سب کچھ ہونے کے باوجود مسلمان کمزور کیوں ہیں؟

اس وقت مسلمان دنیا کی دوسری بڑی اکثریت ہیں۔ دنیا میں فی الوقت سب سے بڑی اکثریت عیسائی قوم ہے، عیسائیوں کے بعد مسلمانوں کا نمبر ہے۔ اس حوالے سے بڑے پروپیگنڈے بھی پھیلائے جا رہے ہیں اور دنیا کے سامنے مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو ایک خطرہ باور کرایا جا رہا ہے۔ اور ابھی سے یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ محض تیس پینتیس سال بعد مسلمان دنیا کی پہلی واضح اکثریتی قوم بن جائیں گے۔
واشنگٹن ڈی سی میں واقع امریکی تحقیقی ادارے ’پیوریسرچ سینٹر‘ کی ایک رپورٹ کے حوالے کثرت سے دیے جاتے رہے ہیں، جو 2015 میں سامنے آئی تھی اور جس میں بتایا گیا تھا کہ اگر مسلمانوں کی تعداد اسی گروتھ ریٹ کے ساتھ بڑھتی رہی تو ۔ 2060 تک ان کی تعداد عیسائیوں سے بڑھ جائے گی۔ اس رپورٹ کے مطابق 2010 میں عیسائی دنیا کی کل آبادی میں % 31.4 فیصد تھی اور مسلمانوں کی آبادی % 29.7 فیصد۔
مسلمانوں کی موجودہ صورت حال یہ ہے کہ مسلمان دنیا کے ہر خطے میں اپنی قابل لحاظ آبادی کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کے پاس وسائل کی بھی کچھ کمی نہیں ہے، زمین کی بھی کمی نہیں ہے اور زیر زمین ذخائر کی بھی کوئی کمی نہیں ہے، دیگر اقوام کے مقابلے میں مسلمانوں میں بڑی تعداد نوجوانوں پر مشتمل ہے، مذہب اور مذہبی سرگرمیوں کی بھی خوب بہتات ہے۔ مسلمان زکٰوۃ بھی اداکرتے ہیں اور صدقات و خیرات بھی دیتے ہیں۔ مسلمانوں کے پاس ایک ایسی چیز بھی ہے جو دیگر ادیان و اقوام کے پاس نہیں ہے اور وہ یہ ہے کہ دنیا کی تمام اقوام و ادیان کے لوگ اسلام اور اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہوتے ہیں اور اسلام قبول کرتے ہیں، یہ چیز دنیا کے کسی بھی دین اور کسی بھی قوم کے پاس نہیں ہے۔ کم از کم اس طرح تو نہیں ہے جس طرح مسلمانوں کو حاصل ہے، بے شک دنیا کے کئی مذاہب تبلیغی مذاہب ہیں، جیسے بدھ ازم، عیسائیت اور اب تو ہندؤوں میں بھی گھر واپسی کی روایت چل نکلی ہے، مگر ان تمام مذاہب میں وہ بات نہیں ہے جو اسلام میں ہے کہ لوگ از خود اسلام کے بارے میں پڑھتے ہیں اور خود ہی اسلام میں داخل ہو جاتے ہیں۔ کسی مسلمان مبلغ کے ہاتھ پر کلمۂ شہادت پڑھنا تو ایک علامتی اظہار ہے۔
بے شک بعض مسلمان مرتد بھی ہوتے ہیں مگر مرتد ہونے والوں کی تعداد اسلام قبول کرنے والوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ مسلمانوں کے لیے یہ بھی ایک پلس پوائنٹ ہے کہ دنیا بھر میں جتنے ممالک مسلمانوں کے پاس ہیں اتنے ممالک کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کے پاس نہیں ہیں۔ مگر یہی مسلمانوں کے لیے مائنس پوائنٹ بھی ہے۔ کیونکہ ان مسلم ممالک میں سے بیشتر سلطنت عثمانیہ کے بکھرنے کے بعد پیدا ہوئے ہیں۔ تو ایک طرح سے یہ تمام مسلم ممالک سلطنت عثمانیہ کے جسم سے ٹوٹے ہوئے ادھرادھر بکھرے پڑے چھوٹے بڑے ٹکڑے ہیں۔ اور اس طرح دنیا میں بڑی تعداد میں مسلمان ممالک کا ہونا مسلمان قوم کے انتشار کی علامت ہے نہ کہ اتحاد کی یا توسیعی پروگرام کی۔
اتنا سب کچھ مسلمانوں کے پاس ہے اور پھر بھی مسلمان پس ماندہ ہیں، کمزور ہیں اور ناتواں ہیں تو آخر اس کی کچھ وجوہات بھی ہوں گی۔ میرے خیال میں اس کی چار بڑی وجوہات ہیں، اور وجوہات بھی یقیناً ہوں گی، مگر ہم فی الوقت چار وجوہات پر بات کریں گے۔ پھر ایسا بھی نہیں ہے کہ مسلمان اور خاص کر عالمی و مقامی مسلمان قیادت ان وجوہات کے بارے میں نہیں جانتی، جانتی ہے اور اچھی طرح جانتی ہے۔ تاہم بات دراصل یہ ہے کہ مسلمان کوشش ہی نہیں کر رہے ہیں اور اگر تھوڑی بہت کوشش کر بھی رہے ہیں تو ان کوششوں کا قبلہ ٹھیک نہیں اور ترجیحات درست نہیں ہیں۔
ذیل میں یہ چاروں وجوہات کسی قدر تفصیل سے بیان کی جا رہی ہیں :
نمبر۔ 1 : مسلمانوں کے پاس دینی، سیاسی اور سماجی، تینوں سطح پر اتحاد و اتفاق کی کمی ہے۔ اتحاد کی باتیں تو خوب ہیں، دعائیں بھی ہیں اور آرزوؤں اور تمناؤں کا تو پوچھنا ہی کیا ہے، مگر اتحاد کے لیے جو عناصر، فکر اور عمل ضروری ہے وہ نہیں ہے۔ ایک ہی شخص جو زبان سے اتحاد کا نعرہ لگاتا ہے وہ عملاً اختلاف کی راہ پر گامزن ہے۔ مسلمانوں میں مذہبی اعتبار سے جو گروہ بندیاں ہیں ان میں باہم دگر اشتراک پیدا کرنے اور ایک دوسرے سے پیوستہ رہنے کے لیے جو سماجی اصول ہوتے ہیں، یعنی کوئی قوم بعض چیزوں میں ہزار اختلاف رکھنے کے باوجود بھی بعض مسائل اور معاملات میں باہم دگر اتحاد قائم کر لیتی ہے، مسلمانوں میں ایسا بھی کوئی میکانزم نہیں ہے۔
مسلمانوں کے سارے گروہ بطور خاص مذہبی گروہ اگر ایک دوسرے سے اختلاف کرتے ہیں تو عقائد سے لے کر معاملات تک زندگی کی ہر بساط پراور ہر شاہ راہ پر اختلاف کرتے ہیں، ایسا نہیں ہے کہ عقائد میں مختلف ہیں تو سماج اور سیاست کی سطح پر وہ متحد ہوجائیں گے۔ اگر انہیں ایک دوسرے کے ساتھ نہیں بیٹھنا ہے تو نہیں بیٹھنا ہے۔ حالات کیسے بھی ہوں اور مسائل خواہ جو بھی ہوں، جب اختلاف ہے تو زندگی کے تمام معاملات میں ہے اور زندگی کی آخری سانس تک ہے۔ مسلمان اس معاملے میں الحمدللہ نہ کبھی کسی مداہنت کے شکار ہوئے، نہ رکے اور نہ کبھی جھکے۔ مسلمانوں کے جس گروہ نے پہلے دن سے جو نظریہ بنالیا وہ موجودہ وقت تک اسی پر قائم ہے اور اب اس میں کسی چھوٹی بڑی تبدیلی کا یا اس پر نظر ثانی کرنے کا کوئی موقع نہیں۔ رفعت الاقلام و جفت الصحف۔
’پیوریسرچ سینٹر‘ کی رپورٹ تو یہی کہتی ہے کہ مسلمان دنیا کی دوسری بڑی اکثریت ہیں مگر خود مسلمان اس کو سچ نہیں مانتے کیونکہ وہ ایک دوسرے کو کافر مانتے ہیں۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو مسلمانوں کا بہت چھوٹا سا گروہ مسلمان رہ جاتا ہے اور وہ بھی صرف خود اپنی نظر میں، دوسرے گروہوں کی نظر میں وہ بھی مسلمان نہیں ہے۔ تو جس قوم میں مذہبی اختلافات کی نوعیت یہ ہو وہ قوم کسی اور محاذ پر متحد نہیں ہو سکتی، نہ سیاسی محاذ پر اور نہ ہی تعلیمی، اقتصادی و سماجی مسائل پر ۔
نمبر۔ 2 : مسلمان سائنسی علوم میں مہارتیں نہیں رکھتے، نت نئی تحقیقات اور ایجادات کے میدان میں ان کی شمولیت اور حصہ داری نہ ہونے کے برابر ہے۔ جبکہ سائنسی علوم کے موجد اول مسلمان ہی ہیں اور یہ سائنسی علوم ہی ہیں جن پر آج کی دنیا کا مدار ہے، تعمیر و ترقی کا بھی اور استحکام و قرار کا بھی۔ آج اہل عرب فلک بوس عمارتیں بنوانے میں ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ آرائی کر رہے ہیں، حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر جنگ چھڑ جائے تو یہ عمارتیں ان کے کسی کام کی نہیں، یہ انہیں دشمن کے خطرات سے نہیں بچا پائیں گی۔
جنگ کی صورت میں اگر کوئی چیز انہیں بچا سکتی ہے تووہ دفاعی شعبوں میں خود انحصاریت ہے۔ اس لحاظ سے تمام مسلم ممالک کو اور بطور خاص اہل عرب کو چاہیے تو یہ تھا کہ وہ اپنے ملک کے دفاعی شعبوں کو مزید مستحکم کرتے اور انہیں جدید آلات اور نئی ٹیکنالوجی سے آراستہ کرتے۔ وہ یہ دیکھتے کہ آج جو سپر پاور ممالک ہیں ان کی ترجیحات کیا ہیں اور بین الاقوامی کریش سویلائزیشن کے مواقع پر ان کی رنڑنیتی کیا ہوتی ہے اور وہ باقی دنیا کو کس طرح ٹریٹ کر رہے ہیں پھر وہ خود بھی انہی ترجیحات کو اپنی مستقبل کی منصوبہ بندیوں میں شامل کرتے، مگر اس کے برخلاف عرب سمندروں کو پاٹنے اور پہاڑوں کو کھودنے میں لگے ہیں۔
حد تو یہ ہے کہ تمام مسلم ممالک کو ایک دوسرے سے مربوط کرنے کے لیے بھی ان کے پاس پالیسیاں نہیں ہیں اور اگر ہوں بھی تو مانتا کون ہے اور کوئی کسی کی سنتا کب ہے۔ پھر ستم بالائے ستم یہ بھی ہے کہ دنیا کے بیشتر مسلم ممالک کے بیشتر مسلم حکمراں دین و ملت کے مسائل کے لیے سنجیدہ بھی نہیں ہیں۔ اگر ان کا گھر دولت سے بھر جاتا ہے اور مسلم محلوں اور مسلم ملکوں میں ان کی پہچان بن جاتی ہے یا دھاک بیٹھ جاتی ہے تو ان کے لیے یہی کافی ہے، باقی دین سے انہیں کیا لینا دینا اور ملت سے انہیں کیا سروکار۔
یہ کہنا کہ تعمیر و ترقی کی بنیاد ایمان و عقیدے اور دینی علوم پر استوار ہے اور رسول اللہﷺ اور اصحاب رسولﷺ نے اسی ایمان و عقیدے اور اسی دینی جوش و جذبے، ایثار و قربانی اور دعوت و جہاد کے ذریعے دنیا کو فتح کیا تھا، یہ کہنا اپنے آپ میں درست ہے مگر ایسے استدلال سے عصری علوم اور جدید ٹیکنالوجی کو بے وقعت قرار دینا غلط ہے۔ کیونکہ موجودہ زمانے میں اور صحابہ کرام کے زمانے میں بہت فرق واقع ہو گیا ہے اور ہر زمانے کی رنڑنیتیاں اور منصوبہ بندیاں الگ اور مختلف ہوتی ہیں۔
علوم و فنون مختلف ہوتے ہیں اور مختلف طرح کی تربیت و استعداد کی ضرورت ہوتی ہے۔ دینی جوش و جذبہ اور تعلیم و دعوت بھی تبھی کام آئیں گے جب عصری دانش اور وقت کے مطابق تیاریاں اور قوت و استعداد ان کے ساتھ ہوں گی۔ پھر یہ بھی تو ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ان کے بعد کی مسلم قیادت عصری دانش اور تقاضوں سے پوری طرح واقف تھی۔
نمبر۔ 3 : مسلم قیادت اور مسلمان قوم کے اندر صالحیت اور معتدل مزاجی کی کمی ہے اور یہ کمی دونوں طرف سے ہے۔ قوم کی طرف سے بھی ہے کہ وہ کسی بھی بڑی سے بڑی شخصیت کو ایک غیر متنازعہ عالمی شخصیت کے طور پر اٹھانا نہیں چاہتی۔ اور اس کی وجہ وہی ہے جو پہلے نمبر پر بیان ہوئی یعنی فرقہ بندی اور مسلک پرستی۔ مسلمان نہ ایسے شخص کو قبول کر سکتے ہیں جس کا کسی ایک مسلک اور گروہ سے تعلق ہو اور نہ ہی ایسے شخص کو قبول کر سکتے ہیں جس کا کسی نہ کسی گروہ اور مسلک سے کوئی تعلق ہی نہ ہو یعنی وہ لبرل اور آزاد خیال ہو۔
ایک مسلمان کی دو ہی حیثیتیں ہو سکتی ہیں، یا تو وہ کسی نہ کسی مسلک سے وابستہ ہو گا یا پھر آزاد خیال ہو گا۔ اور مسلمان قوم کو یہ دونوں صورتیں گوارا نہیں۔ جو آزاد خیال ہے اسے صرف آزاد خیال لوگ ہی قبول کریں گے، مذہبی طور پر پرجوش مسلمان اسے برداشت نہیں کر سکتے اور جو مذہبی خیال والا ہو گا اسے صرف اس کے مسلک اور گروہ والے ہی برداشت کریں گے، اسے نہ تو آزاد خیال لوگ برداشت کر پائیں گے اور نہ ہی دوسرے مسلک والے برداشت کرسکیں گے، خواہ وہ ان کے لیے کتنا بھی مفید اور کتنا بھی خیرخواہ ہو جائے۔ یہ کوئی ہوائی بات نہیں ہے، یہ تو امت کی فطرت ثانیہ ہے اور نقش کالحجر کی طرح ہے۔
مسلم قیادت کے اندر صالحیت اور معتدل مزاجی کی کمی خود رہنمایان قوم کی طرف سے بھی ہے کہ ان میں سے بیشتر منفعل مزاج اور گرم طبیعت کے مالک ہیں، صالحیت کا تو خیر پوچھنا ہی کیا ہے، الا ماشاء اللہ۔ ان میں سے کسی سے بھی یہ توقع کم ہی کی جا سکتی ہے کہ وہ مسلک پرستی اور گروہ بندی کے دائرے سے نکل سکے گا، ہاں جو نکلے گا بھی تو سیدھے سیدھے الحاد کی گود میں جا گرے گا اور وہ اس طرح امت کی نظر میں غیر معتبر ٹھہر جائے گا۔
اور نہ ہی کسی سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ امت کے حالات کا تجزیہ اور مسائل کا تصفیہ کرتے وقت غیر منفعل رہے گا اور طبیعت کی گرمی کو دبا کر رکھے گا۔ قوم کے بیشتر لیڈروں کو ان کے مزاج کی یہی گرمی لے ڈوبی اور وہ صفحہ ہستی سے اس طرح مٹے یا مٹائے گئے کہ عبرت کا نشان بن گئے، مگر مسلمان قوم نے اور مسلم لیڈر شپ نے اس سے بھی کچھ عبرت حاصل نہیں کی۔ ان کے مزاج میں اب بھی وہی تندی و تیزی ہے اور اب بھی وہی شتابیت اور منفعل مزاجی ہے۔ پھر اس معاملے میں شاہ و گدا سب ایک ہیں۔
نمبر۔ 4 : مسلمان قوم اور مسلمان قیادت میں اجتماعی کاوشوں اور اعمال کی بے حد کمی ہے۔ موجودہ زمانے کی مارکیٹس کی عمارت شیئرز کی بنیاد پر کھڑی ہے، اس مارکیٹ میں مسلمانوں کی حصہ داری اور عمل داری بے حد کم ہے۔ مسلمانوں کی ایک بڑی عجیب سی نفسیات یا ٹریجڈی یہ بھی ہے کہ ان میں سے ہر کوئی چھوٹا یا بڑا شخص جو کچھ بھی کرنا چاہتا ہے اپنے بل بوتے پر ہی کرنا چاہتا ہے، اس میں کسی کی شرکت اور ساجھے داری نہ ہو۔ کاروبار بھی وہ اکیلا ہی کرنا چاہتا ہے، خواہ ایک چھوٹی سی دکان ہی کیوں نہ، حتی کہ دو سگے بھائی اور دو دوست بھی باہم دگر مل کر کاروبار بھی نہیں کر سکتے۔
مدرسہ ہو تو الگ ہو اور اپنا ہو خواہ وہ مدرسہ ہی کیوں نہ ہو، اسکول ہو تو وہ بھی ذاتی بزنس کی طرح ہو، کسی کی ماتحتی اور شراکت داری نہیں چاہیے۔ مسلمان سیاسی لیڈران کو ملک بھی الگ ہی چاہیے بھلے ہی وہ ایک ماچس کی ڈبیا کے برابر ہی کیوں نہ ہو، زمین اور آبادی کم ہو تو کوئی بات نہیں بس اپنی حکومت ہونی چاہیے، اسی ذہنیت کے چلتے دنیا میں پچاسوں چھوٹے بڑے مسلم ملکوں کا جال پھیلا ہوا ہے۔ اگر وہ چاہتے تو کم ازکم اتنا ہی کر لیتے کہ ان تمام ملکوں کے بابین تجارتی اور سماجی روابط بڑھاتے لیتے، دفاعی شعبوں میں شراکت داری کرلیتے، ہیلتھ اور تعلیم جیسے شعبوں میں باہم دگر سہولتیں اور آزادیاں بڑھا لیتے، انہوں نے یہ سب بھی بڑے پیمانے پر نہیں کیا۔
اب صورت حال یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے نہ صرف یہ کہ اجنبی محض ہیں بلکہ ایک دوسرے کے کھلے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ اور بعض ملکوں میں اقتدار کی جنگ زوروں پر چل رہی ہے۔ اگر ابھی جنگ کے حالات پیدا ہو جائیں توان میں ہر ملک اپنے پڑوسی ملک کو اکیلا چھوڑ دے گا اور وہ بھی محض اس جھوٹی یقین دہانی پر کہ اسے ایسا کرنے پر اربوں ڈالر دیے جائیں گے جیسا کہ نائن الیون کے بعد پڑوسی ملک نے کیا۔
ایک عام شخص سے لے کر ملک کے بڑے سے بڑے سربراہ تک تقریباً سبھی مسلمانوں کی نفسیات اسی طرح کی ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ مسجدیں بھی الگ الگ ہی چاہئیں، اس میں بھی یہ ذہنیت کام کر رہی ہوتی ہے کہ دوسروں کی مسجد میں نماز کیوں پڑھیں۔

