ہم خستہ تنوں سے محتسبو کیا مال منال کا پوچھتے ہو
19 اپریل کو اکاؤنٹس میں تنخواہیں آ گئیں، 2 دن بعد عید تھی، معصوم عوام نے بنک کی لائنوں میں لگ لگ کے نئے نئے نوٹ نکلوا لیے۔ بچوں کے شوق پورے کیے، بھلے سے عید منائی،
راقم نے جب بنکوں اور اے ٹی ایم کے باہر ہجوم دیکھے تو بڑا جی چاہا کہ ان کو سمجھاؤں کہ یہ بونس نہیں ایڈوانس ہے، یہ عیدی نہیں تمہارا محنتانہ ہے۔ لیکن کوئی کمبخت کیسے ان کی خوشی خراب کرتا جو قطاروں میں لگے خواب بن رہے تھے کہ اس دفعہ ایسے عمدہ جوتے لینے ہیں جو اگلی عید پر بھی نئے لگیں۔ اور اب یہ حالت ہے کہ ابھی صرف 12 مئی ہے اور عمر کی نقدی ختم ہوئی
اب ہم کو ادھار کی حاجت ہے۔ ویسے سچ پوچھو تو اس ماہ تنخواہیں 2 مئی تک ہی ختم ہو گئی تھیں۔
حکومت وقت کی بڑی غریب پروری کہ عوام کو وقت سے پہلے نہال کیا اور وقت کی ستم ظریفی کہ پورا مہینہ ابھی رہتا ہے، ابھی بل بھرنے ہیں، بچوں کی سکول کی فیس ادا کرنی ہے، دودھ والے کے پیسے دینے ہیں، مکان کے کرائے کی ادائیگی سر پر ہے۔ عید تھی، کتنا کوئی ہاتھ روک لیتا، گھریلو بجٹ کا یہ خسارہ اب کیوں کر پورا ہو؟ ملکی معیشت کو چلانے والو بھلا نا ہی دیتے ایڈوانس تنخواہیں۔
ارباب اختیار سے گزارش ہے کہ اس دفعہ عید بونس عید کے بعد دے کر حیران کر دیں، تا کے رمضان کے روزے رکھنے والوں کے بچوں کو شوال میں روزے نہ رکھنے پڑ جائیں۔ مہنگائی پر بہت لکھا جا رہا ہے راقم کوئی ماہر اقتصادیات تو نہیں لیکن یہ تجویز تو دے ہی سکتا ہے کہ آبادی کم کرنے کے اور بھی بڑے طریقے ہیں، عوام کو بھوکا مار کر پاپولیشن کنٹرول نا کریں

