پارلیمنٹ کی بالادستی: کل اور آج
قیام پاکستان سے اب تک پاکستان میں ”پارلیمنٹ کی بالا دستی“ کی جنگ جا ری ہے طویل عرصہ تک ملٹری و سول بیورو کریسی کے ذریعے پارلیمان کی بالادستی کی نفی ہوتی رہی کبھی گورنر جنرل وزرائے اعظم کو گھر بھیج دیتے رہے اور کبھی فوجی ڈکٹیٹر وزرائے اعظم کو تگنی کا ناچ نچاتے رہے منتخب وزرائے اعظم کو گھر بھجوانے کے لئے آئین میں 58 / 2 Bایجادہوئی، اس کا خاتمہ ہوا تو منتخب وزرائے اعظم کو عدلیہ کے ذریعے گھر بھجوانے کا کھیل شروع ہو گیا جو تا حال جاری ہے ان دنوں ملک میں پارلیمنٹ اور عدلیہ کی چپقلش عروج پر ہے۔
کل تک پارلیمنٹ کی بالادستی کے نعرہ زن آج عدلیہ کے ساتھ یکجہتی کے لیے سڑکوں پر ہیں اور اسمبلی کی بحالی پر منصفانہ فیصلے کی تعریف کرنے والے پارلیمنٹ کی بالادستی کا علم اٹھائے ہوئے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت عدم اعتماد سے ختم ہوئی تو معاملہ عدلیہ میں پہنچا۔ عدالت نے پارلیمنٹ میں ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی رولنگ معطل کردی، اس وقت تحریک انصاف کے راہنماؤں کا جو موقف تھا تحریک انصاف ماضی کے آئینے میں چہرہ اور آج کا طرز عمل دیکھ لیں تو :
بھولے بسرے ہوئے غم پھر ابھر آتے ہیں کئی
آئینہ دیکھیں تو چہرے نظر آتے ہیں کئی
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو کے مصداق
3اپریل کو دی گئی ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی رولنگ معطل کرنے کے عدلیہ کے فیصلے پر شیریں مزاری اور دوسرے راہنماؤں نے جو کہا وہ ملاحظہ ہو۔
وفاقی وزیر برائے ہیومن رائٹس شیریں مزاری نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو عدالتی مارشل لاء قرار دیا اور کہا کہ عدالتی فیصلے میں پارلیمانی فوقیت کو سبوتاژ کرتے ہوئے یہ تک لکھوایا گیا کہ نیشنل اسمبلی کا اجلاس کب اور کس وقت ہونا چاہیے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ یہ فیصلہ ملک کو غلامی کی جانب لے جانے کی کوشش ہے اس سے پارلیمنٹ کی بالادستی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کا اپنا اپنا کام ہے، پارلیمان کی حاکمیت، سپریم کورٹ کے چند ججز کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے، اس فیصلے سے تقسیم اقتدار کی تھیوری سخت متاثر ہوئی۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر سپریم کورٹ کو نظرثانی کرنی چاہیے، پارلیمان کے اندر جو بھی ہو اسے آئینی تحفظ حاصل ہو گا۔
شہباز گل کا کہنا تھا لگتا ہے کہ ملک کو 1947 کی صورت حال میں واپس پہنچا دیا گیا ہے۔ نعیم بخاری نے کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ رولنگ کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے صورتحال کو دیکھ کر رولنگ دی۔ رولنگ کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ ڈپٹی اسپیکر نے موشن کو مسترد کیا۔ آرٹیکل 69 کی روح ہے کہ پارلیمنٹ کے معاملات پارلیمنٹ میں رہنے چاہئیں۔ اسپیکر کی رولنگ فائنل ہوتی ہے۔ آئین کے مطابق ریاست کے ہر عضو کی اپنی ذمہ داری ہے، آئین بنانے والوں نے بڑا واضح موقف دیا ہوا ہے۔ اسپیکر کی رولنگ قابل سماعت نہیں۔
قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے جمہوری قوتوں پر زور دیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ سید یوسف رضا گیلانی کو ایوان بالا میں قائد حزب اختلاف منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انتخابی اصلاحات کے لئے ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ سپریم کوٹ کا فیصلہ پارلیمنٹ کے معاملات میں مداخلت ہے۔ فیصلہ کرنا ہو گا کہ پارلیمنٹ کے معاملات میں کسی کو دخل اندازی کی اجازت نہیں اگر سب کچھ عدالتوں نے کرنا تو پھر پارلیمنٹ کو تالا لگا دیں۔
قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کیا یہ درست ہوتا کہ پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے کاموں میں مداخلت کرتی، پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے ججز کے آنے اور جانے کا فیصلہ کرتی، پارلیمنٹ فیصلے کرتی کہ کون سا کیس کب لگنا اور کس پر سماعت کب ہونی ہے؟ اب فیصلہ کرنا ہو گا کہ پارلیمنٹ کا اختیار لینے کا کسی کو اختیار نہیں، جمہوریت پر یقین رکھنے والوں کا پارلیمنٹ کی بالادستی پر یقین ہونا ضروری ہے۔ پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے ایوان کو یکجا ہو کر آواز بلند کرنا چاہیے کیونکہ جو پارلیمنٹ کا اختیار ہے وہ کسی اور کو نہیں۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 7 اپریل کو تحریک عدم اعتماد سے متعلق تین اپریل کو اسمبلی میں دی گئی ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کو کالعدم قرار دیا تھا۔
تحریک انصاف سے منسلک قانونی ماہرین کی رائے ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ مستقبل میں پارلیمان کی بالادستی میں عدالتی مداخلت کے لیے بطور نظیر (مثال) استعمال ہو سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے مستقبل میں پارلیمان کے اندرونی معاملات میں عدالتی مداخلت کے دروازے کھول دیے ہیں۔
حکومتی وکیل بابراعوان نے اصرار کیا کہ عدالت اس (دستوری شق اور اس کے نتیجے میں دی گئی رولنگ) کو چھو نہیں سکتی۔
تحریک انصاف رہنما اور صدر پاکستان کی نمائندگی کرنے والے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پاکستان کے آئین میں ایک بنیادی اصول پرنسپل آف ٹرائیکوٹومی یعنی آئین، عدلیہ اور ایگزیکٹیو کے درمیان توازن کا ہے جس کے تحت ہر ادارے کی حد کا تعین کر دیا گیا ہے۔
’یہ ریاست کے تین ستون ہیں اور آئین کہتا ہے کہ ایک ستون دوسرے کے کام میں مداخلت نہ کرے۔ عدالت کے معاملات میں پارلیمان مداخلت نہیں کر سکتی، تو پارلیمان کے کام میں عدالت مداخلت نہیں کر سکتی جیسے یہ کہنا کہ اسمبلی کا اجلاس کیوں بلایا یا یہ فیصلہ کیوں کیا۔
اگر عدالت پارلیمان کے فیصلے کرنا شروع کرے گی تو پھر تصادم ہو گا اور جب تصادم ہو گا تو پھر ریاست کو نقصان ہو گا، ایک ادارہ کمزور ہو گا، دوسرا طاقت ور ہو گا اور یہ نہیں ہو سکتا کہ جو ادارہ کمزور ہو وہ سٹرائیک بیک نا کرے۔
لوگ کہتے ہیں کہ پارلیمان اصول اور قوانین سے ہٹ کر فیصلے کرے اور پارٹیاں آپس میں لڑ پڑیں تو کسی ادارے کو تو فیصلہ کرنا ہو گا، تو میرا جواب یہ ہے کہ ادارے کو خود ہی اپنے آپ کو ٹھیک کرنا ہوتا ہے۔ تحریک انصاف نے اب عدلیہ کی بالا دستی کا محاذ سنبھالا ہوا ہے۔ یہی وہ منافقت ہے جس کا شکار ہمارے سیاستدان ہیں۔
اب پی ڈی ایم کی جانب آئیں جس نے سن دنوں پارلیمنٹ کی بالادستی کا محاذ سنبھالا ہوا ہے۔ کل تک عدم اعتماد کے حوالے سے وہ سپریم کورٹ کی تحسین میں رطب اللسان تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی بالادستی کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے گا۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ملکی سسٹم میں عوامی نمائندوں کے مینڈیٹ کا کوئی نعم البدل نہیں، سپریم کورٹ کوشش کر رہی ہے کہ حکومت مدت پوری نہ کرے۔
سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ اجتماعی دانش کی نمائندگی کرتی ہے، تمام چیلنجز کا حل آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی سے ہی ممکن ہے۔
وفاقی وزیر آبی وسائل سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ وقت کا تقاضا ہے کہ پارلیمنٹ کی بالادستی کو منوایا جائے اور اداروں کو آئینی اور قانونی چیک اینڈ بیلنس کے دائرے میں لایا جائے۔
سوال یہ ہے کہ پارلیمنٹ کی بالادستی ضرورت کے وقت ہی کیوں یاد آتی ہے۔ ماضی کی داستان تو یہ بتاتی ہے کہ پارلیمنٹ کی بالادستی میں رکاوٹ بننے والے جہاں فوجی طالع آزما تھے وہاں جمہوری آمر بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ سب نے پارلیمنٹ کو ربڑ سٹیمپ کی طرح استعمال کیا۔ مارشل لاؤں میں جمہوریت کے لئے جدوجہد کی جاتی رہی اور جمہوریت میں مارشل لاء کے لیے راہ ہموار کرنے کی مساعی جاری رہیں۔


