پابلو نرودا کا بدمعاش مداح

کچھ دوستوں کے ہمراہ میں ایک رقص گاہ میں چلا گیا تھا۔ یہ رقص و سرود اور بدمعاشوں کی غنڈہ گردی کے دن تھے۔ اچانک رقص یوں تھما جیسے کسی گلاس کو دیوار سے ٹکرا کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔ دو نامی گرامی بدمعاش ایک دوسرے پر آوازے کستے ہوئے رقص گاہ کے فرش پر عین وسط میں موجود تھے۔ جب بھی ان میں سے ایک دوسرے کو مکا مارنے کے لئے آگے بڑھتا، تو دوسرا پیچھے کی طرف ہٹ جاتا۔ ان کے ہمراہ موسیقی کے مداح جو اپنی اپنی میزوں پر براجمان تھے۔ اپنی مدافعت میں پیچھے ہٹے۔ یہ دونوں بدمعاش قدیم زمانے کے جانور نظر آتے تھے، جو ماقبل تاریخ کے کسی جنگل کے کھلے حصے میں رقص کر رہے تھے۔
بغیر کچھ سوچے سمجھے میں آگے بڑھا اور ان پر برس پڑا۔
” کم بخت لفنگو، غبی بن مانسوں، قابل نفرت غلاظت، لوگوں کو جو یہاں رقص دیکھنے کے لئے آئے ہیں، نہ کہ تمہیں، تنگ مت کرو۔“
انہوں نے آپس میں حیران ہو کر ایک دوسرے کو دیکھا، جیسے انہیں اپنے کانوں پر یقین نہ آ رہا ہو، پستہ قد شخص نے جو ٹھگ بننے سے پہلے باکسر (مکا باز) رہ چکا تھا۔ مجھے قتل کرنے کے ارادے سے میری جانب بڑھنا شروع کیا اور وہ گوریلا یقیناً مجھے مار ڈالتا اگر اس کے شانے پر لگا ہوا مکا ان کو زمین بوس نہ کرتا۔ یہ موقع میری وجہ سے اس کے مخالف کو مل گیا تھا۔ جب گرے ہوئے کھلاڑی کوایک بوری کی مانند گھسیٹ کر وہاں سے باہر لے جایا جا رہا تھا اور لوگ اپنی اپنی میزوں پر بوتلیں ہماری جانب اٹھائے ہوئے تھے اور ناچنے والی لڑکیاں ہماری طرف شوق سے تک رہی تھیں لڑائی میں جیتنے والے دیو نےفاتح کی حیثیت سے ہماری خوشی میں شریک ہونا چاہا۔
” تم بھی یہاں سے دفع ہو جاؤ۔ کیونکہ تم اس سے کچھ زیادہ اچھے نہیں“ تھوڑی ہی دیر میں میری فتح کا لمحہ ختم ہو چکا تھا ”
میں اور میرے دوست ایک تنگ برآمدے میں سے گزر رہے تھے، جب ہمارا سامنا ایک پہاڑ جیسے انسان سے ہو گیا جس کی کمر چیتے کی سی تھی اور جو ہمارا رستہ روکے کھڑا تھا۔ یہ زیر زمین دنیا کا بدمعاش تھا، وہی شخص جس نے لڑائی میں فتح حاصل کی تھی۔
”میں تمھارا انتظار کر رہا تھا“ اس نے مجھ سے کہتے ہوئے ایک دھکے کے ساتھ مجھے ایک دروازے کی طرف دھکیل دیا، جب کی میرے دوست سہمے ہوئے خرگوش کی طرح وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے، اب اس کے سامنے میں وہاں بے یارو مددگار رہ گیا تھا۔ اپنے دفاع کے لئے میں نے ادھر ادھر کچھ ڈھونڈنا چاہا، لیکن کچھ ہاتھ نہ لگا۔ وہاں کچھ تھا ہی نہیں ماسوائے میزوں کے وزنی سنگ مر مر کے اوپر والے حصے اور زنگ خوردہ آہنی کرسیاں، جنہیں میں اٹھا نہ سکتا تھا۔ نہ ہی وہاں کوئی گملا تھا اور نہ کوئی بوتل، حتی کہ نہ ہی کوئی چھڑی۔ جسے کوئی شخص غلطی سے بھول گیا ہو۔
اس شخص نے کہا ”ہمیں کچھ بات کرنی چاہیے“
مجھے احساس ہوا کہ کسی بات کی کوشش بھی کس قدر بے کار ہو گی اور مجھے خیال آیا کہ یہ کسی شیر کی طرح اپنے شکار کو کھانے سے پہلے مجھے پکڑے گا۔ مجھے احساس ہوا کہ میرا دفاع اس بات میں ہے کہ میں اس پر یہ ظاہر نہ ہونے دوں کہ میں کس قدر ڈرا ہوا ہوں۔
ایسا ہی ایک دھکا جیسا اس نے مجھے دیا تھا۔
میں نے بھی اسے دینے کی کوشش کی لیکن میں نے اسے ایک انچ بھی نہ ہلا سکا۔ وہ اینٹوں کی ایک دیوار تھی۔
اچانک اس نے سر پیچھے کی طرف کیا اور اس کی نظروں سے وحشی جانور کا سا انداز ختم ہو گیا۔
” کیا تم شاعر پابلو نرودا ہو؟“ اس نے کہا۔
” ہاں میں وہی ہوں“
اس نے اپنا سر لٹکا دیا۔ ”میں کتنا نابکار شخص ہوں، یہاں میں اس شاعر کے سامنے ہوں، جسے میں حقیقتاً چاہتا ہوں“ اور اس نے مجھے بتانا چاہا کہ میں جس قدر عظیم انسان ہوں اور وہ اپنے سر کو اپنے ہاتھوں میں لئے ہلاتا رہا ”میں تو محض لباس کاوہ حصہ ہوں، جو سر پر ڈالتے ہیں، دوسرا شخص جسے میں لڑا تھا، کوکین بیچتا ہے، ہم اس زمین کا گند ہیں، لیکن ایک چیز میری زندگی میں بالکل شفاف ہے۔ یہ میری دوست ہے۔ میری محبوبہ۔ پابلو اس کی تصویر دیکھو۔ میں کبھی اس کو بتاؤں گا کہ تم نے درحقیقت اس کی تصویر کو اپنے ہاتھوں میں لیا تھا، اور یہ بات اسے بے حد خوش کرے گا۔ “
اس نے مسکراتے ہوئے ایک ہنستی ہوئی لڑکی کی تصویر دی۔
” ڈان پابلو۔ یہ لڑکی تمہاری وجہ سے مجھ سے محبت کرتی ہے، تمہاری نظموں کی وجہ سے، جو ہم دونوں نے اکٹھے زبانی یاد کی تھیں“ اور تبھی اس نے نظم پڑھنی شروع کردی
” تمہاری ذات میں مجھ جیسا ایک اداس لڑکا اپنی نظریں ہم پر ڈالتے ہوئے جھکتا ہے۔ “
اسی وقت زور سے دروازہ کھلا۔ یہ میرے دوست تھے، جو اسلحے کے ساتھ واپس پلٹے تھے۔ میں ان کے حیرت زدہ چہروں کو دروازے میں دیکھ سکتا تھا۔
میں آہستگی سے چلا۔ وہ شخص ایک انچ ہلے بغیر ہمارے پیچھے رہ گیا تھا۔
” اس لڑکی کی رگوں میں جلتی ہوئی زندگی کے لئے، انہیں میرے ہاتھوں کو مارنا ہو گا۔ “ ۔ شاعری کے ہاتھوں شکست کھایا ہوا۔


