جواب ڈھونڈتا ہے جیسے یہ کائنات کیسے وجود میں آئی اور کیا اس تخلیق کے پیچھے کوئی تخلیق کار ہے یا کوئی منصوبہ ساز؟

شاید اس طرح کے سوالات میں سب سے اہم، زندگی کی ابتدا اور اس کی نوعیت سے متعلق ہیں۔ فطرت کے قوانین کی وضاحت کرنے میں سائنسی نظریات کی شاندار کامیابی کے باوجود، کوئی بھی نہیں جانتا کہ زندگی کہاں سے آتی ہے اور کہاں جائے گی۔ انسان جیسی زندہ شے پیدائش سے پہلے کہاں تھی اور مرنے کے بعد کیا ہو گا؟ کیا روح حقیقی ہے یا کسی کیمیائی عمل کا نتیجہ ہے؟

اصل معمہ یہ ہے کہ انسان بالکل اسی قسم کے ایٹموں اور مالیکیولز سے بنا ہے جیسے کرسی جیسی غیر جاندار چیز، لیکن انسان زندہ ہے اور کرسی بے جان ہے۔ کیوں؟ کوئی بھی جواب نہیں جانتا۔

ایک سوال جو میں نے بہت سے ماہرین حیاتیات سے پوچھا ہے وہ یہ کہ اگر ہم سب سے چھوٹی زندہ چیز، جیسے کہ ایک خلیے کو ، ایک کے اوپر ایک ایٹم رکھ کر نقل کریں تو کیا ہو گا؟ کیا نتیجے میں آنے والی شے خلیے کی تمام خصلتوں کو حاصل کر لے گی؟ اس سوال کا جواب فی الحال کسی کو معلوم نہیں۔ تاہم، جواب چند سالوں میں آ سکتا ہے۔ ہم اپنی سائنسی پیشرفت میں ایک ایسے مقام پر پہنچ رہے ہیں جہاں ہم ایک ایٹم کو الگ تھلگ کر سکتے ہیں اور ایٹموں کے ذریعے ایک خلیے کو بنا سکتے ہیں۔

ایک اہم سنگ میل آئے گا، جس دن سائنسدانوں کے لیے انسان جیسی ایک ذہین جاندار شے کی نقل بنانا ممکن ہو جائے گا۔ ایسی نقل ایک ایٹم کے اوپر ایک اور ایٹم رکھ کر بنائی جا سکے گی۔ اس وقت یہ ایک دور کی بات لگتی ہے۔ تاہم مستقبل میں کسی وقت سائنسی لیبارٹری میں ایسا انسان بنانا ممکن ہونا چاہیے۔

سوال یہ ہے کہ کیا ایسا انسان آزاد مرضی، سوچنے سمجھنے، اچھے برے کا احساس اور تولیدی صلاحیت جیسی خصوصیات کے ساتھ زندہ ہو جائے گا؟ کیا ایسی چیز میں جذبات ہوں گے؟ سب سے اہم سوالوں میں سے ایک یہ ہے کہ کیا زندگی ایٹموں اور مالیکیولز کی ایک خاص ترتیب سے باہر کی کوئی چیز ہے؟ کیا کوئی روح ہے جو ہماری جسمانی ساخت سے ماورا ہے؟

یہ سوال مذہبی نقطہ نظر سے خاص طور پر اہم ہے۔ زیادہ تر مذہبی عقائد میں روح کو ابدی سمجھا جاتا ہے۔ روح جسم میں مقید ہے۔ جسم مر سکتا ہے لیکن روح ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ یہ تصور عملی طور پر تمام مذاہب کی بنیاد پر ہے۔ اس سوال کا جواب کہ کیا جان اور روح ہمارے جسم سے آزاد ہیں اور ابدی ہیں مذہبی عقائد کی توثیق پر فیصلہ کن نتائج مرتب کریں گے۔

ایک متعلقہ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس مقام تک پہنچ سکتے ہیں جہاں اس دنیا میں ابدی زندگی کا انسانی خواب پورا ہو جائے۔ موت کو شکست دینا سائنسی کامیابیوں کی معراج ہوگی۔ ہماری زندگی میں یہ تو ممکن ہوسکا ہے کہ سائنسی ترقی کی بدولت ہم بنیادی اجزا جیسے خلیے کی ساخت کو سمجھ سکے ہیں۔ کچھ طریقوں سے، انسانی جسم کو ایک مشین کی طرح سمجھا جاتا ہے جس میں بڑی تعداد میں نٹ اور بولٹ یا اعضاء ہوتے ہیں۔ جب ان میں سے کچھ اعضاء ناکام ہو جاتے ہیں، جیسے مشین کا کوئی حصہ، ہم انہیں ٹھیک کر سکتے ہیں یا ان کی جگہ نیا پر زہ ڈال سکتے ہیں۔

دل اور گردے جیسے اہم اعضاء کی پیوند کاری تقریباً معمول بن چکی ہے۔ لیکن موت کو ناقابل واپسی سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایک بڑا معمہ ہے۔ جب کسی کو مردہ قرار دیا جاتا ہے تو اسے دوبارہ زندہ کرنے کی کوئی امید نہیں ہوتی۔ کیا کسی دن یہ ممکن ہو گا کہ فزکس اور بائیو ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے انسانی ’مشین‘ کو ٹھیک کیا جا سکے، جیسے کہ وسائل کی مدد سے گاڑی کو ٹھیک کیا جا سکتا ہے چاہے وہ کتنی ہی خراب کیوں نہ ہو؟ کیا سائنسی ترقی موت کو فتح کرنے میں مدد دے گی؟

پھر سوال یہ ہے کہ کیا آج کی سائنس ان امکانات کی اجازت دیتی ہے؟ یا کیا فزکس کے قوانین میں کوئی ایسی بنیادی چیز ہے جو کسی انسان یا جاندار شے کی نقل بنانے یا کسی مردہ انسان کو دوبارہ اس دنیا میں لانے کی اجازت نہیں دیتی؟

جیسا کہ اس وقت سمجھا جاتا ہے، اس دنیا اور کائنات کی ہر چیز (چھوٹی سے بڑی تک) کوانٹم میکانکس کے قوانین کے تحت چلتی ہے۔ کوانٹم میکینکس کے قوانین کے مطابق دنیا بہت عجیب ہے۔ کوانٹم میکانکس کے بانی، ورنر ہائزنبرگ کے الفاظ میں، ”کائنات نہ صرف ہماری سوچ سے بالاتر ہے، بلکہ یہ ہماری سوچ کی صلاحیتوں سے بھی زیادہ بالا تر ہے“ ۔ لیکن کوانٹم میکانکس کے قوانین میں ایسی کیا عجیب بات ہے؟

صرف سمجھنے کے لیے یہاں ایک سادہ سی مثال پیش کر تا ہوں۔ اگر میں ایک گیند پھینکتا ہوں، اس پر عمل کرنے والی تمام قوتوں کو جانتے ہوئے، میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ گیند دیوار پر کہاں ٹکرائے گی۔ اس میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ ہم ہر روز ایسے واقعات کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ کوانٹم میکینکس ایک ڈرامائی طور پر مختلف تصویر پینٹ کرتی ہے : ہمارے آلات چاہے کتنے ہی درست اور نفیس کیوں نہ ہوں، ہم کبھی بھی اس بات کا یقین نہیں کر سکتے کہ گیند کہاں دیوار سے ٹکرائے گی۔

اس بارے میں ہمیشہ ایک غیر یقینی صورتحال رہے گی کہ گیند کہاں ٹکرائے گی۔ بڑی چیزوں کے لیے جو ہم اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں، یہ غیر یقینی صورتحال انتہائی چھوٹی ہے اور ہماری آنکھیں، درحقیقت کوئی بھی ماپنے کا آلہ، اس غیر یقینی صورتحال کو محسوس نہیں کر سکتا۔ لیکن ایٹم جیسی چھوٹی اشیاء کے لیے یہ غیر یقینی صورتحال واضح طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ اگر، گیند کے بجائے، ہم ایٹموں کے ساتھ وہی تجربہ کرتے ہیں، تو ہم صرف اس بات کا امکان دے سکتے ہیں کہ ایٹم دیوار پر کسی خاص نقطہ سے ٹکرائے گا۔ اس معاملے میں کوئی یقین نہیں ہے۔ یہ بہت عجیب ہے لیکن سچ ہے : دنیا امکانی ہے۔ البرٹ آئن سٹائن کے الفاظ میں، خدا ڈائس کھیلتا ہے۔

اس کا ہمارے اس خواب پر کیا اثر ہو گا کہ کسی دن انسانوں کو ایٹم سے ایٹم ملا کر بنا دیا جائے گا اور موت پر قابو پا لیا جائے گا؟ اس سوال کا جواب دینے سے قبل یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایٹم کی ساخت کیسی ہے؟ ایک ایٹم کے بارے میں عام طور پر یہ تصور ہے کہ ایک نیوکلیئس ہے جس کے گرد چھوٹے چھوٹے ذرات ہوتے ہیں جنہیں الیکٹران کہتے ہیں جو ایک چھوٹے سے نظام شمسی میں سیارے کی طرح نیوکلیئس کے گرد چکر لگاتے ہیں۔ لیکن کوانٹم میکینکس کے مطابق یہ صحیح تصویر نہیں ہے۔

کوانٹم مکینیکل تصویر ناقابل تصور ہے۔ الیکٹران سیارے کی طرح نیوکلیئس کے گرد چکر نہیں لگا رہے ہیں۔ اس کی بجائے، وہ نیوکلیئس کے گرد ایک روئی کے گولے کی طرح ہیں۔ سب سے عجیب پہلو یہ ہے کہ یہ روئی کے گولے حقیقی اشیاء نہیں ہیں، جب ہم انہیں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ الیکٹران کے ملنے کے امکان کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس طرح، ایٹم ’حقیقی‘ کچھ نہیں بلکہ امکانات کے بادل پر مشتمل ہے۔ کوانٹم میکانکس کے مطابق، الیکٹران اس وقت تک کوئی مقامی اصلی چیز نہیں ہے جب تک کہ ہم اسے دیکھنے کی کوشش نہ کریں اور جب اسے دیکھنے کی کوشش کریں تو اسے نیوکلیئس کے ارد گرد کسی بے ترتیب مقام پر موجود پائیں گے۔ تب تک ہم الیکٹران کو کسی بھی حقیقت سے نہیں جوڑ سکتے۔ ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ صرف مختلف مقامات پر وجود کا امکان ہے اور کچھ نہیں۔ ذرا تصور کریں کہ ہمارے اردگرد کی تمام اشیاء، بشمول ہم خود، ایسے ایٹموں پر مشتمل ہیں جو ایک دوسرے پر ڈھیر ہیں! یہ طبعی قوانین کے مطابق واقعی عجیب مگر حقیقی تصویر ہے۔

ایک اور متعلقہ، لیکن کوانٹم مکینیکل قوانین کا ایک حیرت انگیز نتیجہ یہ ہے کہ ایٹم کو مکمل طور پر نقل یا کلون نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سوائے کچھ خاص صورتوں کے، نیوکلیئس کے ارد گرد موجود امکانات کے بادلوں کو نقل کرنا ناممکن ہو گا۔ یہ ہمارے روزمرہ کے تجربے کے بالکل برعکس ہے جہاں ہم اصولی طور پر کسی بھی چیز کو اس طرح نقل کر سکتے ہیں کہ نقل اور اصل میں فرق نہ ہو۔ یہ قوانین انسانی زندگی کو نقل کرنے کے بارے میں ہماری کوششوں پر ممکنہ طور پر سنگین پابندیاں عائد کر سکتے ہیں۔

کیا اس طرح کے ایٹموں سے ہم زندگی پیدا کرنے اور موت کو کنٹرول کرنے کا خواب پورا کر سکتے ہیں؟ ہمیں اندازہ نہیں ہے کہ کیا ہماری آنے والی نسلیں ہم سے زیادہ ذہین ہوں گی اور ان قوانین کو استعمال کرنے کے قابل ہوں گی جو ہم ابھی نہیں جانتے ہیں اور اس اہم سوال کا جواب دیں گی: زندگی کیا ہے؟

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سہیل زبیری

ڈاکٹر سہیل زبیری ٹیکساس یونیورسٹی میں کوانٹم سائنس  کے Distinguished Professor ہیں اور اس ادارے میں کوانٹم آپٹکس کے شعبہ میں Munnerlyn-Heep Chair پر فائز ہیں۔

suhail-zubairy has 93 posts and counting.See all posts by suhail-zubairy