کیا عمران خان کی امیدیں مانند پڑ گئیں؟


ہماری مملکت اس وقت جاری سیاسی بحران کی پیچیدگیوں پہ قابو پانے کی خاطر پارلیمنٹ کے ذریعے قانونی اصلاحات لانے کی کوشش میں عدالتی فعالیت سے الجھ رہی ہے، موجودہ آئینی بحران اگرچہ نواز لیگ کے لئے تو نیا نہیں لیکن اسی نامطلوب کشمکش کی بدولت عدلیہ کے مقدر پر پہلی دفعہ مشکلات کے سیاہ بادل لہراتے دکھائی دیتے ہیں۔ ہماری قومی تاریخ میں حالات کے جبر نے عدلیہ کو ہمیشہ سویلین حکومتوں کی گرانے کی قوت سے بہرہ ور رکھا تاہم نواز شریف نے بھی ہر دور میں عدالتی فعالیت کے خلاف خاموش مزاحمت کی روش ترک نہ کی اور اب پہلی بار نواز لیگ والے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے عدالتی فعالیت کو کند بنانے کی جارحانہ مشق میں سرگرداں نظر آتے ہیں۔

2017 میں جب عمران خان نے عدالتوں کے ذریعے لیگی حکومت کا تختہ الٹا تو نواز شریف نے عدلیہ اور مقتدرہ کے خلاف، ووٹ کو عزت دو ، کا مزاحمتی بیانیہ اپنا کر ملکی سیاست کے سارے ڈائنامکس بدل ڈالے، اسی پیش دستی کے مضمرات نے آج بھی طاقت کے مراکز کو وقف اضطراب رکھا ہوا ہے۔ تاہم حالات کے تیور بھانپ کر فوجی قیادت نے خود کو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ رکھنے کی خاطر پوری شرح صدر کے ساتھ عوام کو قوت کا محور مان کر پارلیمنٹ کے حق حاکمیت کو تسلیم کر لیا لیکن اعلی عدلیہ کے ذیشان ججز تاحال نئے حقائق کو ماننے کے لئے خود کو تیار نہیں کر سکے، اس لئے موجودہ عدالتی مقتدرہ کو اندر اور باہر سے ناقابل یقین مزاحمت کا سامنا ہے، جسے اگر بروقت ہموار نہ کیا گیا تو یہ سب ایک ایسے دلدل میں پھنستے چلے جائیں گے جس سے انہیں نکالنے والا بھی کوئی نہیں رہا، ہو سکتا کہ ہمہ دان دیوتا ہماری آراء کا تمسخر اڑائیں لیکن سچ یہی ہے کہ ذرا سی دیانت اور تھوڑی سی کسر نفسی انہیں اس بات کا یقین دلانے کے لئے کافی ہو گی کہ کائنات کی بوقلیمونی اور زندگی کا تنوع ہمارے محدود اذہان کے احاطہ سے باہر ہے یعنی تاریخ کی رفتار اور معنی اس کے سوا کچھ نہیں کہ بہ تسلسل اور با تواتر جبر اور من مانی کارروائیوں کا دائرہ تنگ تر کیا جائے اور مفاہمت و صلح کے خط میں توسیع ہونی چاہیے مگر افسوس کہ ہماری جوڈیشل اشرافیہ ابھی ماضی کی نفسیات سے دامن چھڑانے کو تیار نہیں۔

امر واقعہ بھی یہی ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی راولپنڈی بار سے خطاب کی باز گشت ابھی فضا میں تحلیل نہیں ہو پائی تھی کہ نواز لیگ کے نہال ہاشمی، دانیال عزیر اور طلال چوہدری کی جارحانہ تنقید نے سپریم کورٹ کے چند نمایاں ججز کو نواز لیگ کے ساتھ براہ راست تصادم میں الجھا دیا، جس وقت عدالتیں نواز لیگ کی صف اول اور دوم کی لیڈرشپ کو انتخابی سیاست کے لئے نا اہل کر کے سیاسی اکھاڑے سے باہر کر رہی تھیں عین اسی وقت عدلیہ خود بھی لاشعوری طور پہ اسی سیاسی اکھاڑے میں اتر چکی تھی، جس کی جدلیات کا انہیں کچھ تجربہ نہ تھا۔

چنانچہ پی ٹی آئی کے چار سالہ دور اقتدار میں ایک پیج کی حامل حکمراں تکون کی ایما پر جب احتساب عدالتوں نے لیگی قیادت کو ہمہ جہت مقدمات میں الجھا کر پابا زنجیر رکھا ہوا تھا تو اسی وقت مریم نواز نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی اعترافی ویڈیو پبلک کر کے سلیکٹڈ احتساب کی چولیں ہلا ڈالیں، لہذا طاقت کی تکون اپنی تمام تر مساعی کے باوجود نواز لیگ کا ”احتساب“ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی اور اب تو پاور پالیٹکس کی جدلیات تقدس کے لبادوں میں ملبوس عالی مقام لوگوں کو سیاست کے اس جہنم میں چہل قدمی کی طرف کھینچ لائی، جہاں سب کے چہرے جھلس جاتے ہیں۔

تقدیر کی جبریت نے قومی تاریخ میں پہلی بار مقتدرہ کی پشت پناہی سے محروم عدالتی کرداروں کو اس برہم کن پارلیمنٹ کے سامنے لا کھڑا کیا، جو عدلیہ کے ہاتھوں زخم خوردگی کی طویل تاریخ رکھتی ہے، جس کی تلخی کا اندازہ پارلیمنٹیرین کے خطبات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ چنانچہ سیاسی جماعتوں میں مذاکرات کی ناکامی کے بعد تیزی سے بڑھتے ہوئے جس بحران نے جوڈیشری کو چاروں اطراف سے گھیر لیا، اس کا بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہونے کے امکان معدوم ہیں کیونکہ یہ بحران ایسا سنڈروم بن گیا جس میں عدلیہ پارلیمنٹ کو کنٹرول اور پارلیمنٹ عدالتی اصلاحات میں بقا تلاش کرنے لگی ہے۔

چند ہفتے قبل حکومت نے پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں عدلیہ کی آزادی کی راہ میں حائل ان تراشیدہ قواعد کو ریگولیٹ کرنے کا ایسا بل پاس کیا، وکلاء برادری تیس سالوں سے جس کی ڈیمانڈ کر رہی تھی تاہم اس بل کی تشکیل سے قبل ہی اس چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لے کر مرضی کا آٹھ رکنی بینچ بنا کر قانون پہ عملدرآمد روک دیا، جو اس نئے قانون کا سب سے زیادہ متاثرہ فریق تھا۔ پاکستان بار کونسل سمیت چاروں صوبوں کی بار کونسلوں اور بار ایسوسی ایشنز سمیت دانشوروں، ادیبوں، صحافیوں اور سیاسی جماعتوں نے سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل کا گرم جوشی سے خیرمقدم کرتے ہوئے مجوزہ قانون کی صدر سے حتمی منظوری سے قبل اس پہ عمل درآمد روکنے کے پیشگی حکم امتناعی کو آئینی حدود سے متجاوز قرار دے کر پارلیمنٹ کے قانون سازی کے اختیار پہ اثر انداز ہونے کی کوشش سے تعبیر کیا، خود عدلیہ کے اندر سے بھی سپریم کورٹ کے سینیئر ججز نے نئے قانون کو عدالتی نظام میں پائی جانے والی پیچیدگیوں کو ریگولیٹ کرنے کا جائز ٹول قرار دیا۔

تاہم سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) ایکٹ 2023 کہلانے والی یہ قانون سازی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ ملک کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے پنجاب میں صوبائی انتخابات میں تاخیر پر الیکشن کمیشن کے خلاف سو موٹو کیس کی سماعت کر رہا تھا اور جس کے خلاف قومی اسمبلی نے متفقہ قرارداد منظور کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے پارلیمنٹ کی حدود اور سیاسی امور میں مداخلت بند کرنے کا مطالبہ کر رکھا تھا۔

قرارداد میں کہا گیا کہ یہ ایوان سمجھتا ہے کہ حکومتی امور میں عدلیہ کی مداخلت سیاسی عدم استحکام کا سبب بنی خاص کر آئین کی شق 63 اے کی تشریح کی آڑ میں آئین کو ری رائٹ کرنے کی پیش دستی کے مضمرات نے پارلیمنٹ اور عدلیہ سمیت پورے نظام کو بحران میں الجھا دیا، چنانچہ پہلے سے موجود کشیدگی کی فضا نے ایسی مفید قانون سازی کو متنازعہ بنا دیا جو خود عدلیہ کی قوت کو ریگولیٹ اور ساکھ کو زیادہ بہتر بنا سکتی ہے، پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے بل میں، بینچ کے ذریعے قانون سازی روکنے، چیف جسٹس کی انتظامی اتھارٹی کے ذریعے 17 ججز پر مشتمل پوری سپریم کورٹ کو مفلوج کر دینے والے رولز میں مناسب ترامیم تجویز کی گئیں، جن کی ضرورت اور اہمیت کی طرف اشارہ، دو صوبوں میں الیکشن کے لئے تشکیل دیے گئے سات رکنی بینچ کے چار فاضل ججز نے اپنے تفصیلی نوٹس میں کیا تھا کہ سوموٹو نوٹس لینے کا طریقہ کار، بینچز کی تشکیل اور میرٹ پہ مقدمات لگانے جیسے انتہائی بنیادی معاملات کو فرد واحد کی مرضی پہ نہیں چھوڑا جا سکتا۔

تاہم حکومت اور عدلیہ کے تنازعہ کا بنیادی محرک دو صوبوں میں قبل از وقت انتخابات کرانے کا سابق وزیراعظم عمران خان کا مطالبہ اب بھی محل نظر ہے، عمران خان کو اپوزیشن نے گزشتہ سال اپریل میں عدم اعتماد کے ذریعے حکومت سے بیدخل کیا تو 72 سالہ سیاستدان نے جنوری 2023 میں پنجاب اور خیبر پختونخوا صوبوں کی صوبائی اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کر کے پہلے جلسوں اور ریلیوں کے ذریعے وفاقی حکومت کو دو صوبوں میں قبل از وقت انتخاب کرانے پہ مجبور کرنے کی کوشش کی، بعد ازاں سپریم کورٹ کے ذریعے فیصلہ لے کر انتخابی عمل شروع کرانے کی خاطر وہ 2017 کی طرح عدلیہ اور گورنمنٹ کے مقابل لانے کی تگ و دو میں سرگرداں نظر آئے لیکن گورنمنٹ نے قومی اور دو صوبائی اسمبلیوں کی موجودگی میں پنجاب اور خیبر پختون خوا میں قبل از وقت انتخابات کرانے کے عمل کو آئین کی مجموعی سکیم کے منافی قرار دے کر اکتوبر 2023 میں قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ کرانے کا موقف لیتے ہوئے خان کے اس اقدام کو زبردستی انتخابات کرانے کی کوشش سے تعبیر کرتے ہوئے مسترد کر دیا۔

مولانا فضل الرحمن کہتے ہیں ”عمران خان کو چونکہ بڑی تعداد میں بدعنوانی کے مقدمات کا سامنا ہے، چنانچہ وہ قانونی تادیب سے بچنے کی خاطر جلد انتخابات کے ذریعے دوبارہ برسراقتدار آنے کی امید لگائے بیٹھے ہیں اس لئے وہ اپنے خلاف فارن فنڈنگ کیس اور توشہ خانہ جیسے مقدمات میں فرد جرائم عائد ہونے کے عمل کو تاخیری حربوں سے الجھانے میں مصروف ہیں، اس کوشش میں وہ عدلیہ کی عنایات کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتے“ لیکن ان کے کہنہ مشق مخالفین نے عدلیہ کو طاقت کے مراکز سے الگ کر کے خان کی اقتدار میں واپسی کے امکانات کو بعید تر بنا دیا۔

Facebook Comments HS