کیا انسان آزاد قوت ارادی کا مالک ہے؟


قدرت نے انسانوں کو آزاد قوت ارادی (free will) کے تحفے سے نوازا ہے۔ وہ کسی بیرونی مداخلت کے بغیر اپنے اعمال کا خود فیصلہ کرنے کے قابل ہیں۔ میں کھڑا ہو سکتا ہوں یا بھاگنے کا فیصلہ کر سکتا ہوں۔ یہ میرا فیصلہ ہے اور کسی کا نہیں۔ آزاد قوت ارادی کا سوال ہزاروں سالوں سے گہری فلسفیانہ بحثوں کا باعث بنا ہے۔

زیادہ تر مذاہب ایک طاقتور خدا کے تصور پر مبنی ہیں۔ انسانوں کو اپنی زندگی کیسے گزارنی چاہیے ان مذاہب میں یہ حکم الٰہی سے طے شدہ ہے۔ خدا نے اپنے نبیوں اور اپنے براہ راست احکام کے ذریعے وہ اصول بتائے ہیں جو ایک اعلیٰ اور صالح زندگی کی تعریف کرتے ہیں۔ ایسے مذاہب کا سب سے اہم جزو جنت اور جہنم کا تصور ہے۔ جو لوگ خدا کی مرضی کے مطابق زندگی گزارتے ہیں وہ جنت میں جائیں گے اور جو خدا کی مرضی سے خیانت کرتے ہیں وہ قیامت کے دن جہنم میں جائیں گے۔

اس تفصیل میں مضمر ہے آزاد قوت ارادی اور خود مختاری کا تصور۔ اگر کسی کے کردار کو جنت میں ابدی زندگی کے لائق سمجھا جانا ہے، تو اسے آزاد اور خودمختار فیصلے کرنے کا حقدار ہونا چاہیے۔ اگر کسی کے اعمال پہلے سے طے شدہ ہوں تو جنت اور دوزخ کا تصور بے معنی ہو جاتا ہے۔

ایک تضاد جو کبھی نہ ختم ہونے والی بحثوں کا باعث بنا ہے وہ یہ ہے کہ خدا کو ، زیادہ تر مذاہب میں، زندگی اور کائنات کے خالق کے طور پر سمجھا جاتا ہے جو تمام انسانوں کی تقدیر سمیت ہر چیز پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔ اس لیے وہ ہمارے تمام اعمال کا ذمہ دار ہے۔ تاہم، یہ آزاد مرضی اور انسانی خود مختاری کے تصور سے متصادم ہے جو انسانوں کو اچھے اور برے کے درمیان انتخاب کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ کئی فلسفیوں، نامور علماء اور ماہرین الہٰیات نے ہزاروں سالوں میں بغیر کسی اتفاق رائے کے اس پریشان کن سوال کو حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم تقدیر اور تدبیر کے اس گھمبیر سوال پر ہمیشہ سائنس کو شامل کیے بغیر مذہبی عقائد اور فلسفے کے دائرے میں ہی بحث کی جاتی رہی ہے۔

سولہویں اور سترہویں صدی میں سائنسی دور کی آمد کے ساتھ ہی وہ قوانین آشکار ہونے لگے جن کے تحت کائنات کا نظام چل رہا ہے۔ بہت سے غیر واضح مظاہر کو ان قوانین کے اندر تسلی بخش وضاحت مل گئی۔ مثال کے طور پر ، نیوٹن نے قوت ثقل کا قانون دریافت کیا جس کے مطابق دو اشیا کے مابین کشش کی قوت ہوتی ہے۔ اس آفاقی قانون نے ایک طرف وضاحت کی کہ جب ہم کسی چیز کو گراتے ہیں تو وہ ہمیشہ زمین کی طرف راغب ہوتی ہے اور نیچے گرتی ہے اور دوسری طرف سورج کے گرد سیاروں کی حرکت کی وضاحت کی۔

نیوٹن اور دیگر سائنسدانوں کی وجہ سے میکانکی قوانین کی کامیابی نے لوگوں کو ایک ایسی دنیا کا یقین دلایا جو ایک مشین کی طرح چل رہی ہے : اگر ہم جانتے ہیں کہ کائنات کا ہر ذرہ کہاں واقع ہے اور اس پر کون سی قوتیں کام کر رہی ہیں تو مستقبل کی پیشین گوئی کرنا ممکن ہونا چاہیے۔ مستقبل کے اس پیشگی تعین نے ایک سیکولر نقطہ نظر کو فروغ دیا۔ چونکہ کوئی چیز فطرت کے قوانین کے خلاف نہیں جا سکتی اس لیے خدا کی کوئی ضرورت نہیں۔ کائنات اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی مداخلت کے بغیر ارتقاء جاری رکھ سکتی ہے۔

تاہم اس تفصیل میں ایک اہم مسئلہ پوشیدہ ہے۔ زندگی میں انسان کو آزاد مرضی یعنی free will کی نعمت عطا کی گئی ہے۔ جس کی بدولت انسان جیسی مخلوق میں قدرت کے قوانین کو متاثر کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر کشش ثقل کے قانون کے مطابق اگر کوئی گیند گرائی جائے تو وہ زمین پر گرتی ہے اور پھر اسے اچھلتا رہنا چاہیے۔ لیکن کوئی شخص صرف ایک اچھال کے بعد گیند کو پکڑنے کا فیصلہ کر سکتا ہے، اس طرح اپنی آزاد مرضی اور قوت ارادی کی بدولت قانون فطرت میں خلل ڈالتا ہے۔ آزاد مرضی کے باعث انسان اس کائنات کے قوانین کو متاثر کرنے یا تبدیل کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ اس سے ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے : آزاد مرضی کیا ہے؟ کیا اس کی مقدار طے کی جا سکتی ہے؟ اور کیا اس کو ان آفاقی قوانین میں شامل کیا جا سکتا ہے جن کے تحت کائنات کا نظام چل رہا ہے؟

ایک اور مثال کے طور پر ، فرض کریں کہ کسی اور کہکشاں میں موجود کوئی مخلوق ہماری کہکشاں کو دیکھ رہی ہے اور کسی طرح سورج کے گرد سیاروں کی حرکت کو دیکھنے کے قابل ہے۔ سیاروں کی حرکت کی متواتریت اور ان کے درمیان فاصلوں کو جاننے کے بعد ، وہ یہ نتیجہ اخذ کریں گے کہ ہر چیز فطرت کے قوانین کے مطابق ہے، سب سیارے کشش ثقل کے قانون کے مطابق حرکت میں ہیں۔ یہ سب اس مفروضے پر مبنی ہے کہ سورج اور سیارے غیر جاندار اشیاء ہیں۔

پھر فرض کریں، کچھ ذہین انسان چاند جیسے سیارے کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے قابل ہیں۔ یہ کم از کم اصولی طور پر ممکن ہے، یہ کام ایٹم اور ہائیڈروجن بموں کی ایک بڑی تعداد سے بھرا ایک بڑا راکٹ چاند کی سطح پر بھیج کر کیا جا سکتا ہے۔ اس عمل میں انسانی مداخلت شامل ہے اور اسے فطری واقعہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ چاند کے پھٹنے سے زمین سمیت سیاروں کی حرکت میں تبدیلی آئے گی۔ دور کی مخلوق، اس بات سے بے خبر کہ آزاد مرضی سے مزین ایک ذہین مخلوق کرہ ارض پر رہتی ہے، سیاروں کے نظام کی تبدیل شدہ حرکت سے حیران رہ جائے گی۔ ان کے نزدیک سیاروں کا نظام نیوٹن کے حرکت کے قوانین کی پیروی کرتا دکھائی نہیں دے گا۔ اس منظر نامے میں جو واحد چیز شامل کی گئی ہے وہ ہے موجودہ سائنسی قوانین میں انسانوں کی آزادانہ مرضی اور قوت ارادی جو غیر جاندار اشیاء کی حرکیات کو کنٹرول کرتی ہے۔

ایک بار پھر، یہ اہم سوال اٹھتا ہے : انسان ایک خاص ترتیب میں ایٹموں اور مالیکیولز کے مجموعے کا نام ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا زندگی اور اس سے منسلک آزاد مرضی، ان ایٹموں اور مالیکیولز کے مجموعے سے باہر کوئی چیز ہے؟ فطرت کے قوانین میں آزاد مرضی کو کیسے شامل کیا جائے؟ اور کیا ہم خدا کے تصور کے بغیر ایسا کر سکتے ہیں؟

یہاں میں ایک عجیب و غریب مگر سائنسی امکان پیش کر تا ہوں!

انسان آخر کار انفرادی ایٹموں اور مالیکیولز سے بنا ہے۔ انفرادی ایٹم کوانٹم میکانکس کے قوانین کی پیروی کرتے ہیں۔ زندگی کی نوعیت پر مضمون میں، میں ایٹموں کی ناقابل فہم تصویر پیش کر چکا ہوں۔

ایٹم ایک نیوکلیئس پر مشتمل ہوتے ہیں جو چھوٹے چھوٹے ذرات سے گھرا ہوتا ہے جسے الیکٹران کہتے ہیں۔ یہ تصویر سیاروں کے نظام سے ملتی جلتی ہے جہاں سیارے سورج کے گرد گھوم رہے ہیں۔ ناقابل فہم حصہ یہ ہے کہ الیکٹران کا کوئی یقینی وجود نہیں۔ ہمیں صرف ایک چیز معلوم ہے اور وہ یہ کہ، جب ہم ان کو دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، تو اس بات کا ایک خاص امکان ہوتا ہے کہ وہ کسی مخصوص مقام پر پائے جائیں گے۔ یہ امکان نیوکلیئس کے قریب زیادہ ہوتا ہے اور نیوکلیئس سے فاصلہ بڑھنے کے ساتھ آہستہ آہستہ کم ہوتا جاتا ہے۔

لیکن یہ کبھی صفر پر نہیں جاتا۔ اصولی طور پر ، ایک الیکٹران ایٹم سے کئی ملی میٹر، یا ایک میٹر کے فاصلے پربھی پایا جا سکتا ہے، حالانکہ اس کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایٹم کی یہ تصویر اس وقت پریشان کن ہو جاتی ہے جب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ یہ الیکٹران انسان کی خصوصیات، سوچ اور افعال میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ کوانٹم مکینکس کے قوانین کے مطابق، مگر نیوٹن کی میکانکس کے برعکس، الیکٹران کہاں ملے گا؟ اس کی کوئی قطعی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ آیا یہ ایٹم کے نیوکلیس یعنی مرکزے سے بہت قریب پایا جائے گا یا بہت دور۔ کوئی نہیں جانتا۔ فطرت کے قوانین ہمیں قطعی جواب دینے سے قاصر ہیں۔

اب ہم اس بحث کو ایک قدم آگے بڑھاتے ہیں۔ ہمارا دماغ، جو یادداشت کو رکھتا ہے اور آزاد مرضی کی طاقت، ٹریلین گنا ٹریلین ایٹموں پر مشتمل ہے۔ ہر ایٹم کے گرد الیکٹرانوں کا حلقہ موجود ہے، مگر اس طرح کہ دماغ میں الیکٹران کی کوئی ایک خاص ترتیب نہیں ہے۔ اس کے بجائے، ان کے مختلف مقامات پر پائے جانے کے لامحدود امکانات موجود ہیں۔ ہر امکان، امکان کی مختلف ڈگری کے ساتھ، انسان کے ایک عمل کی نمائندگی کر سکتا ہے۔

اب تک بہت کم معلوم ہے کہ دماغ کیسے کام کرتا ہے۔ انسانی دماغ نیوران کا ایک پیچیدہ نیٹ ورک ہے۔ ایک دماغ کے اندر ایک کھرب سے زیادہ نیوران ہوتے ہیں اس طرح کہ ہر نیوران دس ہزار سے زیادہ دوسرے نیوران سے جڑا ہوتا ہے۔ یہ ایک حیرت انگیز پیچیدہ نیٹ ورک ہے! یہ سمجھا جاتا ہے کہ انسانی یادداشت (تجربات کی بنیاد پر ) ان باہمی رابطوں میں موجود ہے جو ہر دو نیوران کے درمیان موجود ہیں۔ ہمارے بیرونی جسم کے عناصر جیسے آنکھ، زبان، جلد اور کان میں سینسر ہوتے ہیں۔ جب یہ سینسرز کسی بیرونی عمل سے متحرک ہوتے ہیں، جیسے چہرہ دیکھنا، تو سگنل دماغ کے اندر موجود نیورل نیٹ ورک کو بھیجے جاتے ہیں۔ نیٹ ورک آنے والی معلومات پر کارروائی کرتا ہے اور ان لامحدود امکانات میں سے جو الیکٹران کی ترتیب سے وابستہ ہیں، اس بات کا انتخاب کرتا ہے کہ کس طرح کا رد عمل ظاہر کیا جائے۔

اس بحث کی روشنی میں، یہ انتہائی قابل فہم ہے کہ دماغ میں کسی خاص ان پٹ کے لیے ممکنہ افعال کی لامحدود تعداد محفوظ ہے۔ اس طرح، جب ہم کسی صورت حال کا سامنا کرتے ہیں، تو بہت سے ممکنہ اقدامات ہوتے ہیں جو انسان اٹھا سکتا ہے۔ ہر عمل کا ایک خاص امکان ہوتا ہے جو الیکٹران کی ممکنہ تقسیم میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ، اگر کھانا کسی کے سامنے رکھا جائے تو اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ وہ کھانا شروع کر دے گا۔ تاہم، یہ واحد امکان نہیں ہے۔ کم امکان کے باوجود کئی دوسری ممکنہ کارروائیاں ہیں۔ مثال کے طور پر پڑھنے کے لیے اٹھ جانا، کھانا دور دھکیل دینا، یا کھانا کسی اور کودے دینا۔ اسی کو آزاد مرضی کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔ یہ سائنسی وضاحت خدا کے وجود کی دعوت نہیں دیتی۔

یہ قیاس آرائیاں درست بھی ہو سکتی ہیں یا نہیں۔ تاہم، یہ، کم از کم، اس بات کے امکان کو تقویت دیتی ہے کہ آزاد مرضی کے تصور کو جو آج تک صرف فلسفہ اور مذہب کے دائروں میں رہا ہے، ممکنہ طور پر سائنسی طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ اس بات کا امکان کم ہے کہ میری یہ وضاحت درست ہو۔ لیکن اگر یہ ماڈل درست بھی ہو تو بھی بہت سے سوال ایسے ہیں جن کو سائنسی فریم ورک کے اندر سمجھنے میں کئی دہائیاں، شاید صدیاں لگ سکتی ہیں۔

اب تک، میں نے پیش کردہ سوال کے صرف ایک جزوی جواب پر بات کی ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ موجودہ سائنسی قوانین میں آزاد مرضی کو کیسے شامل کیا جا سکتا ہے تاکہ انہیں مکمل بنایا جا سکے۔ کیا ہم آزاد مرضی کو کشش ثقل کے قانون یا کوانٹم میکانکس کے قوانین میں شامل کر سکتے ہیں؟ کیا یہ کبھی ممکن ہو گا کہ دماغ کی مکمل کوانٹم مکینیکل ساخت کو شامل کرنے کے بعد تمام فطری مظاہر کی وضاحت کی جائے جس میں ایک جزو کے طور پر آزاد مرضی شامل ہو؟ شاید ہماری آنے والی نسلیں اس انتہائی بنیادی سوال کا جواب دے سکیں۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سہیل زبیری

ڈاکٹر سہیل زبیری ٹیکساس یونیورسٹی میں کوانٹم سائنس  کے Distinguished Professor ہیں اور اس ادارے میں کوانٹم آپٹکس کے شعبہ میں Munnerlyn-Heep Chair پر فائز ہیں۔

suhail-zubairy has 93 posts and counting.See all posts by suhail-zubairy