کائنات اور ہم


ایک دور تھا جب زمین کو کائنات کا مرکز تصور کیا جاتا تھا۔ ڈارک ایجز میں جب یورپ میں پاپائیت کا دور دورہ تھا، یہ بات زبان زد عام تھی کہ سورج اور باقی تمام سیارے زمین کے گرد گردش کرتے ہیں۔ سائنس کی فیلڈ میں اس کانسیپٹ کو جیو سینٹرزم کہا جاتا ہے۔ جیو زمین کو کہتے ہیں۔ یہ لفظ جہاں بھی استعمال ہو، سمجھ لیجیے کہ زمین سے متعلق بات ہے، جیسے جیو لوجی، جیو گرافی وغیرہ وغیرہ۔ جیو سینٹرزم کو سولہویں صدی میں پیدا ہونے والے جرمن سائنسدان جوہانس کیپلر نے غلط ثابت کیا۔

کیپلر نے دریافت کیا کہ زمین اور سولر سسٹم کے باقی سیارے سورج کے گرد گھوم رہے ہیں نہ کہ زمین کے۔ اس کانسیپٹ کو ہیلیو سینٹرزم کا نام دیا گیا۔ ہیلیو سے مراد سورج ہے۔ پھر ٹیلی سکوپ ایجاد ہوئی اور بعد میں آنے والے بے شمار سائنسدان ہیلیو سینٹرزم کی تصدیق کرتے رہے۔ البتہ آج بھی بیشتر مسلمان علماء کرام مسلمان بچوں کو وہی علم دے رہے ہیں جس کی قائل چرچ آٹھ سو سال پہلے تھی۔

سائنس کی دنیا میں دن دگنی رات چوگنی ترقی نے کائنات کی وسعتیں ہمارے سامنے لا کھڑی کی ہیں۔ اس میں ایک دلچسپ بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ صرف زمین ہی نہیں سورج کے گرد گھوم رہی بلکہ ہمارا سورج بھی اپنی کہکشاں کے مرکز کے گرد گھوم رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سورج اپنے ساتھ پورے کا پورا سولر سسٹم بھی ملکی وے گلیکسی کے گرد گھما رہا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری زمین، سورج بلکہ پورا سولر سسٹم آج سے 10 لاکھ سال پہلے جس مقام پر موجود تھے، آج وہاں نہیں ہیں بلکہ مسلسل حرکت میں ہیں۔

ہماری زمین جس کہکشاں میں موجود ہے اس کا نام ملکی وے گلیکسی ہے۔ اس کہکشاں میں لگ بھگ 400 ارب ستارے ہیں۔ یہ کہکشاں اتنی بڑی ہے کہ اگر آپ کی رفتار روشنی کی رفتار کے برابر ہو جو کہ 3 لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے، اور آپ اس گلیکسی کی ایک طرف سے اپنے سفر کا آغاز کریں تو آپ کو اس کی دوسری طرف پہنچنے کے لیے ایک لاکھ سال درکار ہوں گے۔ ایک لاکھ سال بھی تب جب آپ روشنی کی رفتار سے سفر کریں، جس پے انسان کو فی الوقت دسترس حاصل نہیں۔

آپ اپنی ملکی وے گلیکسی کی وسعت کا صرف اس بات سے اندازہ لگائیے کہ اگر کوئی انسان بالفرض 1 سیکنڈ میں ایک ستارے کی گنتی کرے، تو اس شخص کو اپنی ہی کہکشاں کے ستارے گننے کے لیے 3 ہزار سال سے زائد عمر درکار ہو گی۔

اب اگر کوئی شخص یہ دعوٰی کرے کہ ہماری کہکشاں جیسی اربوں کہکشائیں ہیں اور ہر کہکشاں کے اندر اربوں ستارے ہیں، ، تو دماغ کا فیوز آڑ جائے گا۔ لیکن یہی حقیقت بھی ہے۔ حال ہی میں جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے کائنات کی وسعتوں کی جو تصویر کشی کی ہے اس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کائنات ہماری سوچ سے کہیں زیادہ وسیع تر ہے۔ آئیے اس کو سمجھنے کے لئے ایک تھاٹ ایکسپیریمنٹ کرتے ہیں۔

آپ کا ساحل سمندر پر جانے کا اتفاق ہوا ہو گا۔ مٹھی بھر ریت لیں اور ایک ذرے کو علیحدہ کر لیں۔ یہ ایک ریت کا ذرہ ایک گلیکسی کی مانند ہے۔ اس ایک ذرے میں اربوں ستارے ہیں۔ ہماری کائنات انھی ریت کے ذرات کی تعداد کی مانند کہکشاؤں سے بھری پڑی ہے۔ جس بھی ذرے کو اٹھائیں گے، اس کے اندر اربوں ستارے موجود ہوں گے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور ایسٹرانومی کی فیلڈ میں تیزی سے بڑھتی ہوئی ترقی مزید ہمارے سامنے کیا ہوشربا انکشافات لے کر آتی ہے۔ اور کیا ہم اتنی وسیع کائنات میں اکیلے ہیں؟ اس سوال کا جواب اگلی تحریر میں دینے کی کوشش کی جائے گی۔

Facebook Comments HS