تاریخ کا شعور بانٹنے والا ”ڈاکٹر مبارک علی“ دربدر کیوں؟

اکیسویں صدی جسے انسانی شعور کی بالغ صدی کہنا زیادہ مناسب ہو گا، سائنس و ٹیکنالوجی کی بدولت اساطیری تصورات اپنی اہمیت و فضیلت بڑی تیزی سے کھونے لگے ہیں اور آج کے انسان کے ہاتھ ایک ایسی کسوٹی لگ چکی ہے جس کے ذریعے سے وہ بہت کچھ چھانٹی کر سکتا ہے۔
ماضی کی توہماتی کہانیاں اور لفظوں کے خیالی قلعے جو موٹی موٹی کتابوں کی صورت میں موجود ہیں، جنہیں آج بھی روایتی معاشروں میں تمام تر سائنسی ترقی کے باوجود سچ کی معتبر و مستند دستاویزات سمجھا جاتا ہے۔
آج کا انسان ماضی کے ان تمام تصورات کو لمحہ موجود کے دستیاب شدہ سائنٹفک حقائق کی روشنی میں اور اپنی عقل و فہم کی چھلنی میں چھان لینے کے بعد بے بنیاد، خام اور ناپختہ قسم کے تصورات جنہیں کسی بھی طرح سے ثابت نہیں کیا جاسکتا بڑی آسانی سے الگ کر سکتا ہے۔
یہ فیصلہ کن ہتھیار اس کے ہاتھ میں سائنس کی بدولت آیا ہے اور معقولات کے غالب آنے کی وجہ سے منقولات کی گرہیں بہت حد تک ڈھیلی پڑ چکی ہیں اور آنے والے وقتوں میں وہی قومیں ممتاز و غالب ٹھہریں گی جو عقلی علوم کو ترجیح دیں گی اور سائنسی برکات کو سمیٹنے میں مصلحتی لیت و لعل اور ہچکچاہٹ سے کام نہیں لیں گی۔
کسی بھی معاشرے کی ذہنی سطح کو جانچنے کا ابتدائی لٹمس ٹیسٹ یہ ہوتا ہے کہ وہاں کے لوگ اپنے اعلیٰ اذہان کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور انہیں کس طرح سے ڈیل کرتے ہیں؟ دوسرا پیمانہ یہ ہو گا کہ ان کے شعوری موضوعات کیا ہیں؟
یہ ابتدائی دو پیمانے کسی بھی معاشرے کی ذہنی ترجیحات کا تعین کرتے ہیں کہ وہ سوچتے کس انداز سے ہیں اور سوچنے والوں کو کس زاویہ نگاہ سے دیکھتے ہیں؟
اگر تو ان کے شعوری موضوعات میں مذہب کا عمل دخل زیادہ ہوا تو ظاہر ہے وہ ثواب و گناہ، جائز و ناجائز، نیک و بد یا انسانوں کو ججمنٹل فریم آف تھاٹ سے اوپر اٹھ کے کبھی بھی نہیں دیکھ پائیں گے اور ان کا عقلی محور سائنس کی بجائے روایتی تعلیمات ہوں گی اور اس قسم کے جتنے بھی معاشرے آج موجود ہیں آپ ان کی ترقی کا گراف ملاحظہ کر لیں اور بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آج کے دور میں وہ کہاں کھڑے ہیں؟ دوسرے نمبر پر وہ معاشرے آتے ہیں جو ماضی کے غیر عقلی اور جذباتی تصورات کو پس پشت ڈال چکے اور سائنس کو اپنا عقلی رہنما تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھ چکے ہیں اور ان کے شعوری موضوعات اس حقیقت و جستجو کے گرد گھومتے رہتے ہیں کہ
”اس کائنات کو مزید مسخر کیسے کیا جا سکتا ہے“
ظاہر ہے جن کا موضوع کائنات ہوگی وہی معاشرے آگے بڑھیں گے اور ایسے معاشرے ہمارے سامنے موجود ہیں جو کہاں سے کہاں جا چکے ہیں، سب سے بڑھ کر وہاں شعور بانٹنے والوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
دوسری طرف ہمارے ہاں ان اذہان سے جو سلوک روا رکھا جاتا ہے وہ سب آپ ڈاکٹر مبارک علی کے ویڈیو پیغام کو سن کر ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹر مبارک علی ہمارے ملک کا وہ ”ان سنگ ایسٹ“ یا گمنام ہیرو ہے جس نے ہمارے ملک کے لاکھوں طالب علموں کو تاریخ پڑھنے اور سمجھنے کا ایک مختلف قرینہ دیا ہے اور تاریخی پہلوؤں کی حقیقی روح سے روشناس کیا ہے۔
اس شخص کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے تاریخ کو جذباتیت کے پلندے تلے سے نکال کر اس کا حقیقی چہرہ عوام کو دکھایا ہے اور اسی جستجو اور کھوج میں انہوں نے سینکڑوں کی تعداد میں کتابیں رقم کر ڈالیں، جو تاریخ کے طالب علموں کے لیے ہمیشہ مشعل راہ رہیں گی، ان کے درجنوں ٹی وی پروگرامز، انٹرویوز اور ہزاروں کی تعداد میں لکھے گئے اخباری مضامین اسی ملک کے تاریخی ریکارڈ کا حصہ بن چکے ہیں جہاں انہیں مسلسل نظرانداز کیا جاتا رہا ہے اور وہ پبلشرز جو ان کی کتابیں چھاپ کر بڑے بڑے کاروباری ٹائیکون بن گئے چند ہزار رائلٹی دینے سے بھی منکر ہو گئے۔
بابائے سوشلزم کارل مارکس کی ”داس کیپیٹل“ منظر عام پر آنے کے بعد جب ان کو رائلٹی دی گئی تو اس خطیر سی رقم کو دیکھ کر ہنسے اور کہا کہ
”یہ تو اتنی رقم بھی نہیں ہے جتنے میں نے کتاب رقم کرتے وقت سگار پیے تھے“
فکشن ہاؤس والے جتنا ڈاکٹر صاحب کی کتابوں سے کما چکے ہیں یا کما رہے ہیں کیا وہ ان کے حقیقی الفاظ کی قیمت ادا کر سکتے ہیں؟
چند ہزار کی رائلٹی کی حیثیت ان کی برسوں کی تحقیق اور دن رات بیٹھ کر مسلسل لکھتے رہنے کے آگے کیا ہو سکتی ہے؟
ڈاکٹر مبارک کی تاریخی خدمات پر ”نطشے“ کے تاریخی الفاظ بالکل موزوں لگتے ہیں کہ ”ہمارا وقت ابھی نہیں آیا کچھ تخلیقی لوگ مرنے کے بعد پیدا ہوتے ہیں یا دریافت ہوتے ہیں“ ڈاکٹر صاحب آپ غلط معاشرے میں پیدا ہو گئے ہیں جس کی قیمت بہرحال آپ کو چکانا پڑے گی۔ یہ شعور دشمن سماج ہے جو جذباتیت کی جھوٹی سچی کہانیوں پر بہلنے کا عادی ہو چکا ہے، یقین مانیں اگر آپ روحانی گرو ہوتے یا آپ کے نام کے ساتھ کوئی بھی مقدس سا صیغہ لگا ہوا ہوتا تو آپ آج کروڑوں میں کھیل رہے ہوتے۔
آپ کی کتابیں دھڑا دھڑ بک رہی ہوتیں اور پبلشرز آپ کے در دولت پر حاضر ہو کر نہ صرف آپ کی دست بوسی کر رہے ہوتے بلکہ لاکھوں میں رائلٹی بھی دیتے۔
جیسا کہ بہت سے کلین شیوڈ روحانی صوفیوں کی کتابیں بھی بکتی رہتی ہیں اور مریدین کا حلقہ بھی بڑھتا رہتا ہے، اس کے علاوہ جیتے جاگتے طلباء کو ”روبوٹ“ بنانے کے لیے کالج و یونیورسٹی میں ان کے لیکچر بھی منعقد کروائے جاتے ہیں۔ شعبدہ بازوں کے سماج میں عقل ہمیشہ خوار ہوتی ہے، یہاں شعور کو کون پوچھتا ہے صرف روحانی چورن بکتا ہے جناب!
یہ تلقین بابوں اور روحانی شعبدہ بازوں کا معاشرہ ہے یہاں کسی کو تاریخی شعور سے کیا غرض؟
ڈاکٹر مبارک علی اس معاشرے کی علمی موت واقع ہو چکی ہے بس تدفین باقی ہے۔

