بیٹیاں اور ہماری دعائیں
ہمارے معاشرے میں بیٹیوں کو دعا دی جاتی ہے تو ”نصیب اچھے ہونے“ کے کلمات سننے میں آتے ہیں ۔ اس میں کوئی قباحت نہیں لیکن اس سے منسوب جو سوچ ہے مجھے اس پر بحر حال ایک حد تک اعتراض ہے۔ اس دعا کے پس منظر میں بیٹی کا گھر بسنے کا تصور کا ر فرما ہوتا ہے جو کہ ٹھیک بات ہے لیکن یہ دعا بیٹوں کے لئے کیوں نہیں؟ صرف بیٹیوں کے لئے ہی مخصوص کی گئی ہے؟ کیا بیٹیاں صرف گھر بسانے کے لئے ہی ہوتی ہیں؟ کیا بیٹیوں کو اس کے علاوہ کوئی خواب نہیں بننا چاہیے۔ خواب، اس معاشرے کے کار آمد فرد ہونے کا، اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ملک و قوم کی ترقی میں حصہ لینے کا! میری نظر میں ہماری یہ دعا بیٹیوں کو ایک خاص قالب میں ڈھلنے کی طرف راغب کرتی ہیں جس کے تحت ان کا ذہن وسعت اختیار نہیں کرتا اور وہ اپنے آپ کو گھریلو سرگرمیوں تک محدود کر لیتی ہیں۔
پاکستان میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق میڈیکل کالجز میں بعض دفعہ زیر تعلیم طالب علموں میں اسی سے پچاسی فیصد تک طالبات ہوتی ہیں۔ اس کے بر عکس اگر تعلیم کے بعد ہسپتالوں کو دیکھا جائے تو خواتین ڈاکٹرز کا تناسب پچاس فیصد سے بھی کم ہے۔ اکثر رشتے جوڑنے والے شادی کے لئے ڈاکٹر خواتین کو پسند کرتے ہیں اور پھر یہ شرط رکھتے ہیں کہ بیٹی شادی کے بعد پریکٹس نہیں کرے گی۔ اگر ڈاکٹر سے شادی کرنا مقصود ہے اور پریکٹس نہیں کروانی تو کیا صرف خانہ داری اور اسٹیٹس کے لئے ڈاکٹر درکار ہے؟
حد تو یہ ہوتی ہے کہ لڑکی کے والدین لڑکی سے پوچھے بغیر اچھے رشتے کی تگ و دو میں ایسی شرائط قبول بھی کر لیتے جو کہ اس بیٹی اور حصول علم کے لئے کی ہوئی کڑی محنت کے ساتھ سرا سر نا انصافی پر مبنی رویہ ہوتا ہے۔ یوں وہ بیٹیاں اپنے ٹوٹے خوابوں کی صلیب اپنے کندھوں پر لیے جینے پہ مجبور ہوتی ہیں۔ اگر ان کے مقدر کا یہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے تو والدین انہیں اعلیٰ تعلیم دیتے ہی کیوں ہیں؟
مشاہدے میں آیا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک عورت کو برابری کا حق دینے کے قائل ہوتے ہیں۔ یوں نہیں کہ وہاں مسائل نہیں۔ ان ترقی یافتہ ممالک کے اعداد و شمار بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خواتین کو مرد کے مقابلے میں کم تنخواہ ملتی ہے۔ ان ممالک میں بھی عورتوں کے ساتھ متعصب رویہ رکھا جاتا ہے لیکن حکومتی پالیسیاں قدرے بہتر ہوتی ہیں جہاں عورتوں کو معاشرے کی ترقی میں حصہ دار ٹھہرانے کے لئے ہمت افزائی کی جاتی ہے۔ دفاتر کو عورتوں کے لئے مناسب انتظام کرنے کے لئے پابند کیا جاتا ہے اور اس قانون کی پاسداری کی جاتی ہے۔ اگر خواتین کے ساتھ مسائل ہوں تو قانونی چارہ جوئی و باز پرس بھی ہوتی ہے۔
اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو بطور والدین اپنے رویوں کو نظر ثانی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ بیٹیاں رحمت ہوتی ہیں تو انہیں رحمت تصور کرتے ہوئے بیٹوں کے مساوی حقوق کی بات بھی کرنی چاہیے۔ انہیں بھی اس معاشرے میں کردار ادا کرنے کے لئے تیار کرنا چاہیے تا کہ وہ بھی ملک و قوم کی ترقی میں سانجھے دار ہو سکیں۔ یوں تو ماں کے روپ میں عورت ہمیشہ سے اپنا کردار نبھاتی آئی ہے لیکن اس کردار سے آگے بڑھ کر انہیں ایسا ماحول فراہم کر نا چاہیے جس سے وہ اپنی تمام تر صلاحیتیں استعمال کر سکیں بجائے اس کے کہ صرف چولہے چوکے تک محدود رہیں۔
مرد کا کردار ہمیشہ سے کمانے والے کا گردانا جاتا ہے ؛ لیکن کیا یہ کردار خواتین خانہ کا ہاتھ بٹانے سے روکتا ہے؟ ہمیں اس پر بھی دھیان دینا چاہیے۔ اگر ہم معاشرے میں دیرپا تبدیلی چاہتے ہیں تو عورتوں کو بھی مین اسٹریم میں لا کر، ان کی تعلیم و صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے، آگے بڑھنا ہو گا۔ کوئی قباحت نہیں کہ ہم اپنی بیٹیوں کے نصیب اچھے ہونے کی دعا کرتے رہیں، لیکن اس کے پیچھے کارفرما سوچ تبدیل ہونی انتہائی ضروری امر ہے۔ صرف بیٹیاں ہی کیوں، بیٹوں کے لئے بھی نصیب اچھے ہونے کی دعا ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ، بیٹیوں کے خودمختار، تعلیم یافتہ اور فیصلہ کن ہونے کی دعا بھی کرنی چاہیے تا کہ وہ بھی معاشرے میں برابر کے حقوق رکھیں اور اس ملک و قوم کے لئے فخر کا باعث بنیں۔


