سیاسی کارکنوں کا احتجاج نہیں بلکہ دہشت گردی ہے


دنیا بھر کے سیاسی لیڈران گرفتار ہوتے ہیں، عدالت میں پیش ہوتے ہیں، پیشیاں بھگتتے ہیں، جیل جاتے ہیں، ضمانت ہوتی ہے، رہائی پاتے ہیں، پھر سیاست کرتے ہیں، بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہو جاتے ہیں اور یہ سلسلے اسی طرح جاری رہتا ہے۔ کوئی لیڈر یا سیاسی رہنما گرفتار ہو جائے تو اس کے چاہنے والے احتجاج بھی کرتے ہیں، دھرنے دیتے ہیں، ریلیاں نکالتے ہیں اور زیادہ سے روڈ بند کرنے کے لئے ٹائر جلا دیتے ہیں۔ یہ احتجاج وہ ہی لوگ کرتے ہیں جو خالص سیاسی رہنما کے زیر سایہ پروان چڑھے ہو اور ان کی کچھ سیاسی تربیت ہو۔

لیکن عمران خان کی گرفتاری پر ان کی پارٹی کے کارکنان نے جو ملک کا حال کیا وہ پوری دنیا نے دیکھا۔ یہ باقاعدہ پلاننگ تھی، یہ ہجوم نہیں تھا جو خود باخود اپنی مرضی سے چلا۔ یہ بات پہلے سے طے تھی کہ بعد از گرفتاری کیا کیا کیسے کیسے اور کیا کیا تباہ کرنا ہے۔ ایک گرفتاری پر ملک کا اتنا نقصان کرنا یہ کون سی سیاست ہے؟ یہ سیاست کس نے سکھائی ان کارکنان کو ؟ اس مجمع کو کون لیڈ کر رہا تھا یہ سب کو نظر آیا، سینکڑوں ویڈیوز گردش میں ہے جو سچ بتا رہی ہیں۔

اچھا چلیں، عمران خان صاحب جس طرح پیشگی ویڈیو ہر سلسلے سے پہلے بناتے ہیں ان کو چاہیے تھا کہ ایک ویڈیو اور بنا لیتے کہ میری گرفتاری کی صورت میں اگر ایک پتا بھی ٹوٹا تو اس کارکن کا پارٹی سے نام کٹ جائے گا۔ اس ویڈیو سے فائدہ یہ پہنچتا کہ اگر کوئی جلاؤ گھیراؤ کرتا تو وہ پارٹی کارکن نہیں کہلاتا۔ خیر سب نے دیکھا ہے کہ احتجاج کو کون لیڈ کر رہا تھا۔ چلے جب آپ کو سپریم کورٹ کے ججز کہہ رہے تھے کہ آپ مذمت کریں احتجاج کی تو جھوٹے منہ مذمت کرلیتے اور کارکنان کو تنبیہ کر دیتے کہ اب کوئی پتھر نہیں چلنے چاہیے، اب کوئی آگ بھڑکنی نہیں چاہیے لیکن نہیں اس بار بھی ملک کی سلامتی کی آڑ میں آپ کی انا آ گئی۔

کیوں خان صاحب، آخر ملک نے آپ کا کیا بگاڑا ہے؟ پی ٹی آئی کارکنان سے سوال ہے کہ ایدھی کی ایمبولینس کا کیا قصور تھا؟ پیپلز بس کا کیا قصور تھا؟ ریڈیو پاکستان کا کیا قصور تھا؟ درختوں کا کیا قصور تھا؟ عام آدمی کی موٹر سائیکل کا کیا قصور تھا؟ پرائیویٹ کار کا کیا قصور تھا؟ یہ کون سا طریقہ ہے احتجاج کا ۔ جہاں تک ہمیں علم ہے سیاسی کارکنان احتجاج ضرور کرتے ہیں مگر پرتشدد نہیں ہوتے، وہ خود ڈنڈے کھاتے ہیں مگر عام آدمی کی املاک کو ڈنڈے نہیں مارتے، وہ خود اپنے آپ کو آگ لگا لیتے ہیں مگر کسی کی گاڑی نہیں جلاتے۔

خان صاحب، کوئی شک نہیں کہ آپ کو لاکھوں لوگ پسند کرتے ہیں، لیکن ان کو یہ حق تو نہیں کہ وہ اپنی پسند نہ پسند کی چکر میں پاکستان کو نقصان پہنچائے۔ ماضی میں پاکستان کے مشہور حکمران گرفتار ہوئے اور کیس کی بنیاد آپ کو بھی معلوم ہے بلکہ آپ کی اجازت کے ساتھ گرفتار ہوئے۔ ان کو بھی لاکھوں لوگ پسند کرتے تھے لیکن انھوں نے تو اس طرح کی جہالت نہیں دکھائی بلکہ ہنستے ہنستے پیش ہوتے رہیں اور ابھی بھی سیاست میں شریک ہے۔ وہ چاہتے تو اس وقت غنڈہ گردی کرتے اور اپنی سیاست کو داغدار کرلیتے۔ لیکن انھوں نے اپنی سیاست بچائی اور اپنے آپ کو عدالت کے سامنے سرنڈر کیا۔

عمران خان صاحب شاید وقتی طور پر آپ اس طاقت کے استعمال سے ریلیف حاصل کر لیں لیکن آہستہ آہستہ یہ رویہ ناقابل قبول ہو جائے گا۔ اگر کھیلوں گا تو میں کھیلوں گا ورنہ کسی کو نہیں کھیلنے دوں گا والا رویہ سیاست دانوں کا نہیں ہوتا۔ عمران خان صاحب آپ مشہور بہت ہیں لیکن اس کو برقرار رکھنا آسان نہیں ہوتا۔ آپ سیاست ضرور کریں مگر سیاست میں اگر انتہا پسندی شامل ہو گئی تو سیاست کی عمر گھٹ جاتی ہے۔ امید ہے یہ بات آپ کو سمجھ آ جانی چاہیے اور اگر ابھی تک نہیں آئی تو میرا خیال سے اب دیر ہو گئی ہے۔

 

Facebook Comments HS