نئی عالمی تبدیلیاں اور ہمارے اطوار
اس وقت دنیا میں طاقت کے مراکز بڑی تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ ان نئی تبدیلیوں میں دنیا کے معاشی اور سیاسی معاملات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس حوالے سے معاشی طور پر مستحکم ممالک کے مابین بریکس کا قیام عالمی سطح پر مستقبل میں بہت سی تبدیلیوں کی پیش خیمہ ثابت ہوگی۔ بریکس ممالک روس، چین، انڈیا، برازیل اور جنوبی افریقہ کے مابین باہمی معاشی اور مضبوط اقتصادی روابط کے حوالے سے طویل المیعاد پالیسیوں کی تشکیل مستقبل میں امریکا اور یورپ کو پیچھے چھوڑنے کے زبردست امکانات رکھتی ہے۔
بریکس میں سعودی عرب اور کئی دوسرے اہم ممالک بھی شمولیت کے متمنی ہیں جس سے مستقبل میں سیاست اور معیشت کا پہیہ امریکی اور یورپی مفادات کے برعکس چل سکتا ہے۔ معاشی طور پر دنیا کے اہم ممالک اس بات پر بھی اتفاق کر رہے ہیں کہ عالمی اقتصادیات میں ڈالر کی برتری کو کم زور کرنا ہے اور اس کے مقابلے میں فی الوقت اپنی مقامی کرنسیوں میں ادائیگی کو فروغ دینا ہے۔ مستقبل میں ڈالر کے متبادل کرنسی متعارف کرانے کی سوچ بھی پروان چڑھ رہی ہے۔ چین سعودی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ وہ سعودی عرب کو ڈالر کی بجائے اپنی کرنسی یو آن میں ادائیگی کرنا چاہتا ہے۔ اس طرح روس بھی امریکی ڈالر کی بہ جائے مقامی کرنسیوں میں ٹریڈ کو ترجیح دے رہا ہے۔
چین کے تعاون سے سعودی عرب اور ایران کے مابین تعلقات کی بحالی سے مڈل ایسٹ کی جیو پالیٹکس مکمل طور پر تبدیل ہو گئی ہے۔ ایران اب یمن میں حوثی قبائل کی پشتی بانی نہیں کرے گا۔ اس طرح سیریا میں بھی سعودی اور ایران اپنے گروپوں کو کوئی مدد فراہم نہیں کریں گے۔ فرقہ ورانہ اختلافات اور متحارب گروپوں کی حمایت کا یہ سلسلہ عراق میں بھی دم توڑ دے گا۔ یوں اس پورے علاقے میں پراکسی جنگوں کا خاتمہ ہو جائے گا جس کے نتیجے میں امن قائم ہو گا اور معاشی اور اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ امن کے اس عمل سے امریکا اور اسرائیل کو کافی تکلیف ہو رہی ہے اور وہ ان تبدیلیوں کا بہ غور جائزہ لے رہے ہیں۔
روس اور یوکرین تنازعہ کی وجہ سے امریکا اور یورپ نے روس پر بہت سی عالمی پابندیاں عائد کردی ہیں جس کی وجہ سے وہ اب یورپ کو گیس اور تیل فراہم نہیں کر سکتا لیکن چین اور بھارت روسی تیل بڑی مقدار میں درآمد کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان سمیت اکثر ترقی پذیر ممالک بھی سستا روسی تیل خریدنے میں دل چسپی لے رہے ہیں جس سے روس کی معیشت کو وہ نقصان نہیں پہنچ رہا ہے جس کی توقع امریکا اور یورپ پابندیاں لگانے کی وجہ سے کر رہے تھے۔
ان پابندیوں کا سب سے زیادہ نقصان خود یورپی ممالک کو ہو رہا ہے۔ وہاں پہ تیل اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام لوگوں کی زندگیوں میں مہنگائی کی صورت میں بہت مشکلات پیدا کی ہیں۔ اب یورپ امریکا سے کئی گنا زیادہ قیمت پر گیس اور تیل خرید رہا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت روس سے جو کروڈ آئل درآمد کر رہا ہے، اس کی پراسیسنگ کے بعد اس کی بڑی مقدار یورپی ممالک میں پہنچ رہی ہے۔ یوں روس یورپی ممالک کو جس کم قیمت پر تیل اور گیس فراہم کر رہا تھا، اب یورپ اپنی لگائی ہوئی پابندیوں کی وجہ سے انھیں مہنگے داموں بھارت سے خریدنے پر مجبور ہے۔
دنیا میں متنوع تیز رفتار تبدیلیوں کا پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں؟ اس حوالے سے ہماری حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں میں کوئی معمولی یا غیر معمولی ہل چل نظر نہیں آ رہی ہے۔ پاکستان کی ڈوبتی معیشت کو سہارا دینے کے لئے کوئی ٹھوس، مستقل اور قابل عمل لائحہ عمل طے کرنے میں کسی کی دل چسپی نہیں ہے۔ آئی ایم ایف سے قرض حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں لیکن وہ بھی رنگ نہیں لا رہی ہیں۔ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کے لئے اس کی ہر جائز اور ناجائز تجویز اور پابندی کو مان لیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود آئی ایم ایف کو رام نہیں کیا جا سکا ہے۔ قومی خزانے میں ڈالر کی مقدار دو تین ارب ڈالر سے زیادہ بڑھنے میں نہیں آ رہی ہے اور جو ڈالر ہیں وہ بھی دوست ممالک کے مرہون منت ہیں۔
ہم انڈیا سے اسلحہ اور دشمنی کے مد میں سخت مقابلہ ضرور کر رہے ہیں لیکن اس کے مقابلے میں ہماری قومی معیشت زیرو کے برابر ہے۔ اس وقت انڈیا کے پاس 586 ارب ڈالر سے زیادہ زر مبادلہ کے ذخائر موجود ہیں اور اس کی معیشت روز بہ روز ترقی کی جانب گامزن ہے۔ روسی تیل فروخت کرنے کے مد میں اسے روزانہ کی بنیاد پر غیرمعمولی فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔ اس وقت ہمارے ملک میں سیاسی افراتفری اور باہمی نفرتیں عروج پر ہیں۔ ہر ادارہ زوال پذیر ہے۔
عمران خان نے ملک کی سیاسی بنیادوں میں نفرت کی جو بیج بوئی ہے، وہ مسلسل پنپ رہی ہے۔ اس کی زد میں فوج، عدلیہ، مقننہ، انتظامیہ، صحافت اور تمام سیاسی جماعتیں آ رہی ہیں۔ اتحادی حکومت اپنی بچاؤ میں لگی ہوئی ہے اور اس سے ملک کی معیشت نہیں سنبھل رہی ہے۔ حکومت میں شامل سیاسی جماعتیں بھی نفرت انگیز کھیل میں مصروف ہیں اور عمران خان اور اس کی جماعت میں موجود عجوبے بھی اپنے عجیب الخلقت لیڈر کی حمایت میں مسخروں جیسی حرکتیں اور باتیں کر رہے ہیں۔
سب سے بڑا مسخرہ خود عمران خان بنا ہوا ہے۔ چھ مہینے گزرنے کے باوجود اس کے پاؤں کے زخم بھرنے میں نہیں آ رہے ہیں۔ وہ جب عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں تو ان کے گرد جو عجیب و غریب حفاظتی شیلڈ جس طرح تنی جاتی ہے اور موصوف کے سر کے اوپر لوہے کا جو خول چڑھایا جاتا ہے، وہ اس عجیب الخلقت لیڈر کی مضحکہ خیز حرکتوں کو مہمیز دیتا ہے۔ جس عدالت میں موصوف کی ضمانت کی درخواست دائر کی جاتی ہے، وہاں وہ اس مضحک حالت میں حاضری دے دیتے ہیں لیکن جن مقدمات میں ان پر فرد جرم عائد ہونے کے کیس چل رہے ہیں، وہاں حاضری سے استثنا کے لئے ان کی بیماری اور عدم تحفظ کے بہانے کام آ جاتے ہیں۔
تحریک انصاف میں کوئی ایک بھی ایسا معقول رہنما نظر نہیں آتا جو جرات کر کے عمران خان کو بتا سکے کہ وہ جن مضحکہ خیز حرکات کے مرتکب ہو رہے ہیں، اس سے ان کی سیاسی قد میں اضافہ تو شاید ہو رہا ہو لیکن بطور انسان وہ بہت سے لوگوں کی نظروں میں اپنی وقعت کھو رہے ہیں۔ عوام کی اکثریت کا ان کے جلسوں میں بڑی تعداد میں شرکت کا مطلب یہ نہیں کہ وہ حق پر ہیں یا وہ کوئی بہت بڑی سیاسی شخصیت یا سٹیٹس مین ہیں بلکہ اس کی بڑی وجہ موجودہ حکومت کی ناکام پالیسیاں اور عمران خان کی جھوٹی کہانیاں اور سوشل میڈیا پر منظم پروپیگنڈا ہے۔
ہمارے لوگ زمینی حقائق اور دلیل کی بہ جائے دل موہ لینے والی دل چسپ کہانیوں پر زیادہ یقین رکھتے ہیں اور جب یہ کہانیاں نت نئے انداز میں دل فریب اور نفرت انگیز انداز میں دہرائی جاتی ہیں، تو وہ عوام پر زیادہ اثر کرتی ہیں۔ اور عمران خان کو یہ کمال حاصل ہے کہ وہ جھوٹ اس قدر دھڑلے اور یقین سے بولتے ہیں اور نت نئے جھوٹے بیانیے اس خوبی سے بناتے ہیں کہ ناسمجھ لوگ ان کے جھوٹ کو سچ سمجھ کر ان کے دیوانے ہو رہے ہیں۔
وطن عزیز اس وقت پوری دنیا میں ایک تماشا بنا ہوا ہے۔ سپریم کورٹ مکمل طور پر متنازع ہو چکی ہے۔ وہاں تین ججز جس طرح اپنی مرضی کے بنچ بناتے ہیں اور سیاسی معاملات میں اپنی من مرضی فیصلے صادر کرتے ہیں، اس نے عدلیہ کے وقار کو خاک میں ملا دیا ہے۔ حکومتی بنچوں میں بھی جس طرح کے لوگ براجمان ہیں، ان میں بھی کوئی سٹیٹس مین نظر نہیں آ رہا ہے۔ معیشت کی بہ حالی کے لئے برطانیہ سے جس شخص کو کلین چیٹ دے کر بلایا گیا ہے، باتیں تو وہ بہت بڑی کرتا ہے اور آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیل کرنے میں خود کو نہایت ماہر اور تجربہ کار سمجھتا ہے لیکن اس ”بزرجمہر“ نے ملک کی رہی سہی معیشت کی کمر بھی توڑ کر رکھ دی ہے۔
ہمارے ملک کی مزید بدقسمتی عمران خان کا سیاست میں دخل ہے۔ اپنے پونے چار سال کے دور حکومت میں انھوں نے ہر وہ کام بڑی ڈھٹائی اور پورے زور و شور سے کیا ہے جس کے لئے وہ ہمیشہ دوسری سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں کو الزام دیتے رہے ہیں۔ اس وقت ان پر جو الزامات لگ رہے ہیں، یہ الزامات ان الزامات سے بڑھ کر ہیں جو وہ نواز شریف، آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمان اور دوسرے سیاست دانوں پر لگاتے آ رہے ہیں۔ وہ جن لوگوں کی بیماریوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے، اب وہ اپنی بیماری کی وجہ سے خود ان الزامات کی زد میں رہتے ہیں۔
وہ اگر اپنی حکومت کے خاتمہ کے بعد ایک مدبر سیاست دان کے طور پر قومی سیاست میں ایک باوقار اور مثبت کردار ادا کرنا چاہتے تو قومی اسمبلی سے استعفیٰ نہ دیتے، اپنی دو صوبائی حکومتوں کا خاتمہ نہ کرتے اور موجودہ اتحادی حکومت کو ٹف ٹائم دیتے۔ اسمبلی کے اندر مسلمہ جمہوری روایات کے تحت مقابلہ کرتے اور حکومت کی ناقص پالیسیوں کو دلیل کے ساتھ ہدف تنقید بناتے۔ بے مقصد جلسے جلوسوں، الزام تراشیوں، دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کی بجائے اپنی سابقہ حکومت کی غلطیوں کا ادراک کرتے اور ایک سنجیدہ، باوقار اور حقیقی عوام دوست رہنما کے طور پر اسمبلیوں کے اندر مثبت کردار ادا کرتے۔ اس کا یقینی فائدہ ملک اور قوم کو ہوتا۔ موجودہ غیرمعمولی سیاسی عدم استحکام جنم نہ لیتا۔ سیاسی استحکام سے ملک کی تباہ حال معیشت کو سنبھلنے کا موقع ملتا۔ عمران خان موجودہ اسمبلیوں کی مدت ختم ہونے کے بعد عوام سے رجوع کرتے اور اگر عوام انھیں دوبارہ اقتدار میں آنے کا موقع دیتے تو دوبارہ ان غلطیوں کو نہ دہرانے کا عزم کرتے جن کی وجہ سے ان کی حکومت ناکام ہوئی تھی اور انھیں قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔
لیکن افسوس عمران خان جیسے مجموعۂ اضداد نے ملک میں جو سیاسی تماشا برپا رکھا ہے، اس میں نفرت، تکبر، دشمنی، ہٹ دھرمی، جھوٹ، فریب، الزام تراشی، مسلسل یو ٹرن اور اپنے سیاسی مفادات کے لئے ملک کو نقصان پہنچانے کے لوازمات کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے ہیں۔ انھیں اگر دوبارہ اقتدار ملا تو معلوم نہیں وہ اپنی متضاد شخصیت، عناد پرور اور انا پرست فطرت کی وجہ سے اس ملک اور قوم کو مزید کتنی آزمائشوں میں مبتلا کرتے ہیں۔


