ڈاکٹر زبیدہ سرنگ اور دیگر ڈاکٹروں کی خدمات کا تقابلی جائزہ


میرے حالیہ آرٹیکل جو کہ ”ہم سب“ پر شائع ہوا تھا اس پر کافی لوگوں نے اعتراض کیا ہے کہ میں نے ڈاکٹر زبیدہ سرنگ صاحبہ کی کتاب، ”آپٹکس، میڈ ایزی“ پر اپنی رائے دے کر ان کی توہین کی ہے اور ان کی خدمات کو نظر انداز کیا ہے۔ کچھ نوجوان اور ڈاکٹر صاحبہ کے ’مداح‘ تو میرا مضمون پڑھے بغیر ہی اس ’معجزاتی تصنیف‘ کے لئے ایسے سیخ پا ہو رہے ہیں جیسے زبیدہ سرنگ صاحبہ نے یہ کتاب لکھی نہ ہو بلکہ کوئی فوق الفطرت کارنامہ نمود میں آ گیا ہو۔

ڈاکٹر صاحبہ کے کچھ ’مداح‘ تو مجھے حاسد ہونے کا طعنہ بھی دے رہے ہیں۔ حسد اپنے شعبے میں اپنے مدمقابل کسی فرد سے کیا جاتا ہے۔ میرا ڈاکٹر صاحبہ سے کوئی مقابلہ ہے اور نہ ہی کوئی سروکار۔ میرا شعبہ الگ ہے، ان کا الگ۔ میں اپنے شعبے کے کسی فرد کو ریسرچ پیپر شائع کرتے دیکھ کر یا کسی کو اردو شاعری کا کمال انگریزی ترجمہ کرتے (جیسے کہ ظہور دانش صاحب یا عیسی خان صاحب) دیکھ کر، یا کسی کی اچھی تحریر پڑھ کر یا کسی کے مطالعے کے ذوق کو دیکھ کر اس پر رشک کر سکتا ہوں، بغض اور حسد کا پہلو اس میں بھی نہیں ہو گا۔

پہلے تو یہ ذہن نشیں کر لیں کہ میں نے یہ کہا ہے کہ ان کی فنی مہارت پر نہ مجھے نہ کسی اور کو کوئی اعتراض ہے۔ وہ ایک قابل ڈاکٹر ہیں اور ان کی فنی مہارت کے ہم سب قائل اور معترف ہیں۔ لیکن بحیثیت ایک رائٹر نہ ان کو اور نہ اس کتاب کو وہ مقام دیا جا سکتا ہے جو سوشل میڈیا میں دکھایا جا رہا ہے۔ وہ اب ڈاکٹر سے بڑھ کر سوشل میڈیا سینسیشن بنی ہیں اور سیلیبرٹی بننے کے سفر پر گامزن لگ رہی ہیں۔

کتاب اور ان کی فنی قابلیت کی تعریف پر میری رائے اس لنک میں موجود ہے۔
https://www.humsub.com.pk/507738/ihtisham-ur-rehman-chitral-27/

اب ان کی خدمات اور دوسرے ڈاکٹروں کی خدمات کا ایک تقابلی جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔

پہلی بات یہ سمجھنے والی ہے کہ کوئی بھی ڈاکٹر مفت میں کسی کا علاج نہیں کرتا ہے (تاہم، ایسے خدا ترس لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ضرور ہے)۔ سب کو ان کی خدمت کی اجرت ملتی ہے۔ ہسپتال میں حکومت کی طرف سے تنخواہ اور کلینک میں مریضوں کی طرف سے فیس کی مد میں ان کو ان کے کام کا معاوضہ ملتا ہے۔ جس طرح سکول، کالج اور یونیورسٹی کے ایک استاد کو تنخواہ ملتی ہے اسی طرح ڈاکٹر کو بھی۔ دونوں میں فرق اتنا ہے کہ ڈاکٹر جان بچاتا ہے اور استاد ایک شخص کو آدمی سے انسان بناتا ہے۔ لیکن، بدقسمتی سے، ہمارے معاشرے میں سب سے کم تر شعبہ درس و تدریس کے شعبے کو سمجھا جاتا ہے۔

اگر خدمت خلق کی بات کی جائے تو ڈاکٹر زبیدہ صاحبہ پہلی ڈاکٹر نہیں ہیں جو خدمت خلق کر رہی ہیں۔ چترال میں اگر کوئی مسیحا ہے تو وہ ڈاکٹر سلیمہ صاحبہ ہیں۔ اب بھی وہ ضعیف العمری کے باوجود بغیر کسی معاوضے کے ایمرجنسی کے وقت گائنی وارڈ جا کر ڈیوٹی سرانجام دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر شہناز صاحبہ اور ڈاکٹر سلطانہ صاحبہ (مرحوم) بھی برسوں لوگوں کی خدمت سر انجام دیتی رہی ہیں۔ اسی طرح ڈاکٹر زہرہ ولی (ڈاکٹر زبیدہ کی بہن)، ڈاکٹر عفت کہکشاں (گائنی پر ان کے نوٹس کی کتابی شکل، گائنی اینڈ او بی ایس، بھی لوکل طلباء میں مشہور ہے) ، ڈاکٹر شہلا آفاق، ڈاکٹر لاریب، ڈاکٹر عمرانہ، ڈاکٹر رابعہ، ڈاکٹر سیدہ، ڈاکٹر ماہ پارہ اور ڈاکٹر فریال بھی بحیثیت ینگ اور قابل ڈاکٹر اپنی خدمات انتہائی احسن طریقے سے سر انجام دے رہی ہیں۔

اب آتے ہیں ڈاکٹر زبیدہ سرنگ صاحبہ کے شعبے کی طرف: اس شعبے میں ڈاکٹر محبوب حسین صاحب کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ ان کی خدمت خلق کا آغاز تو اس وقت ہوا تھا جب 80 کی دہائی میں اس خدا ترس انسان نے افغان جنگ کے دوران کیمپوں میں جا کر افغان مہاجرین کا علاج کرنا شروع کیا تھا۔ آج بھی وہ انتہائی قلیل فیس لے کر آنکھوں کا معائنہ بھی کرتے ہیں اور آپریشن بھی۔ ان کا ایک بڑا کارنامہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنے ذاتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے بیس سال پہلے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال، چترال، میں امراض چشم کے لئے یورپی فنڈ کے ذریعے الگ اسٹیٹ آف دی آرٹ آپریشن تھیٹر بنوایا تھا جو کہ آج بھی زیر استعمال ہے۔ اس کے علاوہ نجی تعلقات کی مدد سے نیپال کے ایک ٹرسٹ کے ذریعے برسوں چترال میں لینزز اور دوائیوں کی مفت فراہمی کو ممکن بنایا تھا۔ دور دراز علاقوں میں کیمپ لگا کر مریضوں کا مفت معائنہ، علاج اور آپریشن کرنا اس کے علاوہ تھا۔

اسی طرح ڈاکٹر خورشید صاحب نے کئی سال تک پشاور میں عوام کی خدمت کی ہے۔ اب نوجوان اوپتھولمولجسٹ ڈاکٹر صہیب صاحب دل و جان لگا کر اور خوش اخلاقی کا اعلی مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کی خدمت کر رہے ہیں۔ میری معلومات کے مطابق ان کی فیس بھی 700 ہے اور جو آپریشن ڈاکٹر زبیدہ صاحبہ تیس سے چالیس ہزار روپے لے کر کرتی ہیں، وہی آپریشن ڈاکٹر صہیب صاحب پندرہ سے بیس ہزار میں کرتے ہیں۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ صحت کارڈ کے ذریعے ہسپتال میں یہ تمام آپریشنز مفت میں کیے جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ ڈاکٹر زاہد صاحب، ڈاکٹر رکن الدین صاحب اور ڈاکٹر محمد فاروق صاحب بحیثیت میڈیکل اسپیشلسٹ کئی برس سے عوام کی خدمت کر رہے ہیں۔ اسی طرح سرجن بلال صاحب تو عوام کے لئے کسی رحمت سے کم نہیں ہیں۔ ان کے متعلق عوام کی رائے یہ ہے کہ وہ مریضوں کو ہسپتال میں ہی فسیلیٹیٹ کرتے ہیں تاکہ ان پر معاشی بوجھ نہ ہو۔ ذرائع کے مطابق ان کی ٹیم چترال ہسپتال میں ہر مہینہ 60 سے 90 آپریشن مفت میں کرتی ہے جن کا تخمینہ 40 لاکھ سے 50 لاکھ بتایا جاتا ہے۔ اگر وہ چاہیں تو بہانے بنا کر یہی آپریشن اپنے کلینک میں کر کے کروڑ پتی بن سکتے ہیں۔ ڈاکٹر بلال صاحب بھی یورپ اور مشرق وسطی میں کئی اچھی آفرز کو ٹھکرا کر چترال میں آ کر عوام کی بے لوث خدمت کر رہے ہیں۔

اگر یہ خدمت ہی ہے تو ڈاکٹر یوسف ہارون صاحب اپنے گھر اور بچوں سے دور چترال میں رہائش پذیر ہو کر یہاں مریضوں کی خدمت کر رہے ہیں۔ اسی طرح ماضی میں ڈاکٹر شیر قیوم صاحب، ڈاکٹر نذیر احمد صاحب، ڈاکٹر نذیر حسین شاہ صاحب، ڈاکٹر شاہ نادر صاحب، ڈاکٹر فدا صاحب، ڈاکٹر نور اسلام صاحب، ڈاکٹر سعد ملوک صاحب اور ڈاکٹر انور الدین صاحب کی خدمات قابل تعریف ہیں۔ نئے اور نوجوان ڈاکٹروں میں ڈاکٹر فاروق، ڈاکٹر اسرار الدین، ڈاکٹر محمود عالم، ڈاکٹر رشید، ڈاکٹر اسرار، ڈاکٹر محب، ڈاکٹر صمد، ڈاکٹر عباس، وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

ڈاکٹر بننے کا مقصد ہی مریضوں کا علاج کرنا ہوتا ہے۔ اگر نیوٹرل ہو کر دیکھا جائے تو یہ کسی پر احسان نہیں کرتے۔ ان کو ان کے کام کا معاوضہ ملتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح ایک استاد، بینکر، انجنیئر، سول سرونٹ، فوجی، وغیرہ کو ملتا ہے۔ ہاں، ان میں سے کوئی اگر کسی کا مفت علاج کرتا ہے تو ہم اس پر ان کو بھی اور ڈاکٹر صاحبہ کو بھی خراج تحسین پیش کر کے ’فخر چترال‘ کا خطاب دینے کے لئے تیار ہیں۔

ڈاکٹر صاحبہ کو ان کے سوشل میڈیا ٹیم اور قوم/برادری کی وجہ سے سوشل میڈیا پر پذیرائی ملی جبکہ دوسرے ڈاکٹر صاحبان سوشل میڈیا سے دور رہ کر اپنے فرض منصبی کی ادائیگی میں دن رات مگن ہیں۔ ان بیچاروں کے پاس نہ ہی سوشل میڈیا استعمال کرنے کا وقت ہوتا ہے نہ ہی میڈیا ٹیم رکھ کر پیج چلانے کی استطاعت ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا سے دور رہ کر چپکے سے اپنی خدمات سر انجام دیتی رہیں۔ ہم یہی چاہتے ہیں کہ ان کو وہ مقام ملے جو جینوئن لوگوں کو ملتا ہے نہ کہ چاہت فتح علی خان، حماد صافی اور ضلعی انتظامیہ کے ’فیس بکی افسروں‘ کی طرح کی جعلی، کاسمیٹک اور وقتی شہرت و مقبولیت۔

ہاں، ڈاکٹر صاحبہ ایک لحاظ سے سب سے منفرد ہیں : وہ یورپ کی زندگی چھوڑ کر پاکستان واپس آ کر عوام کی خدمت کر رہی ہیں۔ یہ ان کے والدین کی زندگی کا بھی خاصا رہا ہے۔ اگر وہ چاہیں تو کسی بھی میٹرو پولیٹن شہر جا کر رہ سکتے ہیں لیکن انہوں نے اپنے علاقے کی خدمت کو اپنی ذاتی عیش و عشرت پر فوقیت دی ہوئی ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ کی تعریف کرتے ہوئے ان کے متعلق میں نے یہ باتیں دلیل کے طور پر پیش کیں تو آغا خان یونیورسٹی میں ہی پڑھے ہوئے ایک صاحب نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحبہ کی پاکستان واپسی ان کی مجبوری تھی۔ انہوں نے بتایا کہ آغا خان یونیورسٹی میں ایم بی بی ایس کرتے وقت اسکالرشپ کی مد میں جو قرضہ لے کر فیس ادا کی جاتی ہے اس کی شرط یہ ہوتی ہے کہ اس سے مستفید ہونے والا/والی یہ قرضہ حسنہ پڑھائی مکمل کرنے کے بعد آغا خان یونیورسٹی ہسپتال یا پھر آغا خان ہیلتھ سروس کے ساتھ کام کر کے ادا کرے گا/گی۔

ایک طرف تو ڈاکٹر صاحبہ کی خدمت خلق کے چرچے ہیں تو دوسری طرف ایسے اعتراضات۔ کتاب کے حوالے سے ڈاکٹر صاحبہ سے یہی درخواست ہے کہ اگر ”آپٹکس، میڈ ایزی“ ایک ’بیسٹ سیلر‘ ہے تو ڈاکٹر صاحبہ یہ معلومات پبلک کر دیں کہ اس کتاب کی کتنی کاپیاں بکی ہیں؟ کتنے ایڈیشن شائع ہوئے ہیں اور ہر ایڈیشن کتنی کاپیوں پر مشتمل ہے؟ کتنا ریونیو حاصل ہوا ہے اور انہوں نے فروخت شدہ کاپیوں پر کتنا ٹیکس ادا کیا ہے؟ اب یہ ڈاکٹر صاحبہ ہی بہتر طریقے سے سمجھا سکتی ہیں کہ اس بات میں کتنی صداقت ہے اور کتنا پروپیگنڈا؟

اس کے بعد ہی یہ طے کیا جاسکتا ہے کہ کتاب کی اصل حیثیت کیا ہے؟ اور کیا ان کی گلگت میں ڈیوٹی واقعی خدمت خلق ہے یا پھر اس کی پرچار کے لئے سوشل میڈیا کیمپین ایک پبلسٹی اسسٹنٹ ہے؟ کیا وہ پوری زندگی چترال اور گلگت میں رہ کر اسی طرح جانفشانی سے یہاں کے لوگوں کی خدمت کو جاری رکھیں گی یا خدمت خلق کے کچھ عرصہ بعد ہمارے ’محافظوں‘ کی طرح باہر جا کر رہائش اختیار کریں گی؟

نوٹ: ”آپٹکس، میڈ ایزی“ کے اچھی کتاب ہونے کے لئے بک ایتھورٹی کو بحیثیت ریفرنس پیش نہیں کیا جا سکتا ہے کیونکہ ویب سائٹ پر موجود معلومات کے مطابق یہ ایمیزون کا ایسوسی ایٹ ہے۔ یہ وہاں پر ہی بکتی ہے، اسی لئے اس کی رائے منصفانہ نہیں ہو سکتی۔ اس کے نیوٹرل نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ویب سائٹ کے مطابق ہر کتاب کی فروخت پر بک ایتھورٹی کو اس کا کچھ شیئر ملتا ہے اور کوئی بھی ویب سائٹ اپنی پروڈکٹ کی برائی نہیں کرے گی، بلکہ تعریف ہی کرے گی۔

Facebook Comments HS