نیب نے توہین عدالت کی ہے، اب کوئی شخص بھی عدالت میں خود کو محفوظ تصور نہیں کرے گا: چیف جسٹس
عمران خان کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت سپریم کورٹ میں جاری ہے اور سماعت کے آغاز میں عمران خان کے وکیل حامد خان روسٹرم پر آئے اور انھوں نے کہا کہ عمران خان بائیو میڑک کروانے کے لیے آئے تھے کہ انھیں گرفتار کیا گیا۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کیسے کسی شخص کو سپریم کورٹ ہائی کورٹ یا احتساب عدالت سے گرفتار کیا جا سکتا ہے جبکہ وہ خود کو سرنڈر کر چکا ہو۔
جب عدالت کو بتایا گیا کہ نوے کے قریب رینجرز کے اہلکاروں نے اس وقت بائیو میڑک کے دفتر پر دھاوا بولا جب عمران خان وہاں پر موجود تھے تو چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’اس واقعہ کے بعد کوئی شخص بھی عدالت میں خود کو محفوظ تصور نہیں کرے گا۔
انھوں نے کہا کہ ’نیب نے توہین عدالت کی ہے اور انھوں نے عدالتی تقدس کو پامال کیا ہے۔‘
غیر قانونی کام سے نظریں نہیں چرائی جا سکتیں، انصاف تک رسائی ہر شخص کا حق ہے: چیف جسٹس
عمران خان کی گرفتاری کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ ’غیر قانونی کام سے نظریں نہیں چرائی جا سکتیں اور انصاف تک رسائی ہر شخص کا حق ہے۔‘
بینچ میں موجود جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کیا کہ ’کیا عمران خان نے نیب کی طرف سے بھیجے گئے نوٹ کا جواب دیا تھا؟‘ جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ نیب کی طرف سے بھیجے گئے نوٹسز کا جواب دیا گیا ہے کہ ریکارڈ کے مطابق عمران خان نے نیب کی طرف سے مارچ کے مہینے میں بھجوائے گئے نوٹسز کا جواب نہیں دیا۔ ’
جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ ’جس شخص کو نوٹس جاری کیا جاتا ہے وہ ملزم ہی تصور ہوتا ہے۔‘ اس پر عمران خان کے وکلا کا کہنا تھا کہ نیب کی طرف سے جاری وارنٹ غیر قانونی ہیں جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ’معاملہ غیر قانونی وارنٹ گرفتاری کا نہیں بلکہ اس پر عمل درآمد کا ہے۔ نیب لوگوں کو قانون کے مطابق چلنے کا کہتا ہے اور خود اس ادارے کے اہلکار قانون پر عمل درآمد نہیں کرتے۔‘
عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’ان کے موکل کو سکیورٹی خدشات تھے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی سیکیورٹی بھی حکومت نے واپس لے لی تھی۔‘
املاک کو نقصان پہنچانا قابل مذمت ہے، جبر اور گرفتاریوں کی بجائے سیاسی حل تلاش کیا جائے: صدر عارف علوی
پاکستان کے صدر عارف علوی نے عمران خان کی گرفتاری کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ املاک کو نقصان پہنچانا قابل مذمت ہے اور جبر اور گرفتاریوں کی بجائے سیاسی حل تلاش کیا جانا چاہیے۔
پاکستان کے صدر عارف علوی نے ملکی صورتحال پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری اور ان کے ساتھ دست درازی کے بعد پیدا ہونے والی ملک کی موجودہ صورتحال پر پریشان، حیران اور شدید صدمے میں ہوں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اس کے نتیجے میں انسانی جانوں کا ضیاع انتہائی دل سوز ، افسوسناک اور انتہائی قابل مذمت ہے۔ احتجاج پاکستان کے ہر شہری کا آئینی حق ہے لیکن اسے ہمیشہ قانون کے دائرے میں رہنا چاہیے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’چند شرپسندوں نے جس طرح سرکاری املاک بالخصوص سرکاری اور فوجی عمارتوں کو نقصان پہنچایا ہے وہ قابل مذمت ہے۔ ہمیں جبر اور گرفتاریوں کے بجائے دوبارہ سوچنا چاہیے اور سیاسی حل تلاش کرنا چاہیے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں نے سیاسی اور عسکری قیادت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے اور امید کرتا ہوں کہ حالات بہتر ہوں گے۔ میں ملک کے تمام شہریوں سے پرامن رہنے کی پرزور اپیل کرتا ہوں۔‘


