گیڑو گیڑ بگیڑو وے رمضان دا ابا


دیوجانس کلبی رومی  فقیر آدمی تھا جھولا اٹھا کر جہاں دل کرتا چل پڑتا‍۔ ایک مرتبہ جب وہ لیٹا دھوپ سینک رہا تھا تو سکندر اعظم کا اس جگہ سے گزر ہوا۔ اس کے لشکریوں نے بتایا کہ یہی دیو جانس ہے۔ سکندر اسے ملا اور اسے اس کی ہر خواہش پوری کرنے کا عندیہ دیا۔ دیو جانس کا جواب تھا ”پیچھے ہٹو۔ دھوپ آنے دو“ ۔

اسی طرح اشفاق احمد کی کتاب زاویہ کا اک کردار راج مستری تھا۔ اک دن بنا بتائے مستری نے چھٹی کر لی جبکہ وہ دن کام کے لئے اہم تھا تو اشفاق صاحب کافی انتظار کرنے کے بعد اس کا گھر تلاش کرتے گھر پہنچ گئے۔ وہ کہتے ہیں جب میں نے اس کے کام پر نہ آنے کی وجہ پوچھی تو مستری مجھے اپنے گھر کے کچے آنگن میں لے آیا اور بولا ”آج سرما کی دھوپ کھلی ہے اور آج اس سامنے والے پودے پر پہلا پھول بھی کھلا ہے اور میرا بیٹا جو بارہ ماہ کا ہو چکا ہے آج ہی اس نے چلنے کے لیے پہلا قدم اٹھایا ہے تو صاحب تھوڑی سی دیہاڑی کے لئے اتنا خوبصورت دن میں نہیں برباد کر سکتا۔

مانا کہ دنیا میں پیسہ بہت ضروری ہے مگر سکون پیسے کے بغیر بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ کہتے ہیں معلوم انسانی تاریخ ہزاروں سالوں پہ مشتمل ہے۔ لیکن یہ کمرشلائزیشن چند سو سال پہلے کا قصہ ہے۔

ہزاروں سال انسان بنا پیسے کے بنا مادیت پرستی کے خوش رہا۔ جینے کے لیے کیا ضروری ہے روٹی کپڑا اور مکان۔ اب یہ ہماری ہوس ہے کہ ہمیں روٹی فائیو سٹار کی چاہیے کپڑا برانڈڈ چاہیے اور مکان کئی منزلہ۔

کبھی سوچا ہے کہ ایسا کیوں ہے گھر میں انسان کچھے بنیان میں گھومتا رہتا ہے لیکن دنیا کو دکھانے کے لیے وہ نت نیا فیشن اپناتا ہے۔

موبائل میں کیمرہ ریم روم 25 ہزار میں مل جاتا ہے لیکن ہمیں دو لاکھ والا آئی فون چاہیے۔

بچے کی سالگرہ ہے گھر میں اس کا پسند کا کھانا بنا کر اس کے ساتھ وقت بتا کر اس کی پسندیدہ کارٹون فلم دیکھ کر فیملی کے ساتھ کوالٹی وقت بتا کر خوش ہوا جا سکتا ہے

لیکن ہمیں غباروں کی سجاوٹ سے آراستہ کمرہ، سنو سپرے، کیریکٹر کیک کے ساتھ فیس بک پہ لگانے کے لیے تصاویر چاہیں۔

کہتے ہیں بچپن میں بے فکری ہوتی ہے جو بعد میں ڈھونڈے سے نہیں ملتی۔ بچپن کہیں نہیں جاتا انسان کے اندر کا بچہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے ہم بدل جاتے ہیں۔ آج آپ بہن بھائیوں کے ساتھ کتنا وقت بتاتے ہیں

ماں بابا کو دینے کے لیے کتنا وقت ہے ہر کمرے میں موجود علیحدہ ٹی وی کو چھوڑ کر ساری فیملی نے اک ساتھ بیٹھ کر کوئی شو کتنا عرصہ پہلے دیکھا تھا

دھوپ میں بیٹھ کر مالٹے کھانے کا سکون محسوس کیا ہے؟ گنا چھیل کر کھائے کتنا عرصہ گزرا؟ پرانے سکول کا چکر لگایا بچپن کے دوستوں کو وقت دیا؟ گرمیوں میں ٹیوب ویل پہ نہائے نہر میں نہ نہانے کا فیصلہ کیے کتنا وقت ہو چلا ہے؟

سردیوں کی راتوں میں آگ والے کمرے میں مونگ پھلیاں کھاتے ہوئے گپیں لڑانا کیوں بند کر دیں۔ لڈو کھیلنے یسوں پنجوں سونا چاندی والے کھیل کھیلنا کیوں بند کر دیے؟

ان سب کاموں سے کون آپ کو روکتا ہے یقین جانیں آپ خود ہی خود کو قیدی بنا کر رکھتے ہیں۔ خود کو آزاد چھوڑ دیں دنیا کی پرواہ کرنا چھوڑ دیں۔

اگر مجھے فلموں اور موسیقی پہ لکھتا دیکھ لوگ کہتے ہیں کہ کن کاموں میں لگ گئے ہو تو یقین کریں مجھے رتی بھر پرواہ نہیں ہوتی۔

میں ٹک ٹاک پہ لپ سنکنگ کرتا ہوں تو ارد گرد لوگوں کی کانا پھوسیوں کو جوتے کی نوک پہ رکھتا ہوں۔

وہ کام کریں جس سے آپ کو خوشی ملتی ہے۔ عبدالستار ایدھی جیسے انسان کو دنیا نے نہیں چھوڑا آپ کی میری کیا اوقات۔

فرحت عباس شاہ اک ایسا نام جس نے مارشل آرٹس اور شاعری میں اک نام بنایا لوگ ان کے آج کے کام پہ ہنستے ہیں کہ کس طرح بنی بنائی عزت خراب کر لی۔

لیکن فرحت عباس شاہ خوش ہے مطمئن ہے پیسے کما رہا ہے ہنس کھیل رہا ہے
ہمیں بھی شاہ جی جیسی جرات کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔
آپ من مرضی کرتے جائیں اک وقت آتا ہے وہی باتیں کرنے والے آپ کے توسط سے تعارف کرا رہے ہوتے ہیں۔

ٹک ٹاک پہ کئی مزدور ایسے مشہور ہوئے کہ آج ”جینٹری“ ان کے ساتھ سیلفیاں بناتی ہے۔ یوٹیوب پہ اک بندے نے بیوی بچوں سمیت ویڈیو ڈالنا شروع کیں خاندان نے غیرت دلانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ آج وہ خاندان اپنا گھر بنوا رہا ہے چھوٹی سی گاڑی لے لی ہے۔ اب وہی خاندان چھوٹے موٹے سرکاری کاموں کے لیے بندے سے فون کرانے آئے ہوتے ہیں۔

گردن میں سریا ڈالے کلف لگے سوٹ میں صبح سے شام کرتے مشینی انسانوں سے ”وے رمضان دا ابا“ خاندان زیادہ پیارا لگتا ہے۔

میں بھی اک عرصہ سے ڈپریشن کا شکار تھا ڈاکٹرز نے گولیاں تجویز کیں سکون بھری نیند کے لیے بھی گولیاں بتائیں۔ میں راہ فرار حاصل کرنے کے لیے شام کو شہر سے باہر دیہات میں نکل جاتا ڈپریشن جاتا رہا کمر درد گم ہو گیا جو اک دو بال سفید ہو چکے تھے وہ خودبخود کالے ہو گئے۔ جسم شیپ میں آنا شروع ہو گیا۔

اک طمانیت و سکون کی کیفیت محسوس کرنا شروع کر دی۔ ایسی لت لگی کہ اگر شام کو واک پہ نہ جاتا تو بے چینی شروع ہو جاتی۔

بیچ میں بیماری کے چلتے سب چھوٹ گیا تھا لیکن الحمدللہ
Back To Track.

کامران قمر کہتا ہے لوگوں سے توقعات چھوڑ دیں زندگی کو سادہ کر لیں بڑی خواہشات پالنے کی بجائے چھوٹی خوشیاں کشید کریں پھر دیکھیں زندگی گلزار ہے۔

Facebook Comments HS