اس ملک کا کیا بنے گا؟
پاکستان کی موجودہ صورتحال ایسی ہے کہ کچھ بھی برے سے برا تصور کیا جا سکتا ہے۔ سیاست میں ایک عجیب قسم کا تماشا برپا ہے۔ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا ہو رہا ہے، آگے مزید کیا ہونا ہے اور مزید ترین سے آگے کی کہانی کا تانا بانا کون بنے گا۔ ہر کوئی ہر کسی کے بارے میں ہر طرح کی رائے رکھے ہوئے ہے۔ اچھا آدمی اچھا ہی سوچتا ہے اور برا آدمی برائی کی ٹوہ میں رہتا ہے۔ پاکستان واحد ملک ہے جہاں نیک سے نیک اور بد سے بدترین رہتا ہے۔ اس ملک میں برائی اور اچھائی عروج پر دکھائی دیتی ہے۔ یہاں شریف سے شریف ترین اور بدمعاش سے بدمعاش ترین بستے ہیں۔ چور، ڈاکو، زانی، لٹیرے بھی ہیں ؛زاہد، عابد، ایمان دار اور تقوٰی والے بھی گوشہ نشین ہیں۔
اس ملک کو بنانے والوں نے خواب کچھ دکھایا اور تعبیر کچھ ہی نکلی۔ مورخین کو پڑھیں تو بعض کہتے ہیں کہ یہ ملک بننا ہی نہیں چاہیے تھا ؛پتہ نہیں کیوں بن گیا۔ سیاست دانوں کو سنیں تو کہتے ہیں سارا مسئلہ پنجاب کا ہے، پنجاب پورا ملک کھا رہا ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ مساجد میں جائیں تو پتہ چلتا ہے اسلام کا نفاذ ابھی اسی وقت یہیں سے ہو گا اور ہم ہی اسلام کے واحد ماننے والے اور اس کے احیا کے داعی ہیں۔ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ہر طرح کی تخریب کاری جاری اور معمار ماہوار تنخواہ کی ملازمت میں خوش گپ اڑاتے مستقبل کے اندیشوں سے ماورا دکھائی دیتے ہیں۔ ہسپتال، پولیس اسٹیشن، کورٹ کا حال اس سے بھی برا ہے۔ یہ مذکورہ وہ خرابیاں ہیں جسے نظام کی خرابی اور اہل اقتدار کی غفلت سے منسوب کیا جاتا ہے۔
ان برائیوں اور خرابیوں کا تذکرہ عوام و خواص میں ہر قسم کی محفل میں مرکزی گفتگو کی حیثیت سے جاری رہتا ہے۔ جہاں دو، چار دوست ملے، کسی اجنبی سے تعارف ہوا، کسی دوست سے مدت بعد ملاقات ہوئی یا وقت گزاری کے لیے کال ملائی؛حال احوال کے تبادلہ کے بعد انھیں مسائل کو موضوع بنا کر بات شروع ہو جاتی ہے اور بات بحث سے آگے نزع تک پہنچتی ہے تو وطن کی سیاست اور اس کے نظام کل پر لعنت ڈال کر گفتگو کا سلسلہ موقوف کر کے یار لوگ اٹھ جاتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اس صورتحال میں ہم کیا کریں؟ ایک پاکستانی محب وطن کو کیا کرنا چاہیے۔ اس کا رویہ کیسا ہونا چاہیے اور وہ اپنے طور پر کیا کر سکتا ہے؟ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ ایک محب وطن انسان جسے اس وطن کی مٹی سے انس ہے اور وہ خود کو اس وطن کا باسی کہتا ہے اور اس کے لیے اپنا تن، من اور دھن تک قربان کرنے کی جرات اور حوصلہ رکھتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ پاکستان کو درپیش مسائل کے بارے میں منفی گفتگو کرنے سے پرہیز کرے۔ جس شعبے یا مکتبہ فکر سے اس کا تعلق ہے ؛فقط اسی شعبے میں اپنی خدمات اور فرائض کو بہ احسن خوبی انجام دے اور کوشش کرے کہ جہاں پینتیس کروڑ پاکستانی ؛پاکستان کو خراب کرنے اور اسے کمزور کرنے میں جتے ہیں ؛میں ان میں شامل نہیں ہوں۔
ایک فرد نے اگر یہ رویہ اپنا لیا تو یہ ملک بقول سرفراز احمد شاہ صاحب کہ ایک منٹ میں خود بخود ٹھیک ہو جائے گا۔ اس انتہائی گنجلک مسئلے کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ ایک بچہ جب دنیا میں آتا ہے تو اس کی پہلی ملاقات دنیا میں ہسپتال میں ہوتی ہے۔ ہسپتال میں کام کرنے والا ایمان دار اور فرض شناس ہے تو اس پیدا ہونے والے بچے پر منفی اثر نہیں پڑے گا اور اس کے والدین کو بچے کی ولادت پر خوشی ہوگی جو خواہ بیٹی ہو یا تیسری نسل کیوں نہ ہو۔
یہ بچہ بڑا ہو کر جب مدرسہ میں جاتا ہے ناظرہ کے لیے تو یہاں کے مولوی صاحب اگر تعمیری ذہن رکھتے ہیں اور اسلام کو مذہب کی بجائے دین سمجھتے ہیں جس کا اطلاق پوری زندگی کے نصب العین پر ہوتا ہے تو وہ بچے پر منفی اثر نہیں ڈالیں گے بلکہ اس بچے کو وحدانیت اور رسالت کا صحیح تصور دیں گے اور ذات پات، رنگ نسل اور تفرقہ سے دور رکھ کر اس کی دین اسلام کے عین مطابق ذہنی تربیت کریں گے۔
یہ بچہ مدرسہ سے نکل کر سکول میں آتا ہے جہاں اس کا تعلق بارہ برس کی تعلیم کے دوران سیکڑوں اساتذہ سے ہوتا ہے جن میں اگر مثبت افکار والوں کی کثرت ہوئی تو یہ بچہ ملک کا محب وطن بنے گا اور اپنی مثبت اور تعمیری سوچ سے اس کی ترقی و خوشحال میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس ملک میں چور، ڈاکو، لٹیرے، بدمعاش، ہر طرح سے ناکارہ اور قابل نفرت لوگ کسی وقت میں اسی طرح کے شیر خوار تھے۔ بد قسمتی سے انھیں بھی ویسے ہی ملے جیسے یہاں کثرت سے پہلے موجود تھے۔
یہ ایک طرح کا سائیکل ہے جو تقسیم کے بعد تین نسلوں کو محیط ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دوسروں کو برا کہنے کی بجائے خود کو اچھا کرنے کی ممکنہ کوشش کریں۔ ملک کے نظام کو اور اس نظام کے ماتحت حکمرانوں اور اہل اقتدار کو دن رات برا کہنے اور کوسنے اور لعنت و ملامت کرنے سے یہ ملک ٹھیک ہو جاتا تو بہت پہلے اس کی حالت بدل چکی ہوتی اور ہم آئی ایم ایف کی طرح قرض دینے والوں میں شامل ہوتے۔
کوشش کی جائے کہ اپنی اولاد کو مثبت اقدار پر لایا جائے ؛ اس ملک کو تباہ کرنے اور اس کا ستیاناس کرنے میں پچاس برس لگے ہیں اور اب اس کو ٹھیک کرنے اور پٹری پر لانے کے لیے بھی اتنے ہی برس مزید درکار ہیں۔ جادو کی چھڑی، معجزے، کرامتیں اس ملک کی اپنے ہاتھوں سے کی ہوئی تباہی کو خوشحالی اور ترقی میں تبدیل نہیں کر سکتی۔ خدا کے لیے خوابوں سے نکلیں، اسلام کے عالمی نفاذ کی افیم کو ترک کر دیں۔ بہت معمولی اور ابتدائی درجے پر آ کر اپنا محاسبہ کریں۔
اگر آپ رشوت خور ہیں، بے ایمان ہیں، بے غرض ہیں، لاپروا ہیں اور ہر طرح سے ناکارہ ہیں تو اس کا اعتراف کر لیں۔ آپ نے جو تباہی مچائی ہے ؛پہلے اس سے ہاتھ کھینچے، آپ نے کسی کا حق کھایا ہے تو پہلے اس کا کفارہ ادا کریں، آپ نے کسی سے زیادتی کی ہے تو پہلے متاثرہ شخص سے معافی مانگیں اور آپ جہاں ایمانداری نہیں دکھاتے، غفلت سے کام لیتے ہیں ؛وہاں ایماندار ہو جائیں، فرض شناسی سے کام لیں۔ ملک کا کیا بنے گا؟ اس کے بارے میں سوچنے کی ضرورت نہیں۔ آپ کا کیا بنے گا۔ اس کے بارے میں کسی اور نے نہیں بلکہ آپ نے یعنی خود آپ نے سوچنا ہے اور اب سوچ سے آگے بڑھ کر خود کو ٹھیک بھی کرنا ہے۔ پاکستان میں بسنے والا ہر فرد دوسروں کو ٹھیک کرنے کی بجائے خود کو ٹھیک کر لے تو یہ سوال ہی بے معنی ہو جائے گا کہ ”اس ملک کا کیا بنے گا“ ۔

