منظم ہجرت اور سمندر پار پاکستانی


کرہ ارض پر زندگی کے ارتقاء اور تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ایک مسلسل ہجرت یا نقل مکانی کا عمل بھی یکساں طور تاریخ و ارتقا کی منازل میں اپنا کردار رکھتا ہے۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے ہجرت کی وجوہات، مسائل اور نتائج کو سمجھے بغیر سماجی علوم کو سمجھا ہی نہیں جا سکتا۔ چرند، پرند اور انسان روز اول سے ہی معاش، محفوظ ماحول اور بہتر حالات کار کی تلاش میں ایک مسلسل سفر میں مبتلا یا سرگرداں ہیں۔ اسی طرح کی تلاش میں آج کا انسان زمین، سمندروں، فضاؤں، خلاؤں، چاند اور اب مریخ پر خیمہ زن ہے اور ان سے بھی آگے جانے کے لیے تیاریوں میں مصروف ہے۔

آج کی دنیا کا تقریباً ہر باشندہ کم از کم ایک عدد ٰ ہجرت کی کہانی تو اپنے اندر ضرور کھتا ہے۔ ہجرت کے معاملات کو بیشمار زاویوں سے اور تناظر اور تقابل میں دیکھا اور پرکھا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر رضا کارانہ اور غیر رضاکارانہ یا جبری ہجرت، قانونی اور غیرقانونی ہجرت، اجتماعی اور انفرادی ہجرت، آباد کاری وغیرہ۔ جس طرح جنگوں کے سیاسی، معاشی اور سماجی اثرات ہوا کرتے ہیں بین اسی طرح انسانی نقل مکانی بھی مختلف طرح کے مثبت اور منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ اس مضمون میں ہم منظم اور غیر منظم ہجرت کو تاریخی مثالوں کی روشنی میں تجزیہ کر کے سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

منظم ہجرت میں انسان اجتماعی طور پر مخصوص معاشی، سماجی اور سیاسی مقاصد رکھتے ہوتے شعوری طور پر اور رضاکارانہ طریقے سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو جائیں۔

غیر منظم ہجرت میں عام طور پر انسان انفرادی یا کنبہ کی صورت میں شعوری طور ہر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں اور مقاصد میں معاشی مقصد ہی بنیادی یا اول اور آخری مقصد ہوتا ہے۔ طریقہ کار رضاکارانہ لیکن اس پر سماجی اور معاشی مجبوریوں کا عنصر غالب ہو تا ہے۔

انسانی تاریخ منظم ہجرت کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ اس مختصر مضمون میں ہم صرف چند کایا پلٹ اور وسیع معاشرتی اثرات کی حامل ہجرتوں کا سرسری احاطہ ہی کر سکیں گے۔ ان میں اول کے طور پر ہم بنی اسرائیل کی ہجرت کو بیان کریں گے جو کہ چھوٹی بڑی ہجرتوں کی ایک طویل تاریخ ہے۔ پہلی ہجرت جس میں حضرت یعقوب ؑ اپنے 70 اہل خانہ سمیت کنعان سے مصر منتقل ہوئے جہاں ان کے بیٹے حضرت یوسف ؑ فرعون کی سلطنت میں بادہ یا گورنر کے عہدے پر فائز تھے۔

یہ سفر کتنے سال قبل مسیح میں شروع ہوا اس میں خاصا ابہام ہے۔ بنی اسرائیل 430 سال تک مصر میں مقیم رہے۔ ان گزرے سالوں میں حوادث زمانہ کا شکار ہو کر بنی اسرائیل ایک شاہی خاندان سے ایک غلام قوم کی صورت اختیار کر کے خشت سازی میں کام کر رہے تھے۔ حضرت موسیٰ نے ایک طویل جدوجہد کے بعد فرعون اور اس کے کارندوں سے بنی اسرائیل کی گلو خلاصی کروائی اور اس وقت ان کی تعداد 72,000 سے 120,000 افراد تک کی بیان کی جاتی ہے۔

چالیس سال صحرائے سینا میں در بدر ہونے کے بعد بالآخر بنی اسرائیل اپنے آبائی وطن کنعان کے شہر جیریکو میں آباد ہو گئے۔ 350 سال کی جدوجہد اور جنگوں کے بعد بنی اسرائیل کنعان اور یروشلم کو مکمل طور فتح کر کے اپنی بادشاہت قائم کرنے میں کامیاب رہے۔ حضرت طالوتؑ یا ساؤل، حضرت داؤدؑ، حضرت سلیمانؑ بنی اسرائیل جلیل القدر پیغمبر اور بادشاہ ہو گزرے ہیں۔ 115 سالہ بادشاہی کا دور بنی اسرائیل کی تاریخ کا سنہری دور تسلیم کیا جاتا ہے۔

اس کے بعد بابل کے بادشاہ بخت نصر کا اسرائیل پر حملہ، یروشلم کی مکمل تباہی اور بنی اسرائیل کی غلامی اور بابل میں جبری ہجرت پر منتج ہوا۔ اس کے 70 سال بعد 539 قبل مسیح میں ایران کے بادشاہ کوروش یا سائرس اعظم نے بابل پر حملہ کر کے بنی اسرائیل کو آزاد کیا۔ اس کے بعد بنی اسرائیل ایران اور پوری دنیا میں پھیل گئے البتہ کچھ خاندان واپس یروشلم آ کر آباد ہو گئے۔

بخت نصر کے یروشلم پر حملے سے اسرائیلی ریاست کی تباہی اور بنی اسرائیل کی جبری ملک بدری سے لے کر موجودہ اسرائیل کے قیام تک کے دور کو یہودی علماء Diaspora یا دور ابتلا یا غریب الوطنی کے دور سے یاد کر کے روتے ہیں۔ تقریباً 2600 دور یہودیوں کی غریب وطنی کے طویل دور میں اور بھی بیشمار چھوٹی بڑی ہجرتوں اور واقعات کے احوال ملتے ہیں۔ سن 71 ء میں رومی سلطنت نے یروشلم پر حملہ کر کے قبضہ اور تباہی کے بعد بچے کھچے یہودیوں کو ایک با پھر وطن بدر کر دیا تھا۔

اسلامی تاریخ میں بھی چھوٹی بڑی لیکن منظم ہجرت کے خاصے واقعات ملتے ہیں۔ اسلامی دنیا کا کیلنڈر ہی ہجرت (مدینہ) سے شروع ہوتا ہے اور اسے ہجری کیلنڈر کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ کفار مکہ کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر مسلمانوں نے پہلی منظم ہجرت ایتھوپیا یا حبشہ کی طرف 613 ء یا 615 ء میں اختیار کی۔ تارکین وطن کے اس گروپ میں 12 مرد اور 4 خواتین شامل تھیں۔ کچھ روایات کے مطابق یہ لوگ ایک سال کے بعد وطن واپس کر دوبارہ ایتھوپیا ہجرت کر گئے اور ہجرت مدینہ کے بعد واپس مدینہ میں آ گئے۔

مکہ شہر کے نامساعد سماجی و سیاسی حالات کے پیش نظر اور اہل مدینہ کی پرزور دعوت پر حضرت محمد ﷺ نے اپنے صحابہ اکرام کی ہمراہی میں 622 ء میں مدینہ میں ہجرت اختیار کر لی۔ یہ اسلامی تاریخ کی دوسری ہجرت ہے۔ آج اسلام 1,444 سالہ تاریخ رکھنے والا دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ہے۔ اسلامی تاریخ میں مسلمانوں کی مدینہ ہجرت اور قیام کی ایک بڑی اہمیت ہے۔ حضرت محمد ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری 9 سال مدینہ میں بسر کیے۔ ان 9 سالوں میں 80 چھوٹی بڑی جنگیں اور غزوات لڑے گئے، قرآن پاک مکمل ہوا، مکہ کی فتح سے خطہ عرب میں مسلمانوں کا سیاسی اثر و رسوخ قائم ہوا، ایک مضبوط اسلامی ریاست یا خلافت کی بنیادیں بھی اسی دور میں رکھی گئیں۔ اسی خلافت نے تھوڑے ہی عرصہ بعد اپنے دور کی دو سپر پاورز یعنی ایران اور روم کی سلطنتوں کو شکست دے کر پوری دنیا میں اپنا سیاسی رسوخ قائم کر لیا۔

قدیم دور میں ہندوستان پر آریائی اقوام اور بعد میں شہاب الدین غوری اور ظہیرالدین بابر کے حملے کوئی محدود مقاصد کے محض فوجی حملے نہیں تھے۔ ان حملوں کے پیچھے بڑے پیمانے پر انسانی ہجرت اور سیاسی و سماجی بالا دستی کے ساتھ آبادکاری جیسے مقاصد کار فرماء تھے۔

سپین کی ملکہ ازابیلا نے کرسٹو فر کولمبس کو نئی دنیاؤں کی تلاش پر مامور کیا تا کہ وہاں انسانی آباد کاری کی جا سکے۔ 1492 ء میں کولمبس نے براعظم امریکہ دریافت کر لیا۔ اس کے بعد سپین، پرتگال، برطانیہ، ہالینڈ اور فرانس کی عوام نے جتھا بند ہو کر نقل مکانی اور آباد کاری کے عمل کو جنوبی اور شمالی امریکہ اور میں 1824 ء تک کامیابی سے مکمل کر لیا۔

انڈیا اور پاکستان کے بٹوارے یا آزادی کے موقع پر 1947 ء میں ایک بڑی انسانی نقل مکانی کی مثال موجود ہے جس میں دونوں اطراف سے ایک کروڑ سے زائد افراد نے ہجرت کی۔ ایک کم وقت میں اتنی زیادہ تعداد میں ہجرت بھی تاریخ کی ایک منفرد مثال ہے۔ اپنی نوعیت میں غیر منظم، مقاصد میں مبہم، جلدی اور مجبوری کے عالم میں کی جانے والی یا برپاء ہو جانے والی یہ بہت بڑی ہجرت بے پناہ جانی و مالی نقصانات یا قربانیوں کے باوجود دونوں یا تینوں ممالک میں کوئی با معٰنی یا پائیدار معاشرتی اثرات مرتب نہ کر سکی ہے۔

اوپری سطور میں ہم نے تاریخ کی چند بڑی، نتیجہ خیز اور وسیع اثرات کی حامل انسانی منظم ہجرتوں کی مثالوں کی کو رقم کرنے کی کوشش کی ہے۔ گزشتہ سو یا ڈیڑھ سالوں میں اکا دکا کی صورت میں انسانی ہجرت کا عمل پوری دنیا میں جاری و ساری ہے۔ ماہرین کی رائے میں اس طرح کی غیر منظم نقل مکانی اپنے اندر کسی بھی قسم کے معاشرتی تبدیلی یا اثرات انگیزی کی صلاحیت نہیں رکھتی اور نا ہی اس سے کوئی امید وابستہ کی جا سکتی ہے۔

آج سمندر پار پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان کے اندر ایک بڑی سماجی و سیاسی تبدیلی کے خواہاں اور مصروف عمل ہے لیکن کیا ایسا ممکن ہے۔ مندرجہ بالا بیان کردہ مثالوں کی روشنی میں بہتر مقاصد و حکمت عملی، تنظیم، لیڈرشپ اور جدوجہد کے ذریعے سے نہ صرف اپنے پیدائشی یا آبائی وطن میں بلکہ میزبان معاشروں یا ممالک میں مثبت اور بہتر معاشرتی تبدیلیاں ممکن ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے سمندر پار بھائی پاکستان کی قدامت پسند سیاسی پارٹیوں کے پیچھے کھڑے ہو کر کسی بہتری کی آس لگائے نظر آتے ہیں۔ اس ضمن میں اتنا ہی عرض ہے کہ یہ تمام پارٹیاں اپنے ذاتی سیاسی معاملات اور کارکن کی زندگیوں میں بھی بہتری لانے سے قاصر ہیں ملک اور معاشرہ تو دور کی بات ہے۔ البتہ انہیں سمندر پار پاکستانیوں کا چندہ اور ووٹ بینک نہایت عزیز ہے جس کے لیے جھوٹے سچے وعدے اور دعوے کیے جاتے رہیں گے۔

Facebook Comments HS