اینزائٹی۔ مگر کیوں
رات کے درمیانے پہر جب ہر طرف ایک سکون کی سی کیفیت طاری ہوتی ہے، دنیا وحشت سے دور، بند آنکھوں کی دنیا میں کھوئے جب اچانک آنکھ کھلے اور محسوس ہو کہ جیسے وجود کائنات کہیں نہیں۔ جسم کسی بھاری بوجھ تلے دبے، بے حس اور بے نشاں روح۔ جو عالم ء ارواح میں کیے جانے والے عہد کو یاد دلانے کو بے چین ہوتی ہے۔ ہر جانب ایک انجانی سی گھبراہٹ اور خوف۔
کیا ہے یہ کیفیت؟ زندگی، خوشی یا غم، یقین یا بے یقینی، سکون یا بے سکونی؟ دھوپ اور چھاؤں کے درمیان ایک ایسی سفید چادر کی مانند کہ جس کا رخ ہمیشہ ہواؤں کے رحم و کرم پر رہتا ہے اور جذبوں کا ہر رنگ اس پر پھیکا نظر آتا ہے۔ جس میں ہماری لمبی اور مسلسل کی گئی کوششوں اور جدوجہد کا ثبوت اپ وجود کھو چکے ہوتے ہیں۔ لیکن یہ خوف، بے چینی، گھبراہٹ کے وجود ہی کیوں؟ بات تو ساری یہی ہے کہ جس زندگی کو ہم شروع سے لے کر اب تک ایک فیری ٹیل سمجھ کر گزارنے کے خواہشمند ہوتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ عقل اور ذہانت سے ہم اپنی قسمت کو اپنے ہاتھ سے بہتر بنائیں گیں۔
ویسا ہی ہو گا جیسے ہم چاہتے ہیں اور اس کے لیے ہم دن رات محنت اور جدوجہد کرتے ہیں لیکن یہی زندگی جب ہمیں بے بس اور لاچار کر دیتی ہے تب اپنی ذات اور قسمت پر یقین ختم ہو جاتا ہے۔ یہیں سے وہ خوف، اندیشے، وسوسے، بے یقینی کی سی کیفیت پیدا ہوتی ہے جسے بعد میں ڈاکٹر اینزائٹی، ہمارے بزرگ دین سے دوری، اور کچھ لوگ جو یہ سب دیکھنے کے عاری ہو جاتے ہیں وہ اسے ناشکری کا نام دے دیتے ہیں۔ لیکن اس سب کے بعد پھر خوف کس چیز کا کہ جو ہمیں بے چین رکھتی ہے۔ وہ چھن جانے کا، آزمائشوں میں مشقتوں کا خوف، یا پھر اپنی قسمت پر یقین نہ رہ جانے کی
گھٹن اور گھبراہٹ ہوتی ہے کہ کچھ برا نہ ہو جائے۔ یا پھر شاید وفاؤں اور محبتوں کے ضائع ہو جانے کا خوف، آسانیوں کے چلے جانے کا خدشہ، بے وفائی کا خوف اور سوسائٹی کا پریشر۔
یہ سب جب بہت عرصے تک ہمارے لاشعور میں پلتے رہنے کے بعد باہر نکلتا ہے تو ہماری ذات سے لے کر ہمارے سے منسلک ہر چیز کو ختم کرنا شروع کر دیتا ہے۔
کسی پہر جب بچپن کو یاد کر کے دل اداس ہو تو سمجھ جاؤ کہ زندگی کی ذمہ داریوں اور بوجھ نے کندھے جھکانا شروع کر دیے ہیں۔ وراثت میں ملنے والی دولت کی طرح، منتقل ہونے والی سوچ، عادتیں، روایات، لاشعوری ذہنی بیماریاں،
جو ہمارے بزرگوں نے کیا ہم بھی وہی کریں گے یا جو انہوں نے کیا ہم وہ نہیں کریں گے؟ جو ان کے ساتھ ہوا کہیں ہمارے ساتھ نہ ہو یا ہماری قسمت میں بھی وہی ہو جو ان کی قسمت میں تھا؟ یہ سوچ انہی کیفیات کو جنم دے رہی ہیں جسے اینزائٹی اور بعد میں پینک اٹیک کہا جاتا ہے۔
قرآن مجید میں اللہؔ کا ارشاد ہے۔
”ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے،
خوف کی کیفیت سے۔
جان و مال کے نقصان سے،
محنتوں کے ضائع ہو جانے سے، اے نبی! بشارت دے دیجیے صبر کرنے والوں کو ”۔
جب زندگی اور اس سے وابستہ ہر خوشی اور غم کا تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات سے بندھا ہوا ہے تو انسان کا توکل اتنا کمزور کیوں ہوتا ہے؟
لیکن میرا رب یہ بھی فرماتا ہے۔
”اے میرے بندے! چاہے پوری دنیا کے لوگ مل جائیں، نہیں پہنچا سکتے تم کو کوئی نقصان، مگر سوائے اس کے کہ جو لکھ دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔
بے شک یہ سب تو دنیا کا سامان ہے اور لوٹ کر اسی کی طرف جانا ہے ”۔
انسان کو اللہ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ اسے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت دی۔ عقل اور شعور دیا۔ اسے محنت کرنے اور فیصلہ کرنے کی سمجھ عطا کی۔ لیکن آنے والے وقت اس کے لیے کیا لے کر آتا ہے یہ دیکھنے سے محروم رکھا۔ کیوں؟ شاید اس لیے تا کہ انسان دعا، تدبیر، اللہؔ پر توکل اور محنت کے ساتھ آگے بڑھے۔ اس یقین کے ساتھ کہ میرے خوف اور اندیشے میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ کوئی بشر مجھے نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ کوئی شر میرے قریب نہیں آ سکتا کہ جب تک اللہ نہ چاہے۔ بے شک کہ اس کی طرف سے آنے والے ہر مشکل میں بھی خیر ہے اور تکلیفوں میں بھی مصلحت ہے لیکن ہم نہیں سمجھ سکتے۔
کہا گیا ہے۔
اس کائنات کو چلانے والا، ایک سمیع و بصیر خدا ہے۔ وہ جو میرا دوست ہے۔ میرا ولی ہے۔ اللہؔ اہل ایمان کا ولی ہے۔ میرا ساتھی ہے۔ میرا پشت پناہ ہے۔ میرا حامی ہے۔
بتائیے کہ جسے یقین ہو جائے کہ اللہ اس کا مددگار اور محافظ ہے۔
اس کا حامی ہے اسے کیونکر کوئی خوف ہو گا؟ کوئی ڈر ہو گا؟


