کسانوں کی آزمائش


معمول کے روز و شب سے ہٹ کر گندم کی فصل کی برداشت کے سلسلے میں چند روز کے لئے لاہور سے گاؤں رخ کیا ہے لیکن گاؤں پہنچتے ہی ان تکلیف دہ مناظر نے طبیعت مکدر کر دی کیونکہ ایک روز پہلے کی بارش اور ژالہ باری نے میرے کسان بھائیوں کی سال بھر کی محنت کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔ وادی سون میں گندم کی فصل جو کہ چند روز پہلے تک اپنے جوبن پر تھی اور کسان ہر روز اپنے لہلاتے کھیتوں کو دیکھ کر خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے کہ اس بار گندم کی فصل ان کے گزشتہ فصلوں کے خسارے کو پورا کر دے گی لیکن خدا کی ذات کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ بارانی علاقوں کے کسان جن کے لئے بارش زندگی ہے اور اسی رحمت خداوندی کے طفیل ان کے کھیت سیراب ہوتے ہیں اور ان کی فصلیں پھلتی پھولتی ہیں۔ بارانی زمینوں میں بیج ڈال کر کسان رحمت خداوندی کے منتظر رہتے ہیں کیونکہ بارش کا پانی ہی ان کی فصلوں کی زندگی کی نوید بن کر آسمان سے برستا ہے اور یہ اللہ پر توکل کرنے والے اپنی فصل کی نشو نما کے لئے جھولیاں پھیلا دیتے ہیں۔ آپ نے اگر کسی انسان کے چہرے پر حقیقی خوشی دیکھنی ہو تو وہ آسمان سے برستی رحمت کے وقت کسی بارانی علاقے کے کسانوں کے چہروں میں نظر آتی ہے۔

لیکن گندم کی برداشت کے وقت ایک ضرب المثل بہت مشہور ہے کہ گندم کی فصل جب تیار ہو جاتی ہے تو کسان یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ انہیں اس وقت تو ”سونے کی کنی بھی قبول نہیں ہے“ یعنی کہ کسان کی چھ ماہ سے زیادہ کی محنت کے بعد جب گندم کی فصل کٹائی کے لئے تیار ہو جاتی ہے تو اس وقت کھیتوں کو دیکھیں تو یوں نظر آتا ہے کہ کچھ وقت پہلے تک کے سر سبز کھیت سونے کی ماند سنہری ہو چکے ہوتے ہیں اور گندم کی فصل کے ساتھ ٹکراتی ہوا سے پیدا ہونے والی سرسراہٹ کانوں کو نہایت سریلی محسوس ہوتی ہے۔

لیکن اگر اس دوران بارش ہو جائے تو ان غریب کسانوں کی سال بھر کی محنت برباد اور مٹی میں مل جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ غریب کسان اپنی فصل کی محبت میں سونے کی بارش کو بھی ٹھکرانے کو تیار دکھائی دیتے ہیں ایک اور ضرب المثل بھی بہت مشہور ہے کہ ”جنہاں دے گھر دانے انہاں دے کملے وی سیانے“ یعنی جس گھر میں سال بھر کھانے کے لئے گندم موجود ہو ان کے گھر میں اگر کوئی کم عقل بھی موجود ہے تو گندم میں خود کفیل ہونے کی وجہ سے اس کو بھی آپ عقل مند ہی سمجھیں۔ پنجابی کے ہر محاورے کے پیچھے ایک پوری تاریخ ہوتی ہے اور محض لفظی ترجمہ ممکن نہیں ہو پاتا کیونکہ اس کے پس منظر میں بہت سارے ثقافتی عوامل، تصورات اور روایات کار فرما ہوتی ہیں۔

بہر حال لاہور کی بے مقصد مصروف زندگی سے جان چھڑا کراس مرتبہ گاؤں پہنچ کر بھی وہ خوشی نصیب میں نہ تھی جس کے لئے کئی سو کلو میٹر کا سفر طے کیا تھا۔ کسان بھائیوں کے اداس چہرے یہ بتا رہے تھے کہ ان کی سال بھر کی محنت ژالہ باری کی وجہ سے برباد ہو گئی ہے اور گندم کے خوشوں میں جو کچھ بچ گیا ہے وہ اب ان کی سال بھر کی خوراک کی ضرورت بھی پوری نہیں کر سکتا کجا کہ ان کو فصل کی فروخت سے مالی فائدہ بھی ہو جاتا۔ قدرتی آفات انسانی زندگی کا لازم و ملزوم حصہ ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو ایسی ہی آزمائشوں سے گزار کر اپنے وجود کا احساس دلاتا ہے کہ کوئی ایسی ان دیکھی ذات بھی موجود ہے جو جب چاہے کچھ بھی کر سکتی ہے اور شاید ہمارے اعمال ہی ایسی آزمائشوں کا باعث بنتے ہیں۔ ہم مسلمانوں میں توکل بالکل ختم ہو چکا ہے اور ہم اس ان دیکھی ذات پاک کی رحمت سے زیادہ شاید اپنے زمینی خداؤں اور اپنے زور بازو پر زیادہ بھروسا کرنے لگے ہیں یہی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ نفسا نفسی کے اس دور میں ہم نے اپنے سے کم وسیلہ لوگوں کی خبر گیری میں کوتاہی برتنا شروع کر دی ہے اور ہم اب صرف اپنے پیٹ کوہی دیکھ رہے ہیں اور گرد و پیش کی کوئی خبر نہیں رکھتے کہ ہمارا ہمسایہ یا کوئی عزیز رشتہ دار کس حال میں

زندگی گزار رہا ہے اور اسے ہماری مدد کی کس قدر ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے نصیب میں جو رزق لکھ دیتے ہیں اس میں ان لوگوں کا بھی ایک حصہ مقرر ہے جو کم وسیلہ ہیں اور ہمارے ساتھ ہی جیسے تیسے جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ صاحب استطاعت اپنے رزق میں سے اگر کسی کی مدد کرتے ہیں تو وہ صرف اپنا فرض انجام دیتے ہیں کیونکہ ان کے رزق کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کسی اور کا رزق بھی وابستہ کر دیا ہوتا ہے اور ان لوگوں کا کام صرف اپنے رزق میں سے ان کم وسیلہ افراد کو ان کا حصہ پہچانا ہوتا ہے لیکن وہ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ اپنے رزق میں سے ان کو کچھ حصہ پہنچا رہے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو صرف وسیلہ بنایا ہوتا ہے۔

گاؤں میں کاشتکار بھائیوں سے فصل کے خراب ہونے کا افسوس کیا تو جواب میں کہنے لگے کہ اللہ کو یہی منظور تھا لیکن وہ پر عزم تھے کہ جس ذات پاک نے ان کو اس آزمائش میں ڈالا ہے وہی مسبب الاسباب ہے اور وہ اگلی فصل کی کاشت کے لئے کمر باندھ چکے ہیں۔ میں اکثر لکھتا ہوں کہ اگر توکل کی انتہاء دیکھنی ہو توان کسانوں کو دیکھیں جو اپنی تمام جمع پونجی فصل کی کاشت کے لئے زمین کی تیاری سے لے کر بیج، کھاد اور آب پاشی کے لئے مٹی میں ملا دیتے ہیں اور پھر فصل کی دیکھ بھال میں مصروف ہو کر رحمت خداوندی کے منتظر رہتے ہیں کیونکہ وہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ انسان کو رزق کی فراہمی کا وعدہ اللہ تعالیٰ کا ہے اور وہی ان کی محنت کا اجر دے گا۔ ہم شہروں میں رہنے والے کیا جانیں کہ ہمارے کسان بھائی ہمارے پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے کتنی محنت کرتے ہیں شہروں میں ہمیں اجناس کی گرانی کا گلہ رہتا ہے لیکن ہم نہیں جانتے کہ ان اجناس کی تیاری کے لئے کس قدر محنت ہوتی ہے اور ان اجناس سے حاصل شدہ آمدن سے سال بھر کے بعد کسی بیٹی کے بیاہ کے لئے جہیز تیار ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS