حامد حمید صاحب! آئین کی دھجیاں اڑانے پر شکریہ
ویسے تو ہم روز کئی مرتبہ ’شکریہ‘ کا لفظ بولتے ہیں۔ کبھی راستہ دینے پر شکریہ کہتے ہیں۔ اگر کوئی تحفہ دے تو اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اگر کوئی ہماری تعریف بھی کرے تو ہم اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص کسی پر ظلم کرے اور اس کے حقوق سلب کرنے کی کوشش کرے اور کوئی صاحب جا کر اس کا شکریہ ادا کریں تو آپ یہی کہیں گے کہ کمال بے حسی اور سنگدلی ہے۔ یہ شکریہ کہنے کا کون سا موقع تھا؟
جب اس عاجز نے 19 اپریل کو ہونے والی قومی اسمبلی کی کارروائی پڑھی تو سپیکر صاحب اسی قسم کا ’شکریہ‘ ادا کرتے نظر آئے۔ اور یہ انکشاف ہوا کہ بعض ارکان اسمبلی اپنی حدود سے کافی تجاوز کر کے اسمبلی کی کارروائی میں پاکستانیوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے کے مطالبات کر رہے ہیں۔ آج کل کئی ارکان اسمبلی یہ اعلانات تو کر رہے ہیں کہ اس اسمبلی نے یہ آئین بنایا تھا اور یہی اسمبلی اس آئین کی حفاظت بھی کرے گی۔ لیکن بعض ارکان کی تقاریر سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے آئین میں درج بنیادی حقوق پر بھی کبھی نظر ڈالنے کی زحمت نہیں فرمائی۔
اس روز کی کارروائی کے دوران مسلم لیگ نون کے سرگودھا سے رکن قومی اسمبلی حامد حمید صاحب نے کہا کہ ”میانی (سرگودھا ) میں قادیانیوں نے ایک عبادت گاہ کا آغاز کیا او اس مسجد کو باقاعدہ بورڈ لگا کر یہ بتایا گیا کہ یہ عبادت گاہ مرزائیوں کے لئے ہے اور یہاں پر مسلمانوں کمیونٹی کا داخلہ منع ہے۔“ اس تمہید کے بعد انہوں نے یہ سوال اٹھایا
”جن کو اس پارلیمنٹ نے، جن کو اس ہاؤس نے غیر مسلم ڈیکلیئر کیا اور ساتھ ساتھ یہ بھی طے کیا کہ قادیانی اپنی کوئی عبادت گاہ پاکستان کی سرزمین پر نہیں بنائیں گے۔“
انہی جملوں سے اندازہ ہوجاتا تھا کہ یہ صاحب ملک کا ایک نیا آئین ایجاد کر رہے تھے اور اس فرضی آئین کا پاکستان کے موجودہ آئین سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ بہر حال اس کے بعد انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس پابندی کے بعد احمدیوں کی وہ بیت الذکر یا عبادت گاہ وہاں پر کیسے بن گئی۔ لیکن اس کے بعد انہوں ان الفاظ میں ایک جرم کا فخریہ ذکر فرمایا
”کس طریقے سے وہاں پر جا کر مقامی لوگوں کو وہاں پر اسے مسمار کرنا پڑا۔ ان کو مینار لگانے کی اجازت کس نے دی؟“
اس کے بعد انہوں پاکستان کے آئین پر اپنی دست اندازی جاری رکھتے ہوئے کہا:
”اس کی کس نے اجازت دی۔ کس نے پرمشن دی کہ وہاں پر نماز ادا کر سکیں؟ وہ وہاں پر اپنی مذہبی رسومات ادا کر سکیں۔ میں بطور مسلم بطور پاکستانی آپ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس چیز کی نہ صرف انکوائری ہونی چاہیے بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ تمام اداروں کی ذمہ داری میں ان کے فرائض میں شامل ہے۔“
یعنی رکن صاحب بہادر فرما رہے ہیں کہ دیکھو تو سہی کہ پاکستان میں کس طرح آئین اور قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں کہ لوگ ہمارے سے اجازت لئے بغیر خدا کی عبادت تک کرلیتے ہیں اور کیسا اندھیر مچا ہے کہ کوئی ادارہ ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ اس وقت رمضان المبارک کا مہینہ تھا۔ اس لئے حامد حمید صاحب نے کہا کہ جہاں اس بابرکت مہینہ میں اراکین پارلیمنٹ اپنا فرض ادا کر رہے ہیں، وہاں پر مناسب ہو گا کہ سپیکر صاحب اس سانحہ پر رپورٹ منگوائیں کہ یہ غفلت کس طرح ہوئی؟ اس موقع پر ان صاحب کو تقریر ختم کرنی پڑی ورنہ وہ اس بات کے مزید دلائل دیتے کہ وہ رمضان المبارک کے مہینے میں عبادت کو غفلت یا کوتاہی کیوں سمجھتے ہیں؟
اس ضمن میں یہ واضح ہونا ضروری ہے کہ جو بورڈ لگایا گیا وہ احمدیوں کی مرضی کے خلاف سرکاری انتظامیہ نے جماعت احمدیہ کے مخالفین کے دباؤ پر لگایا اور اس بورڈ پر ہرگز یہ نہیں لکھا کہ یہاں مسلمانوں کا داخلہ منع ہے۔ جناب رکن اسمبلی معزز ایوان کو واضح طور پر گمراہ کر رہے تھے۔
ویسے تو حامد حمید صاحب کی اس تقریر پر پوری کتاب بھی لکھی جا سکتی ہے لیکن ایک کالم میں کی کچھ حدود ہوتی ہیں۔ اس لئے اختصار سے کچھ نکات پیش کرنے پڑیں گے۔ حامد حمید صاحب بڑے فخر سے اس بات کا ذکر فرما رہے تھے کہ اس ایوان نے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا تھا۔ لیکن انہیں کس عقلمند نے بتا دیا کہ پاکستان کے آئین یا قانون میں کسی بھی شخص کے عبادت کرنے پر کوئی پابندی ہے۔ شاید یہ صاحب اس تقریر سے قبل ہٹلر یا مسولینی کی کسی تقریر کا ترجمہ پڑھ کر اس سے متاثر ہو گئے تھے۔ ورنہ شاید حامد حمید صاحب کے علم میں بھی ہو کہ اس ملک کے بانی کا نام قائد اعظم محمد علی جناح تھا۔ اور جب اس ملک کی قانون ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس ہوا تھا تو انہوں نے فرمایا تھا :
You are free; you are free to go to your temples، you are free to go to your mosques or to any other place or worship in this State of Pakistan۔ You may belong to any religion or caste or creed that has nothing to do with the business of the State۔
آپ آزاد ہیں۔ آپ ریاست پاکستان میں اپنے مندروں کو جانے کے لئے اپنی مسجدوں میں جانے کے لئے یا کسی بھی اور عبادت کی جگہ پر جانے کے لئے آزاد ہیں۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب فرقہ یا مسلک سے ہو، اس کا ریاست کے کاروبار سے کوئی تعلق نہیں۔
قیام پاکستان کے وقت تو پاکستان کے تمام لوگوں کو آزادی کا پیغام دیا گیا تھا۔ حامد حمید صاحب کو یہ غلط فہمی کس طرح ہو گئی کہ پاکستان کے لوگ ان کے خام خیالات کے غلام ہیں۔ وہ اپنی تقریر میں کہہ رہے تھے کہ اس ایوان نے یہ طے کیا تھا قادیانی پاکستان کی سرزمین پر اپنی کوئی عبادت گاہ نہیں بنا سکتے۔ ہماری درخواست ہے کہ حامد حمید صاحب آئین کی اس شق کا حوالہ عطا فرمائیں جس میں یہ لکھا ہے کہ احمدی پاکستان میں اپنی عبادت گاہ نہیں بنا سکتے۔ یہ خالصتاً ان کے ذہن کی اختراع تھی، جس کا آئین پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
حیرت ہے کہ تمام ارکان اسمبلی خاموشی سے بت بنے یہ تقریر سن رہے تھے کہ احمدیوں نے یہ عبادت گاہ کیوں بنائی یا احمدی عبادت کیوں کر رہے تھے؟ کیا کسی رکن نے آئین کی تمہید بھی نہیں پڑھی تھی۔ اس تمہید میں واضح لکھا ہے کہ پاکستان میں مسلمانوں کو اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ اپنی زندگیاں اسلامی تعلیمات کے مطابق ترتیب دے سکیں اور یہ قرار واقعی انتطام کیا جائے گا کہ اقلیتیں اپنے مذہب پر عمل کر سکیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے شہریوں کا عقیدہ جو بھی ہو، اس سے ان کی یہ آزادی متاثر نہیں ہوتی کہ وہ اپنے عقیدہ پر عمل کریں یا اس کے مطابق عبادت کریں۔
انہوں نے اس جرم کا اعتراف کیا کہ اس علاقہ کے لوگوں نے احمدیوں کی بیت الذکر پر حملہ کر کے اسے نقصان پہنچایا۔ میری درخواست ہے کہ وہ تعزیرات پاکستان کی شق 295 پر ایک نظر ڈال لیں۔ یہ شق ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے
Whoever destroys، damages or defiles any place of worship
یعنی جو شخص بھی کسی بھی عبادت کی جگہ کو تباہ کرے یا اسے نقصان پہنچائے یا اس کی بے حرمتی کرے تو اس کو یا تو دو سال کی مدت تک کے لئے قید کی سزا دی جائے گی یا جرمانہ کیا جائے گا یا یہ دونوں سزائیں دی جائیں گی۔ اگر ان کے علاقہ کے کچھ لوگوں نے یہ جرم کیا تھا تو ایک رکن کی حیثیت سے ان کا فرض تھا کہ ان کا یہ نام نہاد کارنامہ اسمبلی میں سنانے کی بجائے کوشش کرتے کہ ان مجرموں کو قانون شکنی کی سزا دلائی جائے۔
یہ صاحب احمدیوں کی جس بیت الذکر کا تذکرہ کر رہے تھے، وہ حال میں تعمیر نہیں ہوئی تھی بلکہ گھوگھیاٹ ضلع سرگودھا کے مقام پر 1905 میں پہلی بار تعمیر ہوئی تھی اور تعمیر نو کے بعد پچاس سال کے عرصہ سے موجودہ حالت میں موجود تھی اور اس پر بڑا سا بورڈ لگا ہوا ہے، جس پر لکھا ’احمدیہ بیت الذکر‘۔ اس کے بعد کسی اور بورڈ لگانے کی ضرورت کیا تھی؟ اور نہ معلوم ان کو یہ غلط فہمی کیوں ہوئی کہ مینارے صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ سے مخصوص ہیں۔ خاکسار ایک سے زائد مرتبہ کالموں میں یہ تفصیلات پیش کر چکا ہے کہ اسلام کے آغاز سے کافی عرصہ قبل مسیحی چرچوں کے ساتھ مینار تعمیر ہو رہے تھے اور اب بھی ہوتے ہیں۔
حیرت ہے کہ حامد حمید صاحب اس بات پر غم و غصہ کا اظہار کر رہے تھے کہ یہ کس طرح ممکن ہوا کہ احمدی رمضان میں خدا کی عبادت کرتے پائے گئے۔ اس کی انکوائری کیوں نہیں ہو رہی؟ انہوں نے اس بات پر کوئی اظہار افسوس نہیں کیا کہ ان کی تقریر سے صرف ایک روز قبل اسی مقدس مہینے میں قلات کے ضلع میں ایف سی کے دو جوان ایک حملہ میں شہید کر دیے گئے۔ اسی مقدس مہینہ میں صرف تین روز قبل 15 اپریل کو خیبر پختون خواہ میں دو فوجی جوان دہشت گردوں کو مقابلہ کرتے ہوئے مسلمانوں کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔ اور حامد حمید صاحب کو یہ خیال نہیں آیا کہ پانچ روز قبل اسی مقدس مہینہ میں چمن کے قریب تین معصوم بچے ایک دھماکہ کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار بیٹھے۔ کسی رکن اسمبلی کو یہ خیال نہیں آیا کہ اس مقدس مہینہ میں بھی پاکستان میں خون ریزی کا طوفان رک نہیں سکا۔ یہ خون کی ہولی کیا کم تھی کہ ایک رکن اسمبلی نے کھڑے ہو کر مزید نفرت انگیزی شروع کر دی۔ اور یہ واویلا شروع کر دیا کہ کتنا بڑا ظلم ہو گیا کہ احمدی عبادت کر رہے تھے۔
جب حامد حمید صاحب اپنی تقریر میں آئین کی دھجیاں اڑا چکے اور ان کی تقریر ختم ہوئی تو سپیکر صاحب نے کیا ارشاد فرمایا؟ کیا انہوں نے اس بات کی نشاندہی فرمائی کہ آپ پاکستان کے آئین اور قانون کی طرف غلط نظریات منسوب کر رہے ہیں۔ پاکستان کے آئین میں کسی عقیدہ کے لوگوں پر یہ پابندی نہیں ہے کہ وہ اپنی عبادت گاہ میں عبادت کریں۔ سپیکر صاحب نے فرمایا
”شکریہ“
سپیکر صاحب از رہ کرم وضاحت فرمائیں۔ یہ عاجز سمجھ نہیں سکا۔ وہ کس بات پر حامد حمید صاحب کا شکریہ ادا کر رہے تھے؟


