پاکستان کی ضرورت۔ ایک قومی نظریہ


1945 میں جب دوسری جنگ عظیم بند ہوئی تب برلن چار حصوں میں جبکہ جرمنی دو حصوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔ سڑکیں، عمارتیں، بجلی، پانی، نکاس غرض ہر وہ سسٹم جس کا انسانی زندگی سے تعلق تھا وہ تباہ ہو چکا تھا۔ انسانی زندگی قابل رحم تھی۔ ہسپتالوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ تھی۔ علاج کی سہولیات نہ ہونے کے برابر تھی۔ اتحادیوں جہازوں نے جرمن کے شہروں پر آگ کے گولے بارش کے قطروں کی ماند پھینکے تھے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ آج بھی جرمنی میں ایسے بم برآمد ہو رہے ہیں۔

یہ شہروں اور کھیتوں میں دفن تھے جو نئی تعمیرات کے دوران نکلتے رہتے ہیں جن کو ناکارہ کر دیا جاتا ہے۔ چھ سال رہنے والی جنگ عظیم دوم نے جرمنی کو ادھیڑ کر رکھ دیا تھا۔ اتحادیوں کے جنگی جہازوں کی اندھا دھند گولہ باری کے زہریلے اثرات ہواؤں میں شامل ہوئے تو بھی ہزاروں انسانی ہلاکتیں ہوئیں تھیں۔ جنگ عظیم دوم میں جرمنی کی تباہی و بربادی کی منظر کشی ایک شہر ڈریسڈن کی تباہی سے کی جا سکتی ہے۔ تاریخ کے مطابق تیرہ فروری 1945 کو جرمنی کے اس مشرقی شہر پر برطانوی جہاز نے کئی دنوں کی مسلسل بمباری میں چار ہزار ٹن گولے برسائے تھے۔

اس کے نتیجہ میں آگ کا ایک ایسا طوفان پیدا ہوا تھا جس میں 25 ہزار انسان بھسم ہو گئے تھے۔ شہر کی فضا میں اوکسیجن ختم ہو گئی تھی۔ کچھ ایسا ہی جرمنی کے دیگر چھوٹے بڑے شہروں کی حالت تھی۔ جنگ بند ہونے کے بعد جرمنی میں زندگی نے جب دوبارہ جنم لیا تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جرمنی کی سیاسی قیادت کو کن کن طرح کے مسائل کا سامنا ہو گا۔ جنگ بندی کے بعد بیمار زخمی اور جنگ سے نڈھال شہریوں نے سا ہا سال تک صرف ”آلوؤں“ پر گزارا کیا تھا اور چھوٹی چھوٹی جگہوں پر آلو اگاتے اور وہی کھاتے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ آج آلو جرمنی کی خوراک کا اہم جز ہے۔ باہمت قوم چار سال بعد ہی 1949 میں مغربی جرمنی کی شکل میں انسانی حقوق کی شقوں اور سیکولر آئین کے ساتھ دنیا کے نقشے پر ازسرنو نمودار ہوئی۔ پاکستان اس سے دو سال پہلے منظر عام پر آ چکا تھا۔ دونوں کی پیدائش میں محض دو سال کا فرق ہے۔ 1949 کے بعد سے اب تک جرمنی میں 9ویں جرمن چانسلر برسراقتدار ہیں جب کہ پاکستان میں اسی عرصہ کے دوران ہر قسم کے 30 وزرائے اعظم گزر گئے اور 31واں چل رہا ہے۔

74 سال کے بعد آج جرمنی ایک سیکولر اور فلاحی ریاست ہے اور یورپ کی سب سے بڑی معاشی اقتصادی طاقت ہونے کے علاوہ آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا ملک بھی ہے۔ غریب اور ترقی پذیر ممالک کو لاکھوں کروڑوں یورو کی امداد دے رہا ہے۔ اپنے ملک میں لاکھوں تارکین وطن کو پناہ دیتا ہے۔ ان کو زندگی کی بہترین سہولیات فراہم کرتا ہے۔ 2015 میں جرمنی میں دس لاکھ سے زائد شامی مہاجرین کو بتدریج بہترین سہولیات کے ساتھ آباد کیا گیا تھا۔

اسی طرح گزشتہ سال روس یوکرائن جنگ کی بدولت یوکرائن کے لاکھوں شہری جرمنی میں پناہ لے چکے ہیں۔ ان کے لئے روٹی کپڑے اور مکان کے علاوہ صحت و تعلیم کی سہولیات کا انتظام کیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ مضبوط معاشی و اقتصادی اور سیکولر سماجی ڈھانچے کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ یہاں مذہب و عقیدہ سب کا ذاتی معاملہ ہے۔ پولیس اور دیگر قومی ادارے مذہبی جذبات سے کوسوں دور ہیں۔ یہی وہ عوامل ہیں جن کے باعث امن و آشتی کا دور دورہ ہے۔

انسانی تحفظ اور ترقی کے حوالے سے جرمنی کی ترقی غیر معمولی ہے اور یہ انقلاب صرف ’ایک قومی نظریہ ”ہی کی بدولت ممکن ہوا تھا۔ ایک قوم کی طاقت نے ان کی بدترین حالت کو “ بہترین حالت ”میں بدل ڈالا تھا۔ اسی دوران دو لخت جرمنی دوبارہ یکجا بھی ہو گئے اور مزید طاقتور ہو گئے۔ ایک قومی نظریہ کے ثمر کی اس سے بہتر مثال اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ دو قومی نظریہ نفرت اور تعصب کی ایسی فیکٹری ہے جس سے خارج ہونے اور نکلنے والا زہریلا دھواں اور پانی دونوں نسل در نسل صرف بربادی ہی کر رہے ہیں۔

اپنی اپنی اجارہ داری کی ہوس میں آزادی کو داؤ پر لگادیا ہے۔ آج ایسی اقوام سے پیسے اور امداد لینے کی بجائے ان سے ترقی کے گر سیکھنے کی ضرورت ہے۔ جاپان کی مثال بھی ہم سب کے سامنے ہے۔ ہیروشیما اور ناگاساکی پر دو ایٹم بموں کے بعد ردعمل کے طور جاپانی قوم ایک پرامن قوم بن کر ابھری اور باعزت مقام پر کھڑی ہے۔ یہ شان و شوکت اور عزت محض“ ایک قوم ”ہونے کے ناتے ان کا مقدر ٹھہری تھی۔ محنت اور دیانت داری کی دولت سے مالا جرمنی اور جاپان دونوں اب “دینے والے” ہاتھ بن چکے ہیں۔

چند دن پہلے برلن میں موسمیاتی عالمی سمٹ میں جرمنی نے پاکستان کو 120 ملین یورو کی امداد دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ گزشتہ سال سیلاب کے موقع پر جرمنی نے مجموعی طور چھ کروڑ یورو کی امداد پاکستان کو دی تھی۔ پاکستانی روپے میں یہ امداد اربوں روپے کی بنتی ہے۔ موجودہ وزیر اعظم کا ایک بیان ہماری حالت زار کی مکمل عکاسی کرتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا تھا کہ اب دوست ممالک ہمارے فون بھی اٹینڈ نہیں کرتے کہ شاید ہم نے پیسے مانگنے ہیں۔

اس سے آگے اور چلیں تو پتہ چلتا ہے کہ اسی سال فروری میں جب بھارت میں جی ٹونٹی ممالک کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس ہو رہی تھی انہی دنوں وزیر اعظم پاکستان ایک عرب ملک میں غریب ممالک کی کانفرنس میں شرکت کر رہے تھے اور امداد دینے کی تجاویز بیان فرما رہے تھے۔ جرمنی میں نظام تعلیم اور خصوصاً بچوں کی تعلیم کا نظام دیکھ کر ابھی حیرت زدہ ہوں۔ جرمن ریاست حقیقت میں اپنے بچوں کو نہایت قیمتی اثاثہ سمجھتی ہے اور اسی طرح ان کا خیال بھی رکھتی ہے۔

کچھ دن پہلے ایک تحریر نظر سے گزری جس میں لکھا تھا کہ برصغیر میں 1858 میں میٹرک کے امتحان کا سلسلہ شروع ہوا تو انگریز بچوں کے لئے پاس مارکس 65 رکھے گئے تھے جب کہ ہندوستانی بچوں کے لئے ان کے دماغی اہلیت کے مطابق نصف یعنی 32.5 کے مطابق 33 فیصد رکھے گئے اور پاکستان میں 2023 میں پاس ہونے کا معیار شاید آج بھی یہی 33 فیصد پاس مارکس ہے۔ گویا ہم نے خود اپنا کوئی معیار منتخب کرنے یا اس میں اضافہ کرنے کی کوئی زحمت گوارا نہیں کی۔

آپس کی نفرت اور اختلاف رائے اس نہج تک پہنچ چکا ہے کہ اصلاحات میں بھی ہمارے ہاں اتفاق رائے نہیں پایا جاتا۔ ایک حکومت کچھ مثبت شامل کرتی ہے تو اگلی حکومت نکال کر باہر پھینک دیتی ہے۔ نفرت اور تعصب اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ محض ایک نام اور تصویر کی درسی کتب میں اشاعت سے سب کچھ “خطرے” میں پڑ جاتا ہے۔ ہمت کر کے یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ پاکستان کے اندر نافذ العمل غیر انسانی سیاسی، تعلیمی، سماجی، عدالتی نظام کے ساتھ ساتھ منفی سماجی رویوں اور مذہبی جماعتوں کی اجارہ داری نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ماہ مارچ میں ایک لاکھ 22 ہزار پاکستانیوں نے ملک چھوڑا تھا جبکہ گزشتہ سال کی کل تعداد آٹھ لاکھ تھی۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ اگر یوں ملک سے جاتے رہے تو اندرونی معاشی اقتصادی حالت کیسے بدلے گی؟ کون بدلے گا؟ جرمنی نے ہنر مندوں اور تعلیم یافتہ افراد کو لینے کے لئے اپنی قوانین تبدیل کر لئے ہیں تاکہ اس کی معاشی و اقتصادی برتری قائم رہے۔ ہمارے ہاں الٹ معاملہ ہے۔ خبروں کے مطابق پاسپورٹ بنانے والوں کی تعداد میں ناقابل یقین اضافہ ہو رہا ہے۔

سال رواں کے مہینہ مارچ کی ایک خبر کے مطابق پاسپورٹ بنوانے کی تعداد تیس ہزار روزانہ تک پہنچ گئی ہے۔ ڈائریکٹوریٹ پہلے اندرون و بیرون ملک بیس ہزار روزانہ بنایا کرتا تھا۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) نے اس خطرناک رجحان کی نشاندہی کی ہے اور کہا ہے کہ روزانہ تیس ہزار پاسپورٹ بنائے جا رہے ہیں۔ بیورو آف امیگریشن کے ایک نامعلوم افسر کے مطابق بدتر ملکی معیشت، سیاسی عدم استحکام اور غیر یقینی صورتحال کے سبب نوجوان ملک سے فرار ہو رہے ہیں۔ ان کی منزل مشرق وسطی اور یورپین یونین کے ممالک ہیں۔ مشہور دانشور خلیل جبران کا ایک قول ہے کہ “قابل رحم ہے وہ قوم جو جنازوں کے ہجوم کے سوا کہیں اور اپنی آواز بلند نہیں کرتی اور ماضی کی یادوں کے سوا اس کے پاس فخر کرنے کا کوئی ساماں نہیں ہوتا ”۔ لیکن ہمارا تو ماضی بھی ایسا نہیں ہے جس پر فخر کیا جا سکے اور مستقبل کا کچھ پتہ نہیں؟

Facebook Comments HS