میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟


عمران خان نے وزیراعظم ہاؤس چھوڑنے سے پہلے سچ کہا تھا کہ، ”مجھے نکالا گیا تو میں پہلے سے زیادہ خطرناک ثابت ہوں گا۔“ عمران خان صاحب اپنی گرفتاری کے بعد حسب وعدہ واقعی شدید خطرناک ثابت ہوئے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ احتجاج کرنے والے پی ٹی آئی کے کارکنوں نے حساس سرکاری تنصیبات، انٹیلی جنس اداروں اور نجی املاک کو نقصان پہنچایا۔ حتی کہ مظاہرین نے قانون شکنی کرتے ہوئے متعدد سرکاری گاڑیوں سمیت پبلک ٹرانسپورٹ کی بسوں، واٹر ٹینکرز اور کچرا اٹھانے والی گاڑیوں کو بھی نذر آتش کیا۔

عمران خان صاحب، جب سے اقتدار سے محروم ہوئے، ان کا یہ وتیرہ رہا کہ انہوں نے فوج اور انٹیلی جنس افسران کے خلاف اشتعال انگیز اور جھوٹے الزامات لگانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ وہ انٹیلی جنس کے اعلی افسروں پر بے بنیاد الزامات لگاتے رہے، جس میں گرفتاری سے پہلے اس وقت شدت آئی جب انہوں نے تمام اخلاقی و قانونی حدود کو عبور کرتے ہوئے آئی ایس آئی کے ایک اعلی اور حاضر سروس افسر کا نام لے کر یہ سنگین الزام عائد کیا کہ ”اس نے مجھے دو بار مارنے کی کوشش کی اور یہ افسر ارشد شریف کے قتل میں بھی ملوث ہے۔“

عمران خان کے بغیر کسی ثبوت کے اس سنگین الزام نے نہ صرف فوجی قیادت بلکہ ہر محب وطن پاکستانی کو حیرانی اور صدمے سے دوچار کیا۔ ملکی سلامتی کے ادارے کو اتنی شدید تنقید کا نشانہ بنانے کے دفاع میں وزیراعظم شہباز شریف، آصف علی زرداری اور ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار وغیرہ نے بھی مذمت کا شدید ردعمل ظاہر کیا، اور پاک فوج بھی ایسا ہی سخت ردعمل دینے پر مجبور ہوئی جب آئی ایس پی آر نے حاضر سروس فوجی افسر پر بغیر ثبوت الزام کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ادارہ بدنیتی پر مبنی بیانات پر قانونی کارروائی کا حق رکھتا ہے۔

اس سے قبل عمران خان کا یہ بیان بھی سامنے آیا تھا کہ اب عوام کو میانمار یا ترکی میں سے کسی ایک ملک کا انتخاب کرنا ہو گا۔ جبکہ ایک بار عمران خان نے ملک کو ’سری لنکا‘ بنانے کی دھمکی بھی دی تھی۔ یہ سابق وزیراعظم عمران خان کا وہی جارحانہ انداز سیاست ہے جس کو انہوں نے 2014 میں دھرنا کے دوران وزیراعظم نواز شریف کو ہٹانے میں اختیار کیا تھا اور عوام سے ’سول نافرمانی‘ کی تحریک چلانے کا کہتے رہے تھے، حتی کہ انہوں نے عوام سے ٹی وی اور بجلی کے بل بھی حکومت کے کھاتے میں جمع نہ کروانے کی اپیل کی تھی۔

گو کہ اس سے قبل وزیراعظم ہاؤس سے یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف کو بھی نکالا گیا تھا، اور نواز شریف نے تو بس اتنا پوچھا تھا کہ، ”مجھے کیوں نکالا؟“ لیکن تحریک انصاف کے صدر اور سابقہ وزیراعظم عمران خان صاحب کے خلاف جب سے تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تھی، انہوں نے ریاست کی رٹ ہی کو چیلنج کر رکھا تھا! پاکستان کی سیاسی تاریخ میں رہنماؤں پر مقدمات قائم ہونا اور سیاسی قیادتوں کا جیل جانا کوئی نئی بات نہیں ہے اور نہ عمران خان کی گرفتاری کوئی اچنبھے کی بات تھی۔ نون لیگ کے تقریباً تمام سینیئر رہنما جیل کی ہوا کھاتے رہے ہیں جن میں نواز شریف، مریم نواز، شہباز شریف، خواجہ آصف اور رانا ثناء اللہ وغیرہ شامل ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں میں راجہ پرویز اشرف اور یوسف رضا گیلانی کے علاوہ خود آصف علی زرداری اور بے نظیر بھٹو بھی سرفہرست ہیں۔

جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن منڈیلا جن کو عمران خان صاحب اپنا پسندیدہ سیاسی رہنما مانتے ہیں، وہ 27 سال تک جیل میں رہنے کے بعد بھی ملک کے صدر بن گئے تھے، جبکہ عمران خان کی کل سیاسی جدوجہد کا دورانیہ 27 سال کا ہے۔ کیا عمران خان صاحب قانون اور آئین سے ماوراء ہیں، کہ انہوں نے مقدمات کا سامنا نہ کرنے کا رویہ اپنا رکھا تھا۔ شاید آپ کو معلوم ہو کہ جنرل مشرف دور میں پاکستان پر 38 ارب ڈالر کا قرضہ تھا جو 2016 میں 100 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

اس دوران زرداری، نواز شریف اور خود خان صاحب کی سول حکومتیں آئیں جنہوں نے ملکی معیشت کا بیڑا غرق کر دیا۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی اس معاشی تباہی کی بنیادی وجہ پاکستان کی غیر مستحکم سیاسی صورتحال ہے جس کی طرف حال ہی میں چین کے وزیر خارجہ نے توجہ دلائی اور اسی وجہ سے ورلڈ بنک بھی ابھی تک پاکستان کا قرضہ ری شیڈول کرنے سے لیت و لعل سے کام لے رہا ہے۔

لطف کی بات یہ ہے کہ عمران خان کو ’قادر ٹرسٹ‘ کے جس کیس میں رینجرز کے ذریعے نیب نے گرفتار کیا وہ بھی ’اکانومک سکام‘ یعنی منی لانڈرنگ کا کیس ہے جس میں برطانیہ کی عدالت نے ’پراپرٹی ٹائیکون‘ ملک ریاض کی 190 ملین پونڈ کی منی لانڈرنگ پکڑی جس پر موصوف نے ’پلی بارگین‘ کر کے اس رقم سے دستبرداری کا اعلان کر دیا جس کے بدلے میں انگلینڈ کی عدالت نے وہ رقم حکومت پاکستان کو واپس کر دی۔ لیکن عمران خان صاحب نے وہی رقم کابینہ سے مل کر دوبارہ ملک ریاض کو دے دی جس کو ملک صاحب نے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ ہی میں رہنے دیا کیونکہ انہوں نے سپریم کورٹ کے جرمانے کے بقایاجات دینے تھے۔

معاملہ یہی پر ختم نہیں ہوتا کیونکہ ملک ریاض نے اتنی بڑی فیور کے بدلے میں عمران خان کو بحریہ ٹاؤن پنڈی میں زمین الاٹ کر دی جس کو قادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے نام کی بجائے اس وقت کی ’خاتون اول‘ پنکی پیرنی اور اس کی سہیلی ’فرح گوگی‘ نے اپنے ذاتی ناموں پر ٹرانسفر کروا لیا۔ کچھ قانون دان کہتے ہیں کہ عمران خان کے خلاف یہ کیس اتنا مضبوط ہے کہ وہ اس سے ”نا اہل“ ہو جائیں گے۔ عمران خان کے گرفتاری پر اتنے سیخ پا ہونے اور شاہ محمود قریشی کے ’اندر و اندری‘ اتنا خوش ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔

اس پر مستزاد عمران خان صاحب ٹس سے مس نہیں ہو رہے اور اپنی اس ضد پر قائم ہیں کہ ’جو بھی ہو جائے‘ انتخابات چیف جسٹس کے ہوتے ہوئے مقررہ مدت سے پہلے ہونے چاہیے چاہے ملک کا بال بال قرضہ میں ڈوب جائے یا ملک دیوالیہ ہی کیوں نہ ہو جائے! عوام کو جو پارٹی اور لیڈرز پرفریب نعرے دیتے ہیں عوام آنکھیں بند کر کے ان کے پیچھے چل پڑتی ہے :

ہم اس سارے ڈرامہ کا ذمہ دار کس کو ٹھہرائیں، 13 جماعتوں پر مبنی متحدہ حکومت کو یا تحریک انصاف اور تن تنہا عمران خان کو؟

Facebook Comments HS