خانہ جنگی کے نتائج

جنگ عظیم دوئم کے بعد اکثر اوقات بڑی طاقتوں کے مابین برائے راست تو کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا مگر ان کی پشت پناہی کئی علاقائی اداکاروں اور ہرکاروں کو دامے درمے اور سخنے حاصل ہوتی ہے جس کی بناء اکثر ترقی پذیر ممالک میں باہمی سر پھٹول خانہ جنگی کا باعث بن جاتی ہے۔ قدرتی وسائل سے مالامال اقوام اکثر ان مصائب سے گزرتی ہیں۔ جینوا اکیڈمی کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق خانہ جنگی کا شکار خطہ جو ہے وہ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور افریقہ کے مختلف علاقوں میں خانہ جنگی جاری ہیں اور ان کی مدت بھی آج کل بڑھتی جا رہی ہے۔
مثلاً 1980 کی دہائی میں اس کا دورانیہ اگر 13 سال تک تھا تو اب 2021 کے اعداد و شمار کے مطابق بڑھ کر 20 سال تک جا پہنچا ہے۔ سوڈان میں حالیہ کشیدگی اس کا مظہر ہے۔ دراصل قدرتی وسائل سے مالا مال خطوں اور ممالک میں ان کی ملکیت کا سارا جھگڑا ہوتا ہے۔ جب ملکی قوانین اور ادارے حکومتی عملداری قائم کرنے اور اسے برقرار رکھنے میں ناکام ہوں تو پھر علاقائی قبائلی اور ملی قائدین امن وامان اپنے ہاتھوں سے ہی تاراج کرتے ہیں۔ ان کے درمیان صلح و صفائی کی ہر کوشش بوجوہ ناکام ہوجاتی ہے۔ اس کا بڑا دائرہ وسیع تر ہوتا جاتا ہے اور یوں وہ عناصر بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا اپنا فریضۂ اولین سمجھ کر اس میں کود پڑتے ہیں اور یوں غیر قانونی کاروبار اور غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔
خانہ جنگی دراصل وہ جنگی کیفیت ہوتی ہے جب اکثر ہم وطن ہی ایک دوسرے سے اپنے ممالک کی حدود میں ہی برسرپیکار ہو جاتے ہیں۔ ویسے ایسی جنگ کی بہت سی جہتیں اور اشکال بھی ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایک ملک میں بیک وقت کئی طرح کی باہمی سر پھٹول جاری ہو جائے تو پھر یہ ایک طول العمر عمل ہوتا ہے۔ انہیں بڑی طاقتوں کی جانب سے ہلہ شیری حاصل ہوتی ہے اور بدنصیب خطہ کے عوام بری طرح باہمی نفرتوں کا شکار بن جاتے جو بدامنی کے باعث اپنی متاع عزیز، عزت و آبرو اور امن کھو بیٹھتے ہیں اور اکثر قرب و جوار میں پناہ گزین بننا پڑتا ہے۔ ایسی صورتحال چونکہ زیادہ تر نظریاتی طور پر لڑی جاتی ہیں تو اس کی مدت اور دورانیہ بھی طویل ہوجاتا ہے۔ انائیں اکثر امن و شانتی کے راہ میں آڑے آجاتی ہیں۔ عالمی اور غیر ملکی ہمسایوں کے مفادات بھی اس کی طوالت کا باعث بنتے ہیں۔
اس کا ایک مزید تاریک پہلو تب ہوتا ہے جب جنگی کیفیت میں مذہبی رنگ بھی شامل ہو جائے تو پھر ہمارے سامنے امثال افغانستان، شام، عراق اور افریقی ساحل کا ماحول ہے۔ وہاں امن کی کوششوں کو مزید مشکل بنا دیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ نے کئی جگہ بڑا مثبت کا منکیا اور ان خطوں اور علاقوں میں جنگ بندی اور امن وامان کی بحالی کے لیے قابل فخر کام کیا ہے۔ یہ تب ہی ہو پاتا ہے جب سیکورٹی کونسل میں متفقہ فیصلہ کیا جائے تو پھر ہی اقوام متحدہ اس میں عملی جامہ پہنا سکتی ہے۔
لبنان، میانمار اور ایتھوپیا وغیرہ میں بھی طویل خانہ جنگی جاری ہے جسے کئی وجوہات کی بناء اب تک کا حل نہیں کروایا جا سکا ہے۔ اب سوڈان کے بھی حالات و واقعات یکسر مختلف نہیں ہیں۔
اس کا واحد قابل عمل حل تو باہمی مذاکرات ہی ہیں جس سے امن کی کوئی سبیل نکالی جا سکتی ہے۔

