یکم مئی 2023، کچھ شکایتیں


ذہن میں عجیب و غریب کیفیت پیدا ہوئی جب یکم مئی 2023 کو فیکٹری مالکان کے یکم مئی کے لئے بینر، مریم اور خان کو مزدوروں کے لئے ریلیاں منعقد کرواتے، اور مزدوروں کو محنت مزدوری کرتے دیکھا، اس سے تین نکات ذہن میں ابھرتے ہیں، ذیل میں ان تینوں نقاط کو ڈی کوڈ کیا گیا ہے۔

پہلا یہ کہ بورژوا، مذہبی اور بالائی درمیانہ طبقہ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

سرمایہ دار اور مذہبی طبقہ تو ریل کی پٹڑی کی طرح ساتھ ساتھ تھے ہی، پر جب سے مزدوروں کی اکثریت انتہائی پسماندگی کا شکار ہے تو بالائی درمیانہ طبقہ اب ان کے ساتھ کھڑے ہونے میں اپنی توہین سمجھتا ہے۔ اور پھر جلتی پر تیل کا کام کیا ہے مابعد الجدید صحافت نے، جس نزاکت کے ساتھ طبقاتی تقسیم کی سطور کو ہمارے میڈیا نے مبہم کیا ہے، تقریباً تمام میڈیا ہی ”ملک ریاض ایوارڈ“ کا حق دار ٹھہرتا ہے۔

دوسرے، مزدوروں میں مزدور ڈے کی آگہی کی کمی

دوسرے ںکتے کی وضاحت سے پہلے ہمیں یوم مئی کی تاریخ اور اس کے پیچھے کار فرما سوچ کو سمجھنا ہو گا۔

روزا لکسمبرگ نے یکم مئی کی تاریخ کے بارے میں لکھا آٹھ گھنٹے مزدوری کا مطالبہ منوانے کے لئے پرولتاریہ کا چھٹی منانے کا خوش آئند خیال سب سے پہلے آسٹریلیا میں ابھرا۔ ان کا مطالبہ تھا آٹھ گھنٹے کام، آٹھ گھنٹے دوسری سرگرمیاں اور آٹھ گھنٹے آرام۔ 1856 ء میں میلبورن کے مزدوروں نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک دن ایسا مرتب کیا جائے جس میں آٹھ گھنٹے مزدوری کے مطالبے کے حق میں جلسے منعقد کیے جائیں اور سارا کام مکمل طور پر روک دیا جائے۔

یہ دن 21 اپریل کو منایا گیا۔ اسے پہلی بار منانے کے بعد آسٹریلیا کی پرولتاری پبلک پر اس کا اتنا گہرا اثر ہوا اور انہیں اتنی ہمت ملی کہ انہوں نے اسے ہر سال منانے کا فیصلہ کیا۔ درحقیقت محنت کشوں کو اپنی طاقت پر اعتماد اور ہمت اس بات سے زیادہ کس چیز سے مل سکتی ہے کہ انہوں نے ہڑتال سے کام کو روک دیا ہے؟

یہاں دو باتیں واضح ہوتی ہیں پہلے یہ کہ ہڑتال یا چھٹی سرکار نے دی نہیں بلکہ مزدوروں نے کی، دوسرے یہ کہ اس سے پہلے پورا سال آگہی مہمات چلائی گئیں۔

آئیے تاریخ کو مزید دیکھتے ہیں

آسٹریلیا سے ہوتا ہوا یہ خیال دوسرے ممالک میں پھیلنا شروع ہوا۔ یہاں تک کہ اس نے پوری پرولتاری دنیا کو مسخر کر لیا۔ آسٹریلیا کے مزدوروں کی پیروی کرتے ہوئے 1884 میں امریکی ٹریڈ یونینز نے مشترکہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ وہ یکم مئی 1886 سے آٹھ گھنٹے مزدوری کے مطالبے کے لئے ملک گیر ہڑتالیں اور مظاہرے کریں گے، ان کی آگہی مہم اس قدر موثر تھی کہ 1885 میں ہی قریباً 2.5 لاکھ مزدوروں نے کام کاج چھوڑ دیے اور ہڑتال کا اعلان کیا، اور بھرپور مظاہرے کیے ، اگلے سال 1886 میں 13000 صنعتی اداروں سے 300000 سے زیادہ مزدور کارل مارکس کی ہدایت ”دنیا بھر کے محنت کشو، متحد ہو جاؤ“ پر عمل پیرا تھے۔

صرف شکاگو میں مظاہرین کی تعداد 1 لاکھ کے قریب تھی، تمام مزدور شہر کا مارچ کرتے اپنے مطالبات کو منوانے کی خاطر یک زبان تھے۔ یہ سفر آسان نہ تھا کیونکہ محنت کش، اشرافیہ یا نون لیگ، پی پی و پی ٹی آئی کے ایما پر نہیں بلکہ اپنے سیاسی شعور کی روشنی میں اپنے بنیادی حق کے لئے ہڑتال پر تھے۔

اگر یکم مئی کو وہی چھٹی کریں جنہیں فیکٹری مالکان چھٹی دیں، اور ریلیاں جلوس بھی وہی نکالیں جو دراصل اس صورتحال کے ذمہ دار ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے محنت کش نہیں سمجھتے کہ موجودہ نظام کے خلاف ایک با اثر تحریک ٹریڈ یونینز، کسانوں کا اتحاد اور طلبہ ہی چلا سکتے ہیں؟ اور یہیں سے ایک اور سوال جنم لیتا ہے کہ ایسے میں بائیں بازو کی تنظیموں کا کیا کردار ہے اور کون کون سی لازم ذمہ داریاں ان پر عائد ہوتی ہیں؟

جب ملک کی بڑی فیکٹریوں نے لاکھوں محنت کشوں کو مکھن میں سے بال کی طرح نکال دیا، جب محنت کش آٹے کی لائنوں میں لگے جاں بحق ہوئے، جب شیخ محمود صاحب (ماسٹر ٹائلز والے ) نے جنہوں نے ایک شادی میں مبینہ طور پر 200 کروڑ روپے خرچ کیے ، 4000 ملازمین کو 5 ماہ سے تنخواہیں نہ دیں، جب کم از کم اجرت کی حد 32 ہزار ہونے کے باوجود اکثر مزدوروں کو بارہ بارہ گھنٹے کام کرنے کے باوجود 18 ہزار اجرت ملے اور اب جب صرف غذائی اجزاء پر مہنگائی 42 فیصد تک جا پہنچی تو ہم پر لازم تھا کہ مزدوروں کے دن کو ہمیشہ سے زیادہ جوش و خروش سے مناتے، اور سرکار پر دباؤ ڈالتے کہ وہ یوں لوگوں کو مرنے کے لئے نہ چھوڑے، لازم تھا کہ ٹریڈ یونینز، کسان اور طلبہ اکٹھے ہوتے اور ایک ایسی مزاحمت پیدا کرتے کہ کارپوریٹ میڈیا، اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ اور پارلیمنٹ کی دیواریں ٹوٹتی نہ تو کم از کم ہلتی تو۔ مگر بے معنی ریلیاں دیکھ کر چھٹی کے دن گلف کلبوں میں بیٹھے ساہو کاروں نے قہقہہ لگاتے ہوئے جون ایلیا کا شعر دہرایا ہو گا ”یہ خراباتیان خرد باختہ / صبح ہوتے ہی سب کام پر جائیں گے“

تیسرے نکتے کی طرف آنے سے پہلے ہمیں بائیں بازو کی جماعتوں کی دن بدن مقبولیت کو تسلیم کرنا ہو گا، ضیاء اور اس کے حواریوں نے جو معاشرے میں تبدیلیاں رونما کیں انہیں دیکھتے ہوئے ترقی پسند نظریات کا پرچار مشکل تھا مگر خوش آئند پہلو یہ ہے کہ کاروان عشق رکا نہیں۔

اب ہم تیسرے نکتے یا شکوے کی طرف آتے ہیں، تیسرا نقطہ ہے، ڈھائی اینٹ کی مساجد کی بہتات۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مختلف مارکسی جماعتوں کو ایک میں ضم ہو جانا چاہیے مگر یکم مئی ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ اس پتھر کو سب مل کر اٹھائیں، کیوں کہ یکم مئی جس جہد و عہد کی تجدید کے لئے ہے اس پر تو سبھی کا اتفاق ہے یا ہونا چاہیے۔ آٹھ گھنٹے مزدوری اور ایک تولہ سونے کے برابر اجرت کے نعرے الگ الگ کھڑے ہو کر لگائے جا سکتے ہیں مگر منوائے نہیں جا سکتے۔

کیا بائیں بازو کی تمام جماعتیں، ٹریڈ یونینز اور طلبہ یونینز کم از کم ایک دن بھی متحد نہیں ہو سکتیں؟

Facebook Comments HS