پیسے کی گردش کا تصور اور شاہ ولی اللہ کا اقتصادی فلسفہ


انٹرنیٹ پر ایک قصہ مشہور ہے۔ ایک قصبے کے ہوٹل میں ایک سیاح داخل ہوا اور مالک سے اس کے ہوٹل کا بہترین کمرہ دکھانے کو کہا۔ مالک نے اسے بہترین کمرے کی چابی دی اور کمرہ دیکھنے کی اجازت دے دی۔ سیاح نے کاؤنٹر پر ایک سو ڈالر کا نوٹ بطور ایڈوانس رکھا اور کمرہ دیکھنے چلا گیا۔ اس وقت قصبے کا قصاب ہوٹل کے مالک سے گوشت کی رقم لینے آ گیا۔ ہوٹل مالک نے وہی سو ڈالر اٹھا کر قصاب کو دے دیے کیونکہ اسے امید تھی کہ سیاح کو کمرہ ضرور پسند آ جائے گا۔

قصائی نے سو ڈالر لے کر فوراً یہ رقم اپنے جانور سپلائی کرنے والے کو دے دی۔ جانور سپلائی والا ایک ڈاکٹر کا مقروض تھا جس سے وہ علاج کروا رہا تھا تو اس نے وہ سو ڈالر ڈاکٹر کو دے دیے۔ وہ ڈاکٹر کافی دنوں سے اسی ہوٹل کے ایک کمرے میں مقیم تھا اس لیے اس نے یہی نوٹ ہوٹل کے مالک کو ادا کر دیا۔ وہ سو ڈالر کا نوٹ کاؤنٹر پر ہی پڑا تھا کہ کمرہ پسند کرنے کے لئے سیڑھیاں چڑھ کر گیا ہوا متوقع گاہک واپس آ گیا اور ہوٹل کے مالک کو بتاتا ہے کہ مجھے کمرہ پسند نہیں آیا۔

یہ کہہ کر اس نے اپنا سو ڈالر کا نوٹ اٹھایا اور چلا گیا!

اکنامکس کی اس کہانی میں نہ کسی نے کچھ کمایا اور نہ ہی کسی نے کچھ خرچ کیا لیکن جس قصبے میں سیاح یہ نوٹ لے کر آیا تھا، اس قصبے کے کتنے ہی لوگ قرضے سے فارغ ہو گئے۔ اس تمثیل کا حاصل مطالعہ یہ ہے کہ پیسے کو گھماؤ نہ کہ اس پر سانپ بن کر بیٹھ جاؤ کہ اسی میں عوام الناس کی فلاح ہے۔ خصوصاً ماہ رمضان کے حوالے سے فطرانہ و زکوٰۃ اور صدقات و خیرات کا اہتمام ضرور کیا جانا چاہیے۔

اسلام بھی پیسے کی گردش پر ہی زور دیتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ”اے نبی ﷺ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں تو کہہ دیجئے جو ضرورت سے زائد بچ رہے“ ضرورت سے زائد بچ جانے والے مال کے لئے ”العفو“ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اب ایک طرف ہم کہتے ہیں کہ قرآنی احکامات انسانی نفسیات کے عین مطابق ہیں لیکن دوسری طرف ضرورت سے زائد مال دوسروں کو دینا انسانی فطرت کے خلاف ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہم ایک ہزار روپیہ روزانہ کماتے ہیں اور ہماری ضرورت پانچ سو روپے ہے تو ہم باقی کا پانچ سو سوائے کسی جزوی حصے کے کسی کو خیرات میں دینا پسند نہیں کرتے، لیکن پورا پانچ سو ہم کسی دوسرے کی ضروریات پر خرچ نہیں کریں گے۔

تو لفظ ”العفو“ سے مراد در اصل سرمایہ کاری ہے۔ کہ جو مال ضرورت سے زائد بچ رہے اس میں سے کچھ صدقہ، زکوٰۃ اور خیرات کر دیں اور اگر پھر بھی مال بچ رہے تو اسے سرمایہ کاری کے ذریعے گردش میں لائیں۔ اس پیسے سے کاروبار کریں یا منافع بخش سکیموں میں لگائیں تاکہ کاروبار کو فروغ ملے اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ اس سلسلے میں استحصالی بنیادوں پر قائم موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کے بر عکس اسلام مزدور کے استحصال کی ممانعت کرتا ہے اور اس کی محنت و مشقت کے بدلے میں اس کو مناسب معاوضہ دینے کی تلقین کرتا ہے تاکہ وہ بھی اپنی بنیادی ضروریات کو احسن طریقے سے پورا کر سکے۔

اسلامی معیشت میں اجرت کا کم از کم تصور ایک تولہ سونے کے مساوی رقم ہے جبکہ سرمایہ دارانہ نظام میں سرمایہ دار زیادہ سے زیادہ منافع اپنے لیے سمیٹنا چاہتا ہے جس سے دولت چند ہاتھوں میں سکڑ جاتی ہے۔ اسی لیے اسلام میں زکوٰۃ، صدقات اور عطیات پر زور دیا گیا ہے تاکہ دولت چند ہاتھوں میں سکڑنے اور ان کی آسائش کا سامان بننے کی بجائے زیادہ سے زیادہ ہاتھوں میں گردش کرے۔ پاکستان، سری لنکا اور دیگر لڑکھڑاتی معیشتوں کی موجودہ اقتصادی صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام نے اب اپنے ہی انڈوں سے نکلنے والے بچوں کو کھانا شروع کر دیا ہے۔

شاہ ولی اللہ نے اقتصادیات کے چار بنیادی اصولوں پر بحث کی ہے : ( 1 ) دولت کی پیداوار ( 2 ) دولت کے مصارف ( 3 ) دولت کی تقسیم ( 4 ) دولت کا تبادلہ۔ چونکہ پوری قوم دولت کی پیداوار کے عمل میں شریک ہوتی ہے اس لیے پوری قوم میں ہی یہ تقسیم بھی ہونی چاہیے۔

مندرجہ بالا چار اصولوں کی پیروی کرنے سے یہ اقتصادی نظام کامیاب ہو سکتا ہے۔ پہلے اصول کے مطابق اس خاص علاقے کے لوگ پیداوار کے عمل میں زیادہ حصے کا حق محفوظ رکھتے ہیں جہاں پر کوئی پیداوار ہو رہی ہے جیسے معدنیات، زراعت یا پانی وغیرہ۔ کوئی ایک گروہ اس پیداوار پر غاصبانہ قبضے کا مجاز نہیں ہو سکتا۔ وہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ کا قول نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اقتصادی معاملات میں کسی ایک گروہ کو نوازنے سے مساوات کے اصولوں کو قائم رکھنا زیادہ قرین انصاف ہے۔

دوسرے اصول کے مطابق وہ لوگوں کو محدود پراپرٹی رکھنے کا حق بھی تفویض کرتے ہیں کیونکہ ہر انسان قابلیت کے اعتبار سے دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ تمام آبادی کو یکساں ضروریات زندگی مہیا ہوں۔ اصولاً جو زیادہ محنت کرتا ہے وہ زیادہ کا حق دار ہے۔ تیسرے اصول کے مطابق دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں بالکل نہیں ہونا چاہیے اور اس صورت میں ریاست کو اس کا تدارک کرنا چاہیے۔ چوتھے اصول کے مطابق معاشرے میں ایسا توازن ہونا چاہیے کہ معاشرہ مجموعی طور پر ترقی کرے نہ کہ ترقی کا عمل انفرادی نوعیت کا ہو۔

شاہ ولی اللہ کے اقتصادی نظریات کے تفصیلی جائزے میں میں پاکستان کے حالیہ مالی بحران اور دیوالیہ ہونے کے قریب کی وجوہات سمجھی جا سکتی ہیں کیونکہ سودی نظام پر قائم آج کی جدید معیشت سرمایہ دارانہ نظام کو تحفظ دینے کے لئے استحصالی ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے۔ اس طرح کے بحران کا شکار کوئی بھی ملک ہو سکتا ہے جس کے تدارک کے لئے دولت کی گردش کے لئے مساوات پر مبنی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ آج کچھ لبرل حضرت مجدد الف ثانی، شاہ ولی اللہ، علامہ اقبال، سید احمد بریلوی، مفتی محمد عبدہ اور قائد اعظم جیسی ہستیوں کو ان کی مسلمانوں کی خدمات کے پس منظر میں متنازع بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں جو ایک منفی روش ہے۔

ان اسلامی اکابرین نے اپنی سمجھ بوجھ اور اپنے وقت کے مروجہ حالات کے مطابق مسلمانوں کی رہنمائی کرنے کی کاوشیں کیں چنانچہ ان کی کاوشوں پر تنقیدی بحث سے پہلے اس وقت کے حالات اور واقعات کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔ ان اکابرین نے اپنی سمجھ اور اس وقت کے حالات کے مطابق مسلمانوں کی راہنمائی کے لئے مخلصانہ کاوشیں کیں جس میں یقیناً ان کی کوئی بد نیتی شامل نہیں تھی لیکن بہت سے لبرل ان کرداروں کو اپنی تحریروں سے متنازعہ بنا رہے ہیں اور عام مسلمانوں کو ان حضرات سے برگشتہ کرنے کی عمدا یا سہوا کوشش کر رہے ہیں جو انتہائی افسوسناک ہے۔

تقلید برائے تقلید اور تنقید برائے تنقید دونوں خطرناک ہیں۔ تاریخ کا تنقیدی، علمی اور تحقیقی جائزہ بجا لیکن ان مشاہیر کا قد چھوٹا کر کے آپ اپنا قد اونچا نہیں کر سکتے۔ ہمیں نان ایشوز میں الجھنے کی بجائے ایشوز کو حل کرنے کے لئے اپنی مخلصانہ کوششیں کرنی چاہئیں، اسی طرح ہم قوم کی خدمت کر سکتے ہیں نہ کہ قوم کو کنفیوز کر کے ان کی خدمت کی جا سکتی ہے۔ ہمیں حقیقی ایشوز جیسا کہ پاکستان میں گڈ گورننس اور کفایت شعاری کو فروغ دینا ہو گا، معاشی استحصال کا خاتمہ کرتے ہوئے زکوٰۃ کا ایسا نظام لانا ہو گا جس پر عوام کو اعتماد ہو، معیشت کی بحالی کے لئے ہمیں بیرونی قرضوں پر انحصار کی پالیسی کو ختم کرنا ہو گا اور آئی ایم ایف کے چنگل سے نجات حاصل کرنا ہو گی، اخراجات اور آمدنی میں توازن پیدا کرنے کے ساتھ اندرونی سرمائے کو تحفظ دینا ہو گا، اس کے ساتھ ساتھ اندرونی وسائل اور ٹیکس کلیکشن کو بڑھانا ہو گا اور ووکیشنل تعلیم کو فروغ دینا ہو گا۔ علاوہ ازیں بیرون ملک ملکی دولت کی ناجائز ترسیل اور شاہانہ طرز حکومت کے ساتھ ساتھ بیڈ گورننس کو ختم کرنا ہو گا


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments