رابن سن کروسو کے اردو تراجم
رابنسن کروسو ڈینیئل ڈیفو کا ایک ناول ہے، جو پہلی بار 1719 ء کو شائع ہوا تھا۔ پہلی ہی اشاعت سے کہانی کے مرکزی کردار رابنسن کروسو اور مصنف مشہور ہو گئے تھے، جس سے بہت سے قارئین کو یقین ہو گیا کہ کروسو ایک حقیقی شخص ہے اور کتاب سچے واقعات کا سفرنامہ ہے۔
کتاب کو کردار کی خود نوشت کے طور پر پیش کیا گیا ہے (جس کا پیدائشی نام رابنسن کریوٹزنایر ہے۔ جو ایک ایسا تباہ حال شخص ہے ؛ جس نے تقریباً 28 سال وینزویلا اور ٹرینیڈاڈ کے ساحلوں کے قریب ایک دور دراز حاری صحرائی جزیرے پر گزارے جو ٹوباگو سے مشابہت رکھتا ہے۔ بچائے جانے سے پہلے اس کا سامنا آدم خوروں، قیدیوں اور باغیوں سے ہوتا ہے۔ یہ کہانی الیگزینڈر سیلکرک کی زندگی پر مبنی سمجھی جاتی ہے، جو ایک سکاچ تھا جس کی کشتی تباہ ہو گئی تھی اور وہ بحرالکاہل کے ایک جزیرے ”Más a Tierra“ (یہ اب چلی کا حصہ ہے ) پر چار سال تک مقیم رہا، اس کا نام 1966 ء میں ”رابنسن کروسو جزیرہ“ رکھا گیا تھا۔
اردو میں اس ناول کو مکمل، تلخیص اور ڈرامائی (مکالموں ) صورت میں لکھا گیا ہے۔ تلخیص شدہ اشاعتیں بچوں کے لیے تھیں۔ پہلی بار اردو میں اس کو ڈاکٹر ایڈورڈ جان لازرس نے 1870 ء کی دہائی میں پیش کیا، اسی کی دوسری نظرثانی شدہ اشاعت مرزا قیصر بخت نے 1877 ء میں کی، اس میں دو مثنویاں اور 28 تصاویر ہیں، ہر سطر پر اوسط 26 سطور اور 14 الفاظ ہیں ( 1 لاکھ سے زیادہ الفاظ) ، کتاب 346 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس ناول کا یہی سب سے مکمل ترجمہ ہے۔
اس کے بعد طالب الہ آبادی نے 1928 ء میں کروسو سیاح کے نام سے اس کی تلخیص شائع کی، جو 8 تصاویر کے ساتھ 55 صفحات پر مشتمل تھی ( 10 ہزار الفاظ) ۔ اس کی جدید اشاعت بھارت سے 2022 ء میں مکرم نیاز نے کی ہے، جس کے کل 52 صفحات ہیں۔
1935 ء میں ”رابنسن کروسو“ کے عنوان سے انڈین پریس لمیٹڈ، الہ آباد نے اس کو شائع کیا، مگر کتاب پر کسی مترجم کا نام موجود نہیں، 6 تصاویر کے ساتھ، کتاب 266 صفحات پر مشتمل تھی ( 80 ہزار الفاظ) ۔
جب کہ شجاع احمد قائد نے ”رابنسن کروسو“ کے عنوان سے 1942 ء میں اس کو ڈراما کی صورت لکھا، 7 تصاویر کے ساتھ یہ کل 90 صفحات پر مشتمل تھا ( 10 ہزار الفاظ) ۔
آزادی کے بعد دونوں ملکوں سے اس کو بچوں کے لیے تلخیص کیا جانے لگا، 1969 ء میں قمر نقوی نے ”رابن سن کروسو بچوں کے لیے“ کے عنوان سے تلخیص کیا جو فیروز سنز سے شائع ہوا، 1978 ء میں م ندیم کا تلخیص کردہ ناول رابنسن کروسو کے عنوان سے بھارت سے اور بعد ازاں پاکستان سے ہمدرد فاؤنڈیشن، کراچی سے شائع ہوا۔ اس کے بعد ستار طاہر اور اے حمید نے بھی اس کی تلخیص کیں، جو بالترتیب دوست پبلی کیشنز، اسلام آباد اور شیخ غلام علی اینڈ سنز، لاہور سے شائع ہوئیں۔
ناول میں ایک کردار جو کروسو کو جمعے (فرائیڈے ) کو ملتا ہے، تو وہ اس کا نام فرائیڈے رکھ دیتا ہے، پہلے ترجمے میں اس کا نام جمعہ، دوسرے میں شکروار، اور تیسرے ترجمے میں فرائیڈے ہے، جب کہ سب سے دل چسپ نام م ندیم نے جمن رکھا ہے، ان کے سوا باقی سب نے اس کو فرائیڈے ہی باقی رکھا ہے یا جمعہ لکھا ہے۔
اس ناول کی انگریزی تلخیص پاکستان سے اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس شائع کرتی ہے جو بہت سے نجی اسکولوں میں امدادی کتاب کے طور پر شامل ہے۔



