اردو افسانے کا دوسرا جنم : ایک تعارف


 

”اردو افسانے کا دوسرا جنم“ حال ہی میں شائع ہونے والی تحقیقی و تنقیدی کتاب ہے۔ جس کو ڈاکٹر خاور نوازش اور ڈاکٹر عبدالعزیز ملک نے مرتب کیا۔ مرتبین نے افسانوی دور کو چار ادوار میں تقسیم کیا۔ پریم چند اور ان کے ہم عصروں کا پہلا دور، دوسرے دور کو ترقی پسند تحریک کے دور سے منسوب کیا، تیسرے دور کو تقسیم ہندوستان اور جدیدیت سے منسوب کیا اور چوتھا دور ستر کی دہائی کے بعد کے لکھنے والوں کا ہے۔ ہر چند کہ یہ کتاب چند افسانہ نگاروں کے حوالے سے خصوصی مطالعہ ہے جن میں سریندر پرکاش، اسد محمد خاں، نیر مسعود، منشا یاد اور رشید امجد شامل ہیں اور تقسیم ہند سے لے کر مابعد جدیدیت تک کے دور کا احاطہ کرتی ہے، لیکن ہم اس کو اردو افسانے کی ابتداء سے لے کر مابعد جدیدیت دور تک کا منظر نامہ کہہ سکتے ہیں۔

اردو افسانہ ابتدا سے تاحال کئی رجحانات اور تحریکوں سے متاثر ہوتا آیا ہے۔ جس کے باعث اس میں موضوع، تکنیک، زبان و بیان اور ہیئت کے حوالے سے متنوع تجربات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ترقی پسند تحریک کے بعد تو اس نے ایک ڈرامائی صورت حال اختیار کرلی اور ہر دن اردو افسانہ تبدیل ہوتا گیا۔ کبھی حقیقت نگاری تو کبھی علامتی انداز، کبھی اینٹی اسٹوری کی تکنیک و آزاد تلازمہ خیال تو کبھی محض تاثر اس کے بیان کے انداز ٹھہرے۔

مابعد جدیدیت کی تحریک نے ( ہر چند کہ یہ محض کشادہ نظری اور ژرف بینانی کا ایک رویہ ہے ) اردو افسانہ اور افسانہ نگار دونوں کو آزادی دی اور وسیع میدان فراہم کیا۔ جس کے بعد نت نئے بیانیے ہمیں اردو افسانے میں دیکھنے کو ملے۔ جدیدیت کی تحریک نے اردو افسانے کو پیچیدہ بنا دیا تھا، جس نے کہانی پن کو ختم کر دیا تھا۔ اب اس کی تفہیم محض تاثرات کی محتاج تھی۔ اس دور میں معنی کی تلاش کا عمل بھی خاصا پیچیدہ تھا اور اس کے ہم پلہ چند اور رجحانات نے معنی کے تلاش کے عمل میں التوا کا رویہ متعارف کرا کے نئی بحث کو ہوا دی۔ جس کے باعث تفہیم کا عمل مشکل اور نتائجیت مفقود ہو گئی۔

بالخصوص، ڈاکٹر خاور نوازش معاصر اردو نقاد میں ایک معتبر حوالہ ہیں اور ایک صاحب رائے نقاد ہیں۔ انھوں نے ان تمام الجھنوں کو غیر ضروری مباحث سے پاک رکھا۔ اور ایسے مضامین کو کتاب میں شامل کیا جو مکمل طور مصنف کے نظریہ فن اور تخلیقات کی تفہیم میں موثر ثابت ہوں۔ اکثر مضامین جدیدیت کے دور میں مابعد جدید رویوں کی تعبیر کرتے ہیں کہ متذکرہ بالا افسانہ نگار جدیدیت کے عہد میں ہونے کے باوجود اس سے متاثر نہیں ہوئے بلکہ آگے بڑھتے ہوئے اور اپنے لیے نئی راہ تلاش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

انھوں نے حقیقت نگاری سے علامت نگاری اور علامت نگاری سے پھر حقیقت نگاری کی طرف کی مراجعت کی۔ اور زبان، تکنیک اور ہیئت کے حوالے سے نئے تجربات کیے جس نے افسانے کی اصل روح کو مسخ نہیں کیا بلکہ اس میں وسعت پیدا کی۔ مرتبین نے جن افسانہ نگاروں کو کتاب میں شامل کیا ہم ان کی تخلیقات کو جدیدیت اور مابعد جدیدیت دونوں عہد کی نمائندہ کہہ سکتے ہیں۔

موقف یہ اختیار کیا گیا کہ ستر اور اسی کی دہائی تک پہنچتے پہنچتے اردو افسانہ رومانویت، سماجی حقیقت نگاری، ترقی پسندی اور جدیدیت سے گزرتے ہوئے مابعد جدیدیت دور میں داخل ہو چکا تھا۔ اکیسویں صدی کی دہلیز پر قدم رکھنے سے پہلے ہی اس میں ہیئت، اسلوب اور موضوع کی سطح پر واضح تبدیلیاں رونما ہو چکی تھیں۔ مابعد جدید عہد کوئی تحریک، رجحان یا رد عمل نہیں بلکہ ایک کشادہ ذہنی رویہ ہے۔ یہ رویہ ثقافتی رجحانات پر زیادہ زور دیتا ہے جس کی تہہ میں تخلیق کی آزادی اور معنی پر بٹھائے گئے پہروں سے نجات کا رجحان مضمر ہے۔

ان ذہنی رویوں نے نئی ثقافتی اور تاریخی صورت حال کے بطن سے جنم لیا ہے جو جدیدیت اور غیر ضروری ہیئت پرستی سے انحراف کرتی ہے۔ مابعد جدیدیت نے افسانے کے کرداروں کو ان کے چہرے واپس کیے ہیں۔ ان کے ہاتھوں اور پیروں کو زنجیروں سے آزاد کیا ہے۔ انھیں آزاد فضا میں حرکت کرنے کا موقع فراہم کیا ہے، ان کے ثقافتی تشخص کو بحال کیا ہے۔ معاصر عہد میں کئی ایسی آوازیں ابھری ہیں جو مابعد جدیدیت کے حوالے سے بہت اہم ہیں۔

ان میں ایسی آوازیں بھی شامل ہیں جنھوں نے جدیدیت کے دور میں افسانہ تخلیق کرنا شروع کیا لیکن اس سے زیادہ اثرات قبول نہیں کیے۔ انھوں نے اپنا راستہ بدلا اور کہانی کے جوہر سے رجوع کیا۔ علامت اور استعاریت کو نئی معنویت سے ہم کنار کیا۔ ہر چند کہ ان آوازوں کی فہرست طویل ہے مگر ان میں سے صرف پانچ متذکرہ بالا آوازوں کا انتخاب کیا گیا۔ درحقیقت یہ آوازیں ان افسانہ نگاروں کی نمائندہ ہیں جو تقسیم ہند سے لے کر ستر کی دہائی تک کے افسانہ نگاروں کو اپنے حصار میں لے لیتی ہیں۔

ان پانچ نمائندہ افسانہ نگاروں کے حوالے سے اس بات کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی کہ انھوں نے اردو افسانے کا رخ حقیقت نگاری سے علامت نگاری کی طرف اور پھر علامت نگاروں سے حقیقت نگاری کی طرف موڑنے کی کوشش کی۔ ان کے افسانوں میں جدیدیت اور مابعد جدیدیت دونوں زمانوں کی فکری بازگشت سنائی دیتی ہے۔ کتاب میں موجود انتخاب اور تنقیدی مضامین کو مرتبین نے کسی طور برہان قاطع نہیں کہا اور نہ ہی اس کی ترتیب پر کوئی ٹھوس موقف اختیار کیا۔

کتاب میں پانچوں افسانہ نگاروں کے منتخب افسانوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ مابعد ہو، ان پر سیر حاصل تنقیدی مباحثوں کے لئے کئی مضامین کو شامل کیا گیا جو افسانہ نگاروں کی تخلیقات کی تفہیم کے لئے کا ر گر ثابت ہوتے ہیں۔ ہر افسانہ نگار کو الگ الگ موضوع بنایا گیا جس میں ان کا نظریہ فن سمیت تخلیقی حسیات، موضوعات و تجربات اور فکر و فلسفہ کو نہایت چابکدستی سے بیان کیا گیا۔ کتاب میں موجود فن افسانہ نگاری کے حوالے تنقیدی مضامین نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ ان تنقیدی مضامین میں اردو افسانہ میں ہونے والے متنوع تجربات اور اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے جس سے اردو افسانہ کا ابتدا ءسے تاحال کا منظر نامہ ہمیں ایک ہی جگہ دیکھنے کو مل جاتا ہے۔

یہ کتاب، اردو افسانہ میں دل چسپی رکھنے والے محققین، قارئین اور بالخصوص طلبہ کے لئے، مکمل نصاب کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ یہ کتاب اپنے موضوع اور انتخاب کے باب میں بالکل نیا اضافہ ہے، اس سے پہلے ہمیں ایسی کوئی کتاب فن افسانہ اور افسانہ نگاروں پر نہیں ملتی۔ اس کتاب کو فکشن ہاؤس لاہور نے شائع کیا۔

Facebook Comments HS