عید، گریف اور گرین زون

میری موت کے بعد اگر تمہارے صحن میں کوئی گلاب کا پھول کھل آئے تو سمجھ لینا کہ میں لوٹ آیا ہوں۔ شیخ ایاز
اس پھول کے کھلنے کا انتظار دنیا کا سب سے تکلیف دہ انتظار ہے کہ آپ اپنی تمام حسوں سے اپنے بچھڑنے والے پیارے کی ایک بار آواز سننے، ایک بار ہاتھ کا لمس محسوس کرنے اور سینے سے لگ کر زور سے جادو کی جھپی ڈال کر اپنے تمام غم بھلا دینا چاہتے ہیں لیکن ہر گزرتا لمحہ آپ کے اوپر اس سچ کو آشکار کرتا ہے کہ یہ ہاتھ آپ دوبارہ نہیں تھام سکتے لیکن اس آپ کو جانتے ہوئے بھی آپ اپنے اندر جذب نہیں ہونے دیتے کہ اگر یہ جذب ہو گیا تو زہر بن کر آپ کی رگوں میں اتر جائے گا اور پہلے سے مشکل زندگی اور مشکل ہو جائے گی۔
ہمارے ہاں غم منانا ایک بالکل انجان بات ہے کہ آپ ہماری شادیوں کو دیکھیں تو تقریبات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ نظر آئے گا، پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ ہوتا ہے ناچ ناچ کے بھنگڑے ڈالنے والے وہاں پہ بھی جڑیں کاٹنے اور لگائی بجھائی کا کام سرانجام دیتے ہیں لیکن دکھ تکلیف اور بیماری میں ہمارے ہاں عجیب و غریب رویہ ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں ان کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا جاتا ہے جیسے وہ کوئی بدنما اشیا ہیں جن کے اوپر چادر ڈال کر ہم ان کو چھپا دیں گے دراصل یہ وہ حقیقت ہے جن سے جڑے جذبات سے نگاہ چرا لینا بہتر سمجھتے ہیں بالکل ویسے ہی جیسے ہم نفسیاتی مسائل کو اس شخص کی اپنی اختراع سمجھتے ہیں ویسے ہی ہمارے ہاں کوئی بھی شخص جو اپنے پیارے کی موت کے بعد جس قسم کے جذبات اور ذہنی حالت سے دوچار ہوتا ہے ہمارے پاس اس کے لیے کوئی اسپورٹ سسٹم نہیں سوائے اس کے کہ آپ کو صبر کرنا چاہیے اور وقت کے ساتھ صبر آ جائے گا۔
یقین مانیے جو اپنے پیارے کے بچھڑنے سے جو جذبات انسان کے دل میں ہوتے ہیں ان پر یہ جملے وہ کام کرتے ہیں جو پیٹرول پر تیلی کرتی ہے۔ اکثر لوگ اس لیے خاموش ہو جاتے ہیں کہ وہ اس دکھ سے اتنے نڈھال ہوتے ہیں کہ ان کے اندر اتنی طاقت نہیں بچی ہوتی کہ وہ سامنے والے کو بتا سکیں کہ یہ کیسی آگ ہے اور کچھ میرے جیسے اس لیے خاموش ہو جاتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ ان جذبات سے واقف ہونے کے لیے جس قسم کی حساسیت کی ضرورت ہوتی ہے اس سے بیشتر لوگ نابلد ہیں اور جہاں ہر وقت ڈھیٹ بننے کا سبق دیا جاتا ہو اور بتایا جاتا ہو کہ جذبات فضول چیز ہیں اور جذبات آنسو صرف خواتین کے ڈرامے اور ہتھیا ر ہوتے ہیں وہاں ان سب کے سامنے گریف اور اس سے جڑے احساسات کی تفصیل میں جانا ایک مشکل عمل ہے۔ لیکن جیسے جیسے معاشرہ ارتقا کی مختلف منزلوں سے گزرتا ہے ویسے وہ موضوعات جن پر ہم بات نہیں کرتے وہ بات کرنے سے اپنی اجنبیت کھو دیتے ہیں اسی طرح جذبات، احساسات اور خیالات پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔
جب آپ کسی اپنے پیارے کو کھو دیتے ہیں تو اس کے بعد ہر انسان مختلف جذبات سے گزرتا ہے یہ عمل ایک ہی گھر میں رہنے والوں کے لیے بھی بالکل مختلف ہوتا ہے ایک ہی رشتے میں بندھے لوگ اس کو مختلف طرح سے محسوس کرتے ہیں اس لیے یہ جملہ کہ فلاں تو بالکل ٹھیک ہے اور تم نے رو رو کے روگ لگا لیا ہے بہت جابرانہ ہے جیسے کسی انسان کے فنگر پرنٹ ایک دوسرے سے نہیں ملتے اسی طرح چیزوں کو محسوس کرنے کا طریقہ بالکل مختلف ہوتا ہے۔
اپنے پیارے کو کھو دینے کا دکھ انسان کے ساتھ ہر لمحہ ہوتا ہے لیکن اپنے والدین کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ خاص موقعوں اور تہواروں پر یہ دکھ بڑھ جاتا ہے۔ 2019 میں اپنی والدہ صادقہ کرامت علی کے بعد میں نے پہلی عید پر کوشش کی کہ میں سب کے سامنے بالکل نارمل نظر آؤں اور کہیں سے یہ ظاہر نہ ہونے دوں کہ میرے دل میں کتنا درد ہے اور اس نے مجھے میرے گریف کی ریڈ زون میں دھکیل دیا کیونکہ میں اپنے آپ سے ہی جنگ لڑ رہی تھی میں وہ کام کر رہی تھی جو میں نہیں کرنا چاہتی تھی میں تو مکمل طور پر اپنے غم کو اپنانا چاہتی تھی لیکن میں دنیا کے ساتھ سمجھوتہ کر رہی تھی کہ شاید واقعی یہ صحیح کہ مجھے اپنے غم کو ایک طرف رکھ کہ باقی دنیا کے ساتھ موو آن کرنا چاہیے۔
اس میں میرے اندر کی جنگ نے مجھے توڑ پھوڑ دیا بظاہر مسکراتے ہوئے لمحات میں جب آپ مسکرانا نہ چاہیں اور دنیا کے لیے مسکرائیں تو یہ کربناک ہے۔ میں چاہتی تھی کہ میں کمرے میں اندھیرے میں بیٹھ کے اپنے غم کے ساتھ یک جان ہو جاؤں لیکن غم اور سوگ کے بارے میں ہمارے نظریات نے کہ اس دکھ سے جلدی باہر آنا چاہیے یا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس دنیا میں ہمارے سے زیادہ دکھی لوگ ہیں نے مجھے اپنے دکھ کے اظہار سے روکا۔ یقین مانیے اس سے زیادہ دکھی کر دینے والے جملے آپ کسی شخص کو جو سوگ میں ہو نہیں کہہ سکتے کہ، صبر کوئی نمک مرچ نہیں جو وہ بازار سے خرید لے، اور ہر شخص کا دکھ الگ اور اسی طرح احساس سے بھرپور ہوتا ہے جیسے خوشی۔
جو شخص خوش ہوتا ہے اس کو یہ نہیں کہا جاتا کہ اتنا خوش کیوں ہو تمہارے سے زیادہ خوش لوگ اس دنیا میں موجود ہیں تو پھر سوگ مناتے لوگوں کی شامت کیوں ہر کسی کو اپنا پیارا عزیز ہوتا ہے اور کوئی اس سے انکاری نہیں کہ یہ دنیا دکھ سے بھری ہے۔ ہمیں، جن کے پیارے ان سے بچھڑتے ہیں ان کے لیے یہ جذبات اور احساسات ان دھاگوں کی مانند ہیں جو ان کو ان سے بچھڑے پیاروں سے جوڑے رکھتے ہیں ان جذبات میں وہ ان کے ساتھ مسکراتے بھی ہیں، روتے بھی ہیں اور ساتھ ہاتھ پکڑ کر وقت بھی گزارتے ہیں۔
ان جذبات اور احساسات سے گبھرا کے اپنے دوستوں اور پیاروں کو مزید ظالمانہ مشورے دینے کی نہیں ان کی بات سننے اپنی بات شیر کرنے اور اسپورٹ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ آپ کی کمفرٹ کی خاطر اپنے منہ پر ہنسی کا ماسک نہ چڑھائیں اور اپنے آپ کو دہری تکلیف میں مبتلا کریں۔ 2019 میں یہ سب بتانے اور لکھنے کی ہمت نہیں رکھتی تھی لیکن 2022 جب میں نے اپنے والد ڈاکٹر کرامت علی کو الوداع کہا تو مجھے اس دکھ کے اپنے اندر موجود ہونے کا احساس ہوا مجھے لگا کہ جب تک میں اس کو اپنا نہیں لیتی میں ایک مسلسل حالت جنگ میں ہوں۔
ان تین سالوں میں میں نے گرین زون فلاسفی کو پڑھا اور خوش قسمتی سے ایسے لوگوں کے ساتھ اس پر کام کیا جو اس میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ مجھے لگا کہ اس دکھ کو جھٹلانا مجھے ریڈ زون میں لے جاتا ہے اور جب میں اس احساس کو مان کر اپنے جذبات کا احترام کرتی ہوں تو وہ میری گرین زون ہوتی ہے چاہے اس میں اپنے ڈائری لکھوں، گانے سنوں، ان کے بارے میں بات کروں، دعا مانگوں یا چاہے رو دوں میں اپنے جذبات کے ساتھ synchronised ہوں اور عید پر اس چیز کا احساس مجھے اس لیے زیادہ ہوا کہ جب میری فون اسکرین پر ایک ایسا نمبر نمودار ہوا جس سے میرا رابطہ گرین زون ورکشاپ میں ہوا وہ خاتون فیس بک فرینڈ ہونے کے ناتے میرے والد کے پچھلے سال جدا ہونے سے واقف تھیں اور کہا کہ فون اس لیے کیا کہ میں خود ایک ایسی بیٹی ہوں جس کے والدین دنیا سے جا چکے ہیں اور یہ دکھ اس وقت زیادہ بڑھ جاتا ہے جب ہزاروں میل کا فاصلہ آپ کو اپنی عزیز جان رشتے کو آخری بار ہاتھ تھامنے کا موقع بھی نہیں دیتا۔
یہ ایک گھنٹے پر محیط گفتگو ان سب عید میسیجز پر بھاری تھی جو اس دن میں نے بے دلی سے دیکھے اور میرے لیے بیک وقت حیران کن اور دل ہلکا کرنے دینے والا لمحہ تھا کہ مجھے علم ہوا کہ انسانیت کا کوئی مذہب نہیں اور ایک دوسرے کے دکھ اور درد کو محسوس کرنے کے لیے خون کا رشتہ ہونا ضروری نہیں کہ فون سے ان کی رندھی ہوئی آواز ان کی آنکھ کے آنسو کا پتہ دے رہے تھے اور میری بات سن کر انہوں نے میرا دل ہلکا کیا، اور ایک دفعہ یہ کہے بغیر کہ حوصلہ کریں، میرا حوصلہ بڑھایا۔
یہ انفرادی واقعہ ہے لیکن ایک ایسا ملک جس کی سرحدوں پر ہمہ وقت جنگ کی کیفیت برپا رہتی ہے اور افغانستان میں اسلام لاتے لاتے ہم نے طالبان جو ایکسپورٹ کیے تھے اب وہ امپورٹ ہو کر ہم تک واپس آ رہے ہیں اور ان دہشت گرد کارروائیوں میں ایک لاکھ سے زائد لوگ موت کے منہ ملیں جا چکے ہیں جب کہ دوسری طرف لاپتہ افراد ہیں۔ ہم بطور قوم اس احساس سے عاری ہیں کہ ایک طرف وہ مائیں بہنیں باپ بھائی بیویوں ہیں جو اپنے پیاروں کو رو رہے ہیں اور دوسری طرف ایک پوری ایک نسل ہے جو اس ٹراما اور گریف کے ماحول میں جوان ہو رہی ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستان میں ہر دوسرا بندہ سائیکولوجسٹ اور سائیکاٹرسٹ ہے وہاں دہشت گردی کے شکار ان افراد کے لواحقین کے لیے ہمارے پاس صرف یہ لفظ ہیں کہ شہید ہیں اور چند پیسے جو ہم ان کے منہ پر مارتے ہیں، اس میں ان افراد کا کوئی شمار نہیں جو دور دراز کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کا شکار ہوئے۔ اس سارے اندھیرے میں گریف ڈائریکٹری ایک ایسی آرگنائزیشن ہے جو دہشت گردی کا شکار افراد کے لواحقین کے گریف اور ٹراما میں امداد کے لیے کام کرتی ہے۔
اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کی بانی خاتون ڈاکٹر فاطمہ علی حیدر خود اس دکھ اور تکلیف کا شکار ہیں جب 2013 میں ایک دہشت گردی کی کارروائی میں ان کے شوہر ڈاکٹر علی حیدر اور بیٹے گیارہ سالہ مرتضی علی حیدر اس دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ اے پی ایس کے واقعے کے بعد انہوں نے اپنے اس خیال کو کہ دکھ اور درد میں گھرے افراد جنہوں نے اپنے پیاروں کو انتہائی کربناک حالات میں کھویا ہے ان کی امداد کے لیے عملی اقدام اٹھانے کے خیال کو عملی شکل دی اور آج گریف ڈائریکٹری ایسے لوگوں کو مدد فراہم کر رہی ہے، چاہیے وہ مالی ہو قانونی یا نفسیاتی ان کا رابطہ ان آرگنائزیشن اور حکومتی اداروں سے کرواتی ہے جن کے پاس ایسے وسائل موجود ہیں جو اس مشکل وقت میں ان کی مدد کر سکیں۔
اس میں نفسیاتی امداد بہت اہم ہے کہ ایسے اسپورٹ گروپس اور سائیکولوجسٹ کی فراہمی جو اس اندھیرے مشکل وقت میں ان کی مدد کر سکیں یہ انتہائی اہم ہے۔ یہ ایک مثال بھی ہے اور سبق بھی کہ موت اپنے پیچھے سوگ اور درد چھوڑتی ہے بجائے اس کے کہ ہم لواحقین کی مدد کریں ہم ان کو اس درد کے صحرا میں اکیلا چھوڑ دیتے ہیں جس تکلیف سے ڈاکٹر فاطمہ گزریں اس کو صرف سوچ کر یہ احساس اجاگر ہوتا ہے کہ لفظوں کے نشتر چلانے سے بہتر ہے کہ ہم گریف اور ٹراما کے بارے میں سنجیدہ گفتگو کریں اور خالی لفاظی کی بجائے اس کی طرف عملی قدم اٹھائیں۔
ہمارے ملک میں ایک پوری نسل دہشت گردی اور گم شدہ افراد کے دکھ کی صلیب اٹھائے جوان ہو رہی ہے اور ہمیں بطور معاشرہ ان کے اپنوں موت کے دکھ اور اس کے ٹراما کا ادراک کرنے، اس پر بات کرنے اور حساسیت پیدا کرنے کی ضرورت ہے، صرف یہ کہہ دینے سے کہ مرنے والا شہید ہے یا آپ صبر کریں کسی کو نہ صبر آتا ہے اور نہ ہی دکھ میں کمی واقعی ہوتی ہے گریف ڈائریکٹری جیسی مزید آرگنائزیشن اور اسپورٹ گروپس کا قیام اس مضمون پر بات کرنے کو آسان بنائیں گے کہ بطور قوم ہمیں پیٹ سے نہیں دماغ سے سوچنے کی ضرورت ہے اپنے اندر حساسیت پیدا کرنے کی اور یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہماری نوجوان نسل کو کس قسم کے دکھ اور تکلیف کا سامنا ہے تاکہ ہم ایک گرین زون معاشرہ تشکیل دے سکیں۔
(میں اس مضمون کے لیے ڈاکٹر خالد سہیل کی مشکور ہوں کہ انہوں نے اس کے لیے مجھے گرین زون فلاسفی کے خیال کے استعمال کی اجازت دی اور میں امید کرتی ہوں کہ وہ گریف کے اوپر اپنی مفصل ماہرانہ رائے سے آگہی اجاگر کریں گے۔ گرین زون فلاسفی کی معلومات اس ویب سائٹ www۔ greenzone۔ com پر موجود ہیں۔)

